دو تہائی امریکی عوام ایران جنگ کے خاتمے کے حق میں؛ صہیونی میڈیا کا اعتراف

ایران کے خلاف جاری جنگ

?️

سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ کے سروے کے مطابق دو تہائی امریکی عوام ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے حامی ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

المیادین نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ذرائع ابلاغ کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ دو تہائی امریکی شہری ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے حق میں ہیں اور وہ اس جنگ کو مزید جاری رکھنے کے مخالف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی عوام کی بڑی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نہ صرف بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہے بلکہ اس کے منفی اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث جنگ کے فوری خاتمے کی ضرورت پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔

صہیونی میڈیا نے اس امر کا بھی اعتراف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے جو اہداف مقرر کیے گئے تھے، ان میں سے کوئی بھی ہدف تاحال حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس ناکامی نے نہ صرف ان کی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

دوسری جانب صیہونی اخبار ہارٹیز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں ترکی، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں سعودی عرب کی شرکت کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس صورتحال کو خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندی اور نئے اتحادوں کی تشکیل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور مختلف ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون نے امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی کوششیں بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔

صہیونی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں اور اس کے باوجود یہ توقع رکھتے ہیں کہ دنیا اس آگ کو بجھانے میں کردار ادا کرے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کو مزید سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

لاہور ہائیکورٹ: پرویز الہٰی کو خفیہ مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ بحال

?️ 21 اگست 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان تحریک

افسوس کشمیر اور فلسطین کے بچے کھیل سمیت تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ وزیراعلی پنجاب

?️ 12 جون 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے انٹرنیشنل ڈے آف پلے

فرانسیسی اور برطانوی یونیورسٹیوں میں صیہونیت مخالف مظاہروں کا آغاز

?️ 27 اپریل 2024سچ خبریں: امریکہ میں طلباء کی تحریکوں کی جانب سے فلسطینیوں کی

یمن میں امریکی فوجیوں پر کس نے حملہ کیا؟

?️ 13 ستمبر 2023سچ خبریں: یمنی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ متعدد نامعلوم افراد

اسلام آباد: دہشت گردی کے 3 مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت میں 26 جولائی تک توسیع

?️ 19 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے

یوکرین کی کیف کو فوجی امداد میں جلدی کرنے کی اپیل

?️ 7 جولائی 2022سچ خبریں:   یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے اعلان کیا کہ

ایرانی حملوں کے بعد مقبوضہ فلسطین کے خالی ہونے سے نتن یاہو پریشان

?️ 21 جون 2025ایران کی جانب سے صہیونیستی ریاست کے خلاف میزائل حملوں کے بعد،

سویڈن کے وزیراعظم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذمت کی

?️ 22 جنوری 2023سچ خبریں:ایک ٹویٹ میں سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے