ابو عبیدہ نے مزاحمتی ترجمانی کی ایک مکمل فکری روایت قائم کی

ابوعبیدہ

?️

ابو عبیدہ نے ترجمانی بیان کی ایک مکمل فکری روایت قائم کی

فلسطینی مزاحمت کی عسکری شاخ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک عسکری ماہر نے کہا ہے کہ ابو عبیدہ صرف ایک میڈیا چہرہ نہیں تھے بلکہ وہ میدانِ جنگ میں سرگرم کمانڈر تھے جنہوں نے مؤثر ابلاغ اور مزاحمتی بیانیے کا ایک مکمل فکری مکتب اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے شهاب کے مطابق، عسکری امور کے ماہر رامی ابو زبیدہ نے کہا کہ ابو عبیدہ اور دیگر مزاحمتی کمانڈروں کی شہادت اور اس کے ساتھ نئے ترجمان کا فوری طور پر سامنے آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فلسطینی مزاحمت شخصیات کے گرد نہیں بلکہ ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے تحت کام کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابو عبیدہ کی شناخت کا انکشاف ان کی شہادت کے بعد ایک گہرا پیغام رکھتا ہے۔ وہ شخص جو برسوں تک میڈیا اور نفسیاتی محاذ پر مزاحمت کی قیادت کرتا رہا، محض نقاب پوش ترجمان نہیں تھا بلکہ آخری لمحے تک عملی طور پر میدان میں موجود رہا اور اثر انگیز خطابت کا ایک مکمل اور پائیدار اسلوب چھوڑ گیا۔

رامی ابو زبیدہ کے مطابق، نئے ترجمان کو بھی اسی نام یعنی ابو عبیدہ سے متعارف کرانا اس بات کی علامت ہے کہ مزاحمت نے دانستہ طور پر فرد پرستی کے تصور کو ختم کر دیا ہے۔ اس حکمتِ عملی سے دشمن کی ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی اپنی اسٹریٹجک اہمیت کھو دیتی ہے، کیونکہ افراد کے خاتمے سے نہ آواز دبتی ہے اور نہ ہی ارادہ ٹوٹتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے ترجمان کا وہی لہجہ اور وہی پیغام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ القسام بریگیڈز کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مضبوط، منظم اور لچکدار ہے، جو شدید اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنی میڈیا اور نفسیاتی مؤثریت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عسکری ماہر کے مطابق، حالیہ خطاب میں واضح سیاسی اور عسکری پیغامات شامل تھے، جن میں غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی، ممکنہ جنگ بندی کو ثابت قدمی کا نتیجہ قرار دینا، اور مزاحمت کے جواب دینے کے مستقل حق پر زور شامل ہے۔ یہ تمام نکات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مزاحمت کمزوری یا شکست کی زبان نہیں بول رہی۔

رامی ابو زبیدہ نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک بار پھر اسرائیل کی انٹیلی جنس ناکامی کو بے نقاب کرتی ہے، کیونکہ قابض قوت یہ سمجھ رہی تھی کہ ابو عبیدہ کی شہادت کے ساتھ نقاب پوش مزاحمتی علامت کا خاتمہ ہو جائے گا، مگر اس علامت کا بطور نظریہ دوبارہ ابھرنا نفسیاتی جنگ کو ازسرِ نو صفر پر لے آیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے تنظیمی ڈھانچے کو سر قلم کر کے ختم نہیں کیا جا سکتا جو متبادل قیادت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان کے بقول، نظریات کو قتل نہیں کیا جا سکتا اور جو مزاحمت اپنی علامتیں چہروں کے بجائے معانی پر قائم کرتی ہے، وہی طویل المدت بقا کی صلاحیت رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ القسام بریگیڈز نے گزشتہ روز ایک بیان میں اپنے کئی سینئر کمانڈروں اور ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ نیا ترجمان بھی اسی میڈیا نام ابو عبیدہ کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکا ہے، جس نے اپنے پہلے بیان میں کہا سات اکتوبر ظلم، محاصرے اور جبر کے خلاف ایک گونج دار دھماکہ تھا۔

مشہور خبریں۔

ج جو لوگ قائد اعظم کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں

?️ 27 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ

حماس کے پاس غزہ جنگ بندی منصوبے کا جواب دینے کے لیے صرف 3 سے 4 دن کی مہلت!

?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نے غزہ پٹی میں جاری جنگ کے خاتمے سے

بلوچستان خوبصورت ترین خطوں میں سے ایک ہے

?️ 28 ستمبر 2021کوئٹہ(سچ خبریں) وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے عالمی یوم سیاحت کے

غزہ میں عارضی جنگ بندی کی تفصیلات

?️ 22 نومبر 2023سچ خبریں:شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں

نفتالی اور بن زائد ایک ہی وقت میں مصر میں

?️ 23 مارچ 2022سچ خبریں:مصر میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی موجودگی

ایچ ای سی کا نیا سربراہ کون بن سکتا ہے

?️ 30 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر

گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

?️ 6 جنوری 2026گلگت (سچ خبریں) گلگت بلتستان میں نگران حکومت کی تشکیل کا عمل

سعودی صیہونی دوستی کیوں نہیں ہو سکتی؟

?️ 6 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کا مسئلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے