?️
سچ خبریں: صیہونی ذرائع کے مطابق، اسرائیل اور شام کے نمائندوں کے درمیان خفیہ مذاکرات آذربائیجان میں ہوئے، جس میں اسرائیلی فوج کے آپریشنز کے سربراہ میجر جنرل "عوید باسیوک” نے شام کی نئی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
آذربائیجان کا ان مذاکرات کے لیے منتخب ہونا خطے کے تناؤ سے دور ایک غیر جانبدار مقام کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ انتخاب آذربائیجان اور ترکی کے شام میں حالیہ تبدیلیوں میں کردار اور ابراہیم معاہدے کے توسیعی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
تاہم، اسرائیلی فوج نے ان ملاقاتوں کی تصدیق یا تردید سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ شام کے حکام کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔ اسرائیل کا یہ مبہم موقف مذاکرات کی نوعیت اور سطح کے بارے میں مزید سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
امریکہ اور شام کے درمیان سفارتی پیش رفت
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع (ابو محمد الجولانی) سے ریاض میں ملاقات ایک بڑی سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ترکی کی خبر ایجنسی اناڈولو کے مطابق، صدر رجب طیب اردوان بھی اس گفتگو میں ورچوئل طور پر شامل تھے۔ یہ رابطہ، جو کہ سالوں کے
اقتصادی و سیاسی پابندیوں اور سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد ہوا ہے، امریکہ کی شام کے تئیں خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی علامت ہو سکتا ہے۔
تاہم، اسرائیل ٹرمپ کے اس اقدام سے متفق نہیں ہے اور پابندیاں اٹھانے کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
امریکی مطالبات اور شامی حکومت کا ردعمل
وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے شام کی نئی حکومت سے ابراہیم معاہدوں میں شمولیت، فلسطینی جنگجوؤں کو ملک بدر کرنے، داعش کے قیدیوں کے انتظام کی ذمہ داری لینے، اور دہشت گردی کے خلاف تعاون جیسے مطالبات کیے ہیں۔
اس کے علاوہ، شامی صدر نے امریکی کمپنیوں کو شام کے تیل اور گاز کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، جو کہ جنگ اور پابندیوں سے تباہ ہونے والی معیشت کو بحال کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
اسرائیل کی تشویش اور ترکی کی کوششیں
ذرائع کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ٹرمپ سے شام پر پابندیاں برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے، لیکن ٹرمپ نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے شام کے ساتھ نئے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی دوران، ترکی اور آذربائیجان شام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ترکی نے شام میں عدم استحکام کو ایران کے مفادات کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی نئی حکومت کو موقع دے۔ ترکی نے شمالی شام کو اپنا اثرورسوخ کا علاقہ قرار دینے اور
جنوبی شام کو اسرائیل کے زیر اثر ماننے کی تجویز بھی دی تھی، جسے اسرائیل نے مسترد کر دیا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ایٹمی مذاکرات سے متعلق ایران کا مؤقف
?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:ایرانی وزیر خارجہ نے ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے ملک کا
اگست
امریکہ سید حسن نصراللہ کی شہادت پر خوش ہے یا ناراض؟
?️ 29 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکی صدر نے ایک اشتعال انگیز بیان میں صیہونی حکومت
ستمبر
بھارت اور کینیڈا کے درمیان سیاسی کشیدگی ،وجہ؟
?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: کینیڈا کی جانب سے ایک سینئر بھارتی اہلکار کو ملک
ستمبر
پنجاب حکومت کا ذخیرہ اندوزی کے خلاف اہم اقدام
?️ 8 فروری 2022لاہور(سچ خبریں) پنجاب حکومت نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف اہم اقدام کرتے
فروری
مجھے خوشی ہے پیپلز پارٹی اپنے وعدے پورے کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری
?️ 24 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا
اگست
Exclusive: Selena Gomez Reveals Why She Reconnected with Justin Bieber
?️ 5 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
اسرائیل کے جنگی رجحانات کی تسکین کے لیے نئی امریکی قرارداد
?️ 21 فروری 2024سچ خبریں:الجزائر کی جانب سے غزہ میں فوری جنگ بندی سے متعلق
فروری
مدارس کے معاملے پر ہمیں پریشان نہ کریں ورنہ بڑی آزمائش بن جائیں گے۔ فضل الرحمان
?️ 7 جنوری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے
جنوری