الرملہ جیل میں فلسطینی قیدیوں کی سنگین صورتحال؛خوراک کی کمی اور علاج میں تاخیر کا انکشاف

فلسطینی

?️

سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں کے امور کے کلب نے انکشاف کیا ہے کہ الرملہ جیل میں قیدیوں اور زخمیوں کو شدید غذائی قلت، طبی غفلت اور سخت پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ علاج کے لیے اسپتال منتقلی میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے۔

شہاب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں  کے امور کے کلب نے تاکید کی ہے کہ صہیونی رژیم کی جیل الرملہ میں موجود قیدی اور زخمی نہایت کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے علاج کے لیے انہیں اسپتال منتقل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ رہا ہونے والی فلسطینی خواتین کی زبانی

رپورٹ کے مطابق اس ادارے نے کہا کہ ان قیدیوں اور زخمیوں کی صحت کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے اور پہلے سے زیادہ خراب ہو چکی ہے، تاہم جیل انتظامیہ انہیں طبی معائنے اور علاج مکمل کرنے کے لیے غیر فوجی اسپتالوں میں منتقل کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور ضروری طبی مراحل مکمل ہونے سے پہلے ہی دوبارہ جیل واپس لے آتی ہے۔

ادارے نے یہ بھی بتایا کہ خوراک کی خراب صورتحال اور بنیادی سہولیات کی کمی نے قیدیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

صہیونی میڈیا نیٹ ورک کان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق جیل الرملہ کے قیدیوں کو کسی صورت باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، حتیٰ کہ وکیل سے ملاقات یا علاج کی ضرورت کے مواقع پر بھی نہیں۔ یہ ملاقاتیں اور طبی معائنہ جیل کے اندر ہی کیے جاتے ہیں، جس سے تنہائی اور محرومی کی کیفیت مزید شدید ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جب جیل کا اہلکار سیل میں داخل ہوتا ہے تو قیدی کو چمباتھ کر بیٹھنا، ہاتھ پیچھے باندھنا اور سر زمین کی طرف جھکائے رکھنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ دروازہ بند ہو جائے۔ قیدیوں کے درمیان کسی بھی قسم کی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی جبکہ کھانا دن میں تین مرتبہ خاموشی کے ساتھ سیل کے اندر پہنچایا جاتا ہے۔

حال ہی میں مذکورہ ادارے نے اعلان کیا تھا کہ صہیونی جیلوں میں 9300 سے زائد فلسطینی اور عرب قیدی و زیر حراست افراد رکھے گئے ہیں اور 7 اکتوبر 2023 سے جاری پالیسیوں کے تحت انہیں تشدد، بھوک اور تدریجی قتل جیسے اقدامات کا سامنا ہے۔

فلسطینی قیدیوں  کے کلب نے مزید کہا کہ ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہزاروں قیدی مسلسل بھوک مسلط کیے جانے کی پالیسی کا شکار ہیں جو تقریباً ڈھائی برس سے جاری ہے اور انہیں اکثر دنوں میں مجبوری کے تحت روزہ رکھنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اس ادارے نے وضاحت کی کہ صہیونی جیل حکام قیدیوں کو صرف اتنی مقدار میں خوراک دیتے ہیں جو انہیں بھوک سے مرنے سے بچا سکے۔

ادارے کے مطابق قیدیوں میں تقریباً 70 خواتین قیدیوں  جیل الدامون اور تفتیشی مراکز میں موجود ہیں جبکہ تقریباً 350 بچے مجدو اور عوفر جیلوں میں قید ہیں اور وہ بھی انہی پالیسیوں، بشمول تشدد اور غذائی محرومی، کا سامنا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: صیہونی جیلوں میں فلسطینی خواتین قیدیوں کی حالت زار

جیل الرملہ صہیونی حکومت کی قدیم ترین اور انتہائی سخت جیلوں میں شمار ہوتی ہے جہاں اس سے قبل بھی طبی غفلت اور تشدد کے باعث قیدیوں کی ہلاکت کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ اس میں نئے حصے کے اضافے نے وہاں قید افراد کے مستقبل کے حوالے سے مزید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

مشہور خبریں۔

وزیر خارجہ کا اوآئی سی کےسیکرٹری جنرل سے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال

?️ 21 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی

طلبہ تنظیموں کا سندھ حکومت سے طلبہ یونین پر پابندی فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ

?️ 10 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) کراچی میں طلبہ تنظیموں نے سندھ حکومت سے طلبہ

دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ دراصل ایک دھوکہ ہے

?️ 12 نومبر 2025 دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ دراصل ایک دھوکہ ہے امریکی

توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان، فواد چوہدری کو آج بھی پیش نہیں کیا گیا

?️ 30 نومبر 2023اسلام آباد:  (سچ خبریں) الیکشن کمیشن میں توہین کمیشن کیس کی سماعت

ٹرمپ کی سزا انتخاب لڑنے میں رکاوٹ نہیں

?️ 2 جون 2024سچ خبریں: گزشتہ جمعرات کو نیویارک کی عدالت نے امریکی صدارتی انتخابات کے

اعتماد ہے الیکشن کمیشن ملک میں صاف، شفاف انتخابات یقینی بنائے گا، آصف زرداری

?️ 19 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) سابق صدر اور پی پی پی  کے صدر آصف

دار الارقم اسکول پر اسرائیلی بمباری پر حماس کا شدید ردعمل

?️ 4 اپریل 2025 سچ خبریں:غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے دار الارقم اسکول

گھوٹکی ٹرین حادثہ:امداد کے لئے پاک فوج بھی میدان میں آگئی

?️ 7 جون 2021راولپنڈی(سچ خبریں) سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب پیش آنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے