امریکہ نے اپنی غیر ملکی امداد کی پالیسی کو ازسرنو ترتیب دیا ہے

ٹرمپ

?️

امریکہ نے اپنی غیر ملکی امداد کی پالیسی کو ازسرنو ترتیب دیا ہے

امریکہ نے اپنی غیر ملکی امداد کی پالیسی کو ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ امداد صرف ان ممالک کو دی جائے گی جن کی واشنگٹن کے لیے اسٹریٹجک اہمیت ہو، خصوصاً وہ ممالک جو چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توازن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایرنا کے مطابق، امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی  کو ختم کرنے کے بعد، تمام امدادی پروگراموں کو وزارتِ خارجہ کے تحت منظم کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد غیر ملکی امداد کا نیا ڈھانچہ اب مکمل طور پر جغرافیائی و تزویراتی ترجیحات پر مبنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کے 20 جنوری 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکہ نے تمام غیر ملکی امداد کو 90 روز کے لیے معطل کر کے اس کا ازسرِنو جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد امداد کو سیاسی و اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے، خاص طور پر چین کے خلاف عالمی مقابلے کے تناظر میں۔

پہلا نمایاں اثر جنوب مشرقی ایشیا میں دیکھا گیا۔ ویتنام میں امریکہ نے ایجنٹ اورنج کی صفائی کے پروگرام کے لیے 430 ملین ڈالر کی امداد بحال کی، جسے انسانی ہمدردی کے بہانے تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک، ویتنام کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری چین کے اثر کو محدود کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

اسی طرح کمبوڈیا میں بھی 675 ہزار ڈالر کی امداد خاموشی سے جاری کی گئی تاکہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے منصوبے برقرار رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس خطے میں چین کے روایتی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔

فلپائن کو بھی امدادی پیکج ملا ہے جو ماہی گیری، قدرتی آفات سے نمٹنے اور صحت عامہ کے منصوبوں پر مرکوز ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ تعاون چین کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ اور فلپائن کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔

دوسری جانب، بحرالکاہل کے جزائر جو زیادہ تر امریکی امداد پر انحصار کرتے ہیں، امداد کے تعطل کے باعث شدید دباؤ میں تھے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے سفارتی دباؤ کے بعد امریکہ نے تقریباً ایک ارب ڈالر کی جزوی بحالی پر اتفاق کیا۔

جنوبی ایشیا میں بھی امداد اب اسٹریٹجک اہمیت کی بنیاد پر دی جا رہی ہے۔ سری لنکا کو بحری سلامتی اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے منصوبوں کے لیے استثنا دیا گیا ہے، جبکہ نپال جیسے ممالک جو امریکی مفادات کے لحاظ سے کم اہم سمجھے جاتے ہیں، تاحال امداد سے محروم ہیں۔

فارن پالیسی کے مطابق، امریکہ اب صرف ان ممالک کو مالی مدد دے گا جو اس کے عالمی مقاصد کے لیے اسٹریٹجک قدر رکھتے ہیں۔

رپورٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکی امداد اب انسانی ہمدردی کے بجائے “جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ” کے ہتھیار میں بدل چکی ہے یعنی اگر کوئی ملک چین کے مقابلے میں امریکہ کے لیے اہم ہے، تو اسے امداد ضرور ملے گی، ورنہ نہیں۔

مشہور خبریں۔

کینیڈا کی جانب سے ایک بار پھر سعودی عرب کو اسلحہ برآمد

?️ 1 اگست 2021سچ خبریں:انسانی حقوق کی تنظیموں کے وسیع پیمانے پر احتجاج کے باوجود

پاکستان ایسے میزائل تیار کررہا ہے، جو امریکی اہداف کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں، امریکا

?️ 20 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی جان

آئی ٹی انڈسٹری، انٹرنیٹ کی سست رفتاری یا بندش کے مسلسل خوف میں مبتلا

?️ 12 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) عوام خاص طور پر آئی ٹی انڈسٹری

سوڈانی فوج شہریوں کی حفاظت میں ناکام

?️ 16 جون 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ

نیب مولانا سے ڈرتی ہے

?️ 4 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات

5ہزار دن برزخ میں؛صیہونی جیلوں کی کہانی فلسطینی قیدی کی زبانی

?️ 26 جنوری 2023سچ خبریں:حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے تھے اور آخر کار

برنہم کی جیت اسٹارمر کی سیاسی زندگی کے لیے خطرہ 

?️ 19 جون 2026سچ خبریں: مینچسٹر کے میئر نے انگلینڈ کے مقامی انتخابات کو وزیراعظم

گارڈین کی رپورٹ مقبوضہ علاقوں میں ایران کے وسیع جاسوسی نیٹ ورک پر

?️ 7 جولائی 2025سچ خبریں: دی گارڈین نے اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے