اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینیوں کے لرزہ خیز انکشافات

جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کے بعد، اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر ہونے والے مظالم کی ہولناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

?️

اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینیوں کے لرزہ خیز انکشافات
جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کے بعد، اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر ہونے والے مظالم کی ہولناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات نے نہ صرف انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ اسرائیلی نظامِ حراست میں ہونے والی تشدد، قتل اور انسانی اعضا کی تجارت کے سنگین الزامات کو بھی آشکار کر دیا ہے۔
یہ رپورٹ گواہیوں، طبی دستاویزات اور میدانی مشاہدات پر مبنی ہے، جو اسرائیلی جیلوں میں ہونے والے نظامی ظلم و ستم، غیرقانونی سزاؤں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بیان کرتی ہے۔
غزہ کے شہری نسیم الراضی، جو تقریباً دو سال بعد اسرائیلی قید سے رہا ہوئے، بتاتے ہیں کہ رہائی سے پہلے جیل کے محافظوں نے انہیں زمین پر گرا کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا، جسے وہ خداحافظی کا تحفہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، تشدد اسرائیلی نظامِ جیل کا معمول تھا، استثنا نہیں۔
الراضی کو نقاہت، بینائی کی کمزوری، جلدی بیماریوں اور بھوک نے تباہ کر دیا۔ وہ ۹۳ کلوگرام سے صرف ۶۰ کلو تک رہ گئے۔ آزادی کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ان کے اہلِ خانہ میں سے صرف ایک بچہ زندہ بچا ہے۔
اسی طرح محمد الاصلیہ نامی ایک فلسطینی طالب علم نے بتایا کہ قیدیوں کو ڈسکو ٹارچرکے ذریعے اذیت دی جاتی تھی، یعنی مسلسل اونچی آواز میں موسیقی چلائی جاتی، قیدیوں کو دیوار سے لٹکایا جاتا اور ان پر پانی یا مرچ پاؤڈر پھینکا جاتا۔
اکرم البسیونی کے مطابق، جیل کے محافظ زخمی قیدیوں کو مرتے دیکھ کر کہتے تھے مرنے دو”۔ تشدد میں لاٹھیوں، کتوں کے حملوں اور گرم پانی سے جلانے جیسے حربے شامل تھے۔
صحافی عماد الافرنجی نے اپنی اسارت کے حالات کو یوں بیان کیا:“میں گوآنٹانامو میں تھا۔ میں موت سے واپس آیا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کو برہنہ کر کے تفتیش کی جاتی، ہاتھوں کو پلاسٹک کی زنجیروں سے سختی سے باندھا جاتا اور کتے ان پر چھوڑے جاتے۔ بعض قیدیوں کو برقی ڈنڈوں سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعض کے جسم کے نازک حصوں سے لٹکایا گیا۔
الافرنجی کا کہنا ہے کہ وہ ۱۱۰ کلوگرام وزن کے ساتھ گرفتار ہوئے اور ۶۶ کلوگرام پر رہا ہوئے بھوک اور اذیت نے انہیں ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا۔جنگ بندی کے بعد طے پانے والے معاہدے کے تحت، اسرائیل ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے ۱۵ فلسطینی شہداء کی میتیں واپس کر رہا ہے۔ اب تک ۱۲۰ میتیں واپس کی جا چکی ہیں۔
تاہم، جب یہ لاشیں غزہ کے اسپتالوں میں پہنچیں، تو طبی ماہرین نے خوفناک مناظر دیکھے۔ڈاکٹر احمد ظاہر نے بتایا کہ کئی لاشوں کی آنکھیں نکالی گئی تھیں، گردے اور جگر غائب تھے، اور جسموں کو سرجری کے بعد کپاس سے بھرا گیا تھا۔انہوں نے کہا: یہ منظم قتل اور اعضا کی چوری کے شواہد ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا ظلم نہیں دیکھا۔
غزہ کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر منیر البرش نے تصدیق کی کہ یہ اجساد فیلڈ ایگزیکیوشنز اور وحشیانہ تشدد کا نتیجہ ہیں۔ اسرائیل نے انہیں مہینوں تک فریزر میں رکھا اور دفن نہیں کیا۔
غزہ کے تباہ شدہ اسپتالوں میں صرف چار ٹیمیں اجساد کی شناخت کی کوشش کر رہی ہیں۔ زیادہ تر میتوں پر صرف نمبر درج ہیں، نام نہیں۔اب تک ۱۲۰ میں سے صرف ۴ لاشوں کی شناخت ممکن ہوئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل لاشوں کی شناخت جان بوجھ کر چھپا رہا ہے تاکہ فلسطینی خاندانوں کا درد بڑھایا جا سکے۔
یورپ-بحرِ روم ہیومن رائٹس مانیٹر نے اسرائیلی جیلوں میں ہونے والی بربریت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ شواہد “منصوبہ بند تشدد، غیرقانونی اعدام اور انسانی اعضا کے غیرقانونی استعمال” کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کمیٹی برائے انسدادِ تشدد اسرائیل کے ڈائریکٹر تال شٹائنر کے مطابق، ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کے بعد سے اسرائیلی جیلوں میں تشدد کی شدت کئی گنا بڑھ گئی ہے، جو ایک منظم سرکاری پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ، انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) اور انسانی حقوق کونسل سے فوری، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان انسانیت سوز جرائم کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

مشہور خبریں۔

عراق کے پارلیمانی انتخابات مستقبل کی علاقائی کشیدگی میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے

?️ 12 نومبر 2025عراق کے پارلیمانی انتخابات مستقبل کی علاقائی کشیدگی میں فیصلہ کن ثابت

امریکہ میں ایران جنگ کے خلاف احتجاج؛درجنوں سابق فوجی گرفتار

?️ 21 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی دارالحکومت میں ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت میں احتجاج

فلوٹیلا میں موجود شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، دفتر خارجہ

?️ 3 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا

بھارتی میزائل کا پاکستان میں گرنا تشویش کا باعث ہے:شاہ محمود قریشی

?️ 2 اپریل 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی

حکومت نے رمضان المبارک میں مساجد کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے: مولانا طاہر اشرفی

?️ 31 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی نے

لبنان میں جامع اور مکمل جنگ بندی ہمارا مطالبہ ہے: حزب اللہ 

?️ 2 جون 2026 سچ خبریں:حسن فضل اللہ، جو مزاحمتی وفاداری کے گروپ کے رکن

یمن میں عظیم مظاہرے کا اعلان

?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: یمن کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام نے

حزب اللہ کا جمہوری حل / روسی ماہر: اسرائیل کا مقصد مذہبی تفرقہ ڈالنا ہے

?️ 21 مئی 2026سچ خبریں: روس کی نیشنل ریسرچ یونیورسٹی (ہائر سکول آف اکنامکس) کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے