امریکا کی مداخلت نے آسٹریلیا کو اینٹرنیٹ قوانین کے بارے میں جواب دینے پر مجبور کیا

آسٹریلیا

?️

امریکا کی مداخلت نے آسٹریلیا کو اینٹرنیٹ قوانین کے بارے میں جواب دینے پر مجبور کیا

امریکہ کی ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین جِم جَردن نے آسٹریلوی ادارے ای سیفٹی کی سربراہ جُولی اِنمَن گرانٹ کو امریکی حامیانِ سنسرشپ کے ساتھ تعاون کا الزام لگاتے ہوئے انہیں آسٹریلیا کے انٹرنیٹ قوانین پر وضاحت کے لیے طلب کر لیا ہے۔ یہ اقدام مبصرین کے نزدیک واشنگٹن کی طرف سے آسٹریلیا کے داخلی ضابطوں میں کھلی مداخلت اور کینبرا پر سوشل میڈیا پابندیوں کے باعث دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جَردن نے اس وقت ردعمل ظاہر کیا جب گرانٹ امریکی یونیورسٹی اسٹینفورڈ میں ایک اجلاس میں شریک ہوئیں۔ جَردن نے اس اجلاس کو امریکہ میں اظہارِ رائے کی آزادی اور آئین کے پہلے ترمیمی حق کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

جَردن کا کہنا ہے کہ گرانٹ دنیا بھر میں مواد ہٹانے کی خواہشمند ہیں اور اسی بنا پر انہیں انٹرنیٹ قوانین کے اثرات سے متعلق سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ ان کے مطابق آسٹریلیا کے نئے سوشل میڈیا قوانین، خصوصاً 16 سال سے کم عمر بچوں کی پلیٹ فارم تک رسائی پر پابندی، امریکیوں کی آزادیِ اظہار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ کئی امریکی ٹیک کمپنیاں بھی ان قوانین پر اعتراض کر چکی ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلان مسک اور سابق ٹرمپ مشیران بھی گرانٹ پر سخت تنقید کرچکے ہیں اور انہیں سنسر شپ کمشنر قرار دیتے ہوئے آسٹریلیا کے قوانین کو نگرانی کا اوزار کہا ہے۔

جَردن نے اپنی طلبی میں گزشتہ سال کے ایک قانونی مقدمے کا حوالہ بھی دیا جس میں ای سیفٹی نے ایکس سے درخواست کی تھی کہ وہ سڈنی کے ایک چرچ میں چاقو بردار حملے کی ویڈیو شیئر کرنے والی پوسٹس ہٹائے، جسے پولیس نے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا تھا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گرانٹ نے آسٹریلیا میں سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے سے متعلق پالیسی کی جانچ کے لیے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی مدد لی، جو ان کے بقول ‘‘تشویش ناک تعلقات’’ کو ظاہر کرتا ہے۔

اس معاملے پر آسٹریلوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ای سیفٹی کے ایک ترجمان کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یہ ادارہ امریکہ میں کسی بھی صارف کو امریکی کمپنیوں کی فراہم کردہ مواد تک رسائی محدود کرنے کا کوئی عمل نہیں کرتا اور گرانٹ امریکی کانگریس کی درخواست کا جائزہ لے رہی ہیں۔

مشہور خبریں۔

کیا ملک کی صورتحال بدلنے والی ہے؟زلفی بخاری کی زبانی

?️ 27 جون 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما زلفی بخاری نے

دہشت گردوں کا مستونگ میں فورسز کی گاڑی پر حملہ، میجر سمیت 3 فوجی جوان شہید

?️ 6 اگست 2025راولپنڈی (سچ خبریں) بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں نے بلوچستان کے ضلع مستونگ

خدا کی قسم یمن میں سعودیوں اور اماراتی عوام کا غرور کچل دیا گیا: سید عبدالملک الحوثی

?️ 16 جون 2022سچ خبریں:  یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی

کیا  اسرائیلی فوج حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہے؟

?️ 31 جنوری 2024سچ خبریں: Yedioth Aharonot اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا

امریکی صدر اب عراق میں فوجی طاقت کا استعمال نہیں کرپائے گا، امریکی ایوان نمائندگان نے اہم قانون پاس کردیا

?️ 18 جون 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی ایوان نمائندگان نے اہم قانون پاس کردیا ہے

صیہونی فوجی کیمپ پر فائرنگ

?️ 8 فروری 2022سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی مجاہدین نے مغربی کنارے میں صیہونیوں کے خلاف اپنی

صیہونی ریاست میں اگلی جنگ خانہ جنگی ہوگی:شاباک کے سابق رکن

?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس اور داخلی سلامتی کے ادارے کے

بھارتی اداکارہ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ

?️ 18 ستمبر 2023سچ خبریں: کولکتہ کی عدالت نے دھوکا دہی کے الزام میں بھارتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے