اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا قتل عام کا اعتراف

نیتن یاہو

?️

اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا قتل عام کا اعتراف
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں ایک اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے کھلے عام دہشت گردی، قتل اور جارحانہ پالیسیوں کا اعتراف کیا، جب کہ بڑی تعداد میں عالمی رہنماؤں اور نمائندوں نے بطورِ احتجاج ہال چھوڑ دیا اور ان کی تقاریر کے دوران نعرے بازی بھی کی گئی۔
نیتن یاہو نے اپنی تقریر کا آغاز ایک نقشہ دکھا کر کیا اور ایران و مزاحمتی محاذ کو محورِ ترور قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام اور میزائل طاقت کے بارے میں پرانی اور بے بنیاد دعوے دہرائے اور کہا کہ اسرائیل نے گزشتہ برس ایران، شام، لبنان اور یمن میں کارروائیاں کیں، حزب اللہ کو کمزور کیا اور ایرانی کمانڈروں و سائنس دانوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے اپنی تقریر میں کھلے الفاظ میں ایران پر حملوں اور اعلیٰ کمانڈروں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی اور یہاں تک کہا کہ اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے جوہری مراکز پر بمباری کی۔ اس موقع پر انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
نیتن یاہو نے حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ اسرائیل کو یہ جنگ ہر حال میں مکمل کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی اس نے فلسطینی مزاحمت کو دنیا بھر کے عوام اور مغربی ملکوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مغربی رہنماؤں کو مخاطب کیا اور دعویٰ کیا کہ جو دشمن اسرائیل کے ہیں، وہی آپ کے بھی دشمن ہیں۔
انہوں نے فلسطین کے حق میں مغربی ممالک کے حالیہ فیصلوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فرانس، برطانیہ، اسپین، بیلجیم اور دیگر ممالک نے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرکے یہودیوں کے خلاف دہشت گردی کو انعام دیا ہے۔ ان کے بقول، یہ ایک ننگین فیصلہ ہے جو دہشت گردوں کو مزید جری بنائے گا۔
نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی پر بھی الزامات لگائے اور دعویٰ کیا کہ یہ ادارہ یہودیوں کے قاتلوں کو مالی انعام دیتا ہے اور انتخابات کرانے سے انکاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں مغربی ممالک ایک ریاست دینا چاہتے ہیں، جو کہ سراسر پاگل پن ہے۔
تقریر کے دوران انہوں نے حماس کے زیر قبضہ اسرائیلی قیدیوں کو پیغام دینے کے لیے عبری زبان میں بھی خطاب کیا اور انہیں رہائی کی شرط پر دھمکیاں دیں۔
انہوں نے اسرائیل کے غزہ میں اقدامات پر نسل کشی کے الزامات کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا اور الٹا حماس کو انسانی ڈھال بنانے کا الزام دیا۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کی اس سالانہ تقریر ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر بے مثال تنقید اور احتجاج جاری ہے۔ یورپ اور مغرب کے کئی اہم ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا ہے۔
مزید یہ کہ فرانسیسی اخبار لو فیگارو کے مطابق نیتن یاہو اپنی گرفتاری کے خدشے کے باعث نیویارک کے سفر کے لیے طویل فضائی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔
یہ تقریر جہاں اسرائیلی وزیر اعظم کے جنگی عزائم کو ظاہر کرتی ہے، وہیں دنیا کے سامنے اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ تل ابیب نے خطے میں منظم قتل و غارت گری اور دہشت گردانہ پالیسیوں کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔

مشہور خبریں۔

اردنی رکن پارلیمنٹ کا بن سلمان کے نام متنازع خط

?️ 24 دسمبر 2022سچ خبریں:اردن کی پارلیمنٹ کے ایک رکن کی جانب سے سعودی ولی

بلاول بھٹو کی عدلیہ پر کڑی تنقید

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی

جنگ بندی کے بعد بھی مسجد الاقصی کے خلاف صیہونیوں کی درندگی جاری

?️ 23 مئی 2021آج (اتوار) کو صہیونی فوج کے تعاون سے ایک بار پھر صیہونی

اسموگ کے خلاف اقدامات ناکافی، تعلیمی ادارے بند، تعمیرات کیوں بند نہیں ہو رہیں؟ لاہور ہائیکورٹ

?️ 11 نومبر 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اسموگ کے

پینٹاگون ایران کے حملے کے نقصانات کو سنسر کرنے میں مصروف: امریکی صحافی

?️ 3 مئی 2026سچ خبریں:امریکی صحافی آنا کاسپاریان کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے نجی سیٹلائٹ

تل ابیب نے خود مختار تنظیم کی سکیورٹی فورسز کو دھمکی دی

?️ 15 ستمبر 2022سچ خبریں:     اسرائیلی فوج نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس

یمن کی حیرت انگیز مزاحمت؛ امریکہ کا اربوں ڈالر کا نقصان

?️ 28 اپریل 2025سچ خبریں: سید عبدالمالک بدرالدین الحوثی، یمن کے انصاراللہ تحریک کے رہنما، نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے