?️
اسرائیلی صدر کو دورہ لندن مین تنقید کا سامنا لوگوں نے گرفتاری کا مطالبہ کیا
اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ کے مجوزہ دورۂ لندن سے قبل برطانیہ میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد تنظیموں اور شخصیات نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں غزہ پر حملوں میں کردار کے الزام میں جنایات جنگی کے تحت گرفتار کیا جائے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ہرتزوگ کل (بدھ) لندن پہنچیں گے اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔ تاہم اس اعلان کے ساتھ ہی مظاہروں اور قانونی کارروائی کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔
فلسطین حامی تنظیم فرینڈز آف الاقصی (FOA) نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے ایک قانونی ٹیم کو مامور کیا ہے تاکہ ہرتزوگ کی برطانیہ آمد پر ان کی گرفتاری کی درخواست دی جا سکے۔ تنظیم کے سربراہ اسماعیل پٹیل نے کہا کوئی بھی حکومتی عہدیدار شہریوں پر حملوں کے لیے استثنیٰ کا حقدار نہیں۔ ہم اس شخص کی گرفتاری چاہتے ہیں جس نے کھلم کھلا غزہ پر حملوں کی حمایت کی ہے۔
اسی طرح، مرکز بین الاقوامی انصاف برائے فلسطینیان (ICJP) نے لندن پولیس کے جنگی جرائم یونٹ کو خط بھیجا ہے جس میں ہرتزوگ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ حتیٰ کہ سفارتی استثنیٰ کے باوجود پولیس ان سے بازپرس کر سکتی ہے۔
تنقید صرف سماجی حلقوں تک محدود نہیں رہی۔ برطانیہ کے وزیر صحت وَیس اسٹریٹنگ نے بھی کہا ہرتزوگ کو جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور نسل کشی کے الزامات کا سامنا کرنا چاہیے۔ جب غزہ میں اسرائیلی فوج کے جرائم کے بے شمار شواہد موجود ہیں تو یہ دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ یہ ایک اخلاقی فوج ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی ڈاکٹروں کی عینی شہادتیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ہفتوں تک حتیٰ کہ نوزاد بچوں کے لیے خوراک بھی غزہ میں نہیں پہنچی۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب برطانوی حکومت اب تک اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دینے سے گریزاں ہے اور صرف انہیں ناقابلِ قبول اور تباہ کن کہہ کر بیان کرتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ دورہ ان خفیہ سفروں کی کڑی ہے جو اسرائیلی عہدیداران نے حالیہ برسوں میں لندن کیے۔ گزشتہ سال اسرائیلی فوج کے سربراہ اور بعد ازاں وزیر خارجہ نے بھی برطانیہ کا پُراسرار دورہ کیا تھا۔ دونوں مواقع پر قانونی اداروں کے دباؤ کے باوجود حکومت نے خصوصی استثنیٰ دے کر گرفتاری کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
غزہ کی جنگ اب تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق آدھے ملین سے زائد افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔ ایسے حالات میں ہرتزوگ کا برطانیہ کا باضابطہ دورہ عوامی غصے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
یمنی سفارت کار نے جارح اتحاد کی اسٹریٹجک گہرائی کو نشانہ بنانے کے لیے خبردار کیا
?️ 31 مارچ 2022یمنی سفارت کار علی بن محمد الزہری نے ایک انٹرویو میں یمنی
مارچ
یمن کے سلسلہ میں سعودی عرب کی عجیب منطق
?️ 17 اگست 2023سچ خبریں: یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے نائب وزیر خارجہ نے
اگست
ملک میں سیلابی صورتِ حال، نارووال سیالکوٹ جانے والی تمام ٹرینیں بند
?️ 27 اگست 2025نارووال (سچ خبریں) ملک میں سیلابی صورتِ حال کے پیش نظر نارووال
اگست
سعودی ولی عہد کا منصور ہادی کو فوری ہٹانے کا راز
?️ 4 مئی 2022سچ خبریں:رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ایک یمنی ذریعے نے سعودی
مئی
ٹرمپ نے حکومتی شٹ ڈاؤن کو ڈیموکریٹس کی انتخابی شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا
?️ 5 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنری اور بلدیاتی انتخابات میں
نومبر
پی ٹی آئی واپس اسمبلی میں آتی ہے تو ویلکم کریں گے: احسن اقبال
?️ 25 ستمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے
ستمبر
فلسطین کے بارے میں شمالی کوریا کا موقف
?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے جرائم میں اضافے اور اس حکومت کے
نومبر
آسٹریلوی وزیر اعظم کی صیہونی حکومت پر کڑی تنقید
?️ 25 جولائی 2025سچ خبریں: آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیزی نے کہا ہے کہ ہم اسرائیل
جولائی