اسرائیلی پارلیمنٹ میں جنگی بجٹ کی منظوری بجٹ کم بھی ہوسکتا ہے

پارلیمنٹ

?️

اسرائیلی پارلیمنٹ میں جنگی بجٹ کی منظوری بجٹ کم بھی ہوسکتا ہے
پارلمینٹ یعنی اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت جنگ کے لیے ۳۰ ارب شیکل (تقریباً ۹ ارب امریکی ڈالر) اضافی بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس رژیم کا مالی خسارہ مزید بڑھ جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق، یہ اضافی رقم بنیادی طور پر وزارت جنگ کو دی جائے گی اور بجٹ سال ۲۰۲۵ کے لیے مجموعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، خاص طور پر موجودہ فوجی کارروائیوں کے پیش نظر۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق، نئے بجٹ میں وزارت جنگ کے علاوہ دیگر سیکورٹی اخراجات، انشورنس فنڈز اور مالی سود و فیس کی ادائیگی کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد اسرائیل کا بجٹ خسارہ تقریباً ۴.۹ فیصد سے بڑھ کر ۵.۲ فیصد پیداوار ناخالص داخلی تک پہنچ جائے گا۔
اسرائیلی فوج، امریکی حمایت کے ساتھ، ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ سے نوار غزہ میں ایک مہلک جنگ چلا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی، زیادہ تر خواتین اور بچے، شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، اور علاقے میں شدید تباہی اور قحط کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔
عالمی برادری کی تنبیہات، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنگ فوری روکنے کی قرارداد، اور بین الاقوامی عدالت انصاف کی نسل کشی روکنے کی ہدایات کے باوجود، تل ابیب اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم اسرائیلی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ اس جنگ کے باوجود وہ اپنے اصل اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جن میں حماس کے قیام کو ختم کرنا اور نوار غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی واپسی شامل ہے۔
کنسٹ، یعنی اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت جنگ کے لیے ۳۰ ارب شیکل (تقریباً ۹ ارب امریکی ڈالر) اضافی بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس رژیم کا مالی خسارہ مزید بڑھ جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق، یہ اضافی رقم بنیادی طور پر وزارت جنگ کو دی جائے گی اور بجٹ سال ۲۰۲۵ کے لیے مجموعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، خاص طور پر موجودہ فوجی کارروائیوں کے پیش نظر۔
فلسطینی میڈیا  کے مطابق، نئے بجٹ میں وزارت جنگ کے علاوہ دیگر سیکورٹی اخراجات، انشورنس فنڈز اور مالی سود و فیس کی ادائیگی کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد اسرائیل کا بجٹ خسارہ تقریباً ۴.۹ فیصد سے بڑھ کر ۵.۲ فیصد پیداوار ناخالص داخلی تک پہنچ جائے گا۔
اسرائیلی فوج، امریکی حمایت کے ساتھ، ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ سے نوار غزہ میں ایک مہلک جنگ چلا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی، زیادہ تر خواتین اور بچے، شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، اور علاقے میں شدید تباہی اور قحط کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔
عالمی برادری کی تنبیہات، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنگ فوری روکنے کی قرارداد، اور بین الاقوامی عدالت انصاف کی نسل کشی روکنے کی ہدایات کے باوجود، تل ابیب اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم اسرائیلی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ اس جنگ کے باوجود وہ اپنے اصل اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جن میں حماس کے قیام کو ختم کرنا اور نوار غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی واپسی شامل ہے۔

مشہور خبریں۔

پی ٹی آئی ملازمین کے خلاف فنڈنگ کیس میں ثبوت موجود: دستاویز میں انکشاف

?️ 9 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے  ان ملازمین کی ایک دستاویزی

افغانستان جنگ کے دوران امریکہ نے خواتین فوجیوں کا کیسے استحصال کیا؟

?️ 24 مئی 2023سچ خبریں:ایک مغربی ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں افغانستان میں

ایران کے مقابلے میں ٹرمپ کی کمزوری اور امریکہ کی جنگی ناکامی؛ سی این این کا تجزیہ

?️ 28 مئی 2026سچ خبریں:سی این این نے اپنی رپورٹ میں ایران کے خلاف امریکہ

ریاض نے کئے تل ابیب کے ساتھ تعلقات مشروط

?️ 17 جون 2023سچ خبریں:واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کے ترجمان فہد ناظر کا کہنا

جھلسی ہوئی زمین کی حکمت عملی

?️ 6 ستمبر 2024سچ خبریں: غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگ تقریباً 11 ماہ

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل و قانونی ماہرین سے مشاورت کا فیصلہ

?️ 21 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے صدر

نئے برطانوی بادشاہ کا اپنے نوکروں کے ساتھ ذلت آمیز سلوک

?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں:سوشل میڈیا کے صارفین نے انگلینڈ کے بادشاہ کے پہلے ورکنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے