?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسی دستاویز صہیونی حکومت کو پیش کی ہے جس کے مطابق فلسطینی عوام کے منجمد مالی وسائل پر قبضہ، غزہ میں جبری نقل مکانی کے منصوبے پر عمل درآمد اور حماس کے خاتمے کے اہداف شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صہیونی حکومت کو پیش کی گئی ایک مجوزہ دستاویز کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں فلسطینیوں کے منجمد مالی فنڈز کی منتقلی، غزہ میں جبری نقل مکانی، امریکی کونسل کے قیام اور حماس سے متعلق متعدد شرائط شامل ہیں۔
صہیونی حکومت کے چینل 11 نے منگل کے روز امریکہ کی جانب سے صہیونی حکومت کو پیش کی گئی مجوزہ دستاویز کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی۔
رپورٹ کے مطابق اس دستاویز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صہیونی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ غزہ کی پٹی سے متعلق فلسطینی اتھارٹی کی منجمد ٹیکس آمدنی کو امن کونسل کے حوالے کیا جائے۔
امن کونسل ایک امریکی ادارہ ہے جسے امریکی صدر کی ہدایت پر غزہ کے بحران کے حل کے نام پر قائم کیا گیا ہے، جبکہ اس ادارے کی حمایت کے لیے مختلف ممالک سے کئی ارب ڈالر جمع کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی تھی کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر غزہ کی پٹی کے لیے مختص سترہ ارب ڈالر صہیونی حکومت کے کھاتے میں منتقل کیے گئے تھے۔
غزہ کے عوام کی جبری نقل مکانی کا منصوبہ برقرار
باخبر صہیونی ذرائع نے آج بتایا کہ امریکہ نے مطالبات پر مشتمل ایک دستاویز صہیونی حکومت کو پیش کی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ صہیونی حکام اس پر تحریری طور پر اپنی رضامندی کا اظہار کریں گے۔
ان ذرائع کے مطابق یہ دستاویز غزہ کے بارے میں ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کی عکاسی کرتی ہے، اور اس منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنا بھی پیشگی شرط نہیں بنایا گیا۔
دستاویز کے مطابق صہیونی حکومت غزہ کی پٹی کے مخصوص علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی کی پابند ہوگی۔
اس دستاویز میں غزہ کے عوام کی جبری نقل مکانی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ امریکہ نے صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رواں عیسوی سال کے اختتام تک غزہ کی پٹی کے ان علاقوں کے رہائشیوں کو، جو حماس کے زیرِ کنٹرول ہیں، ان علاقوں میں منتقل کرے جو امن کونسل کی نگرانی میں ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صہیونی حکومت غزہ میں ایک مرکزی مرکز بھی قائم کرے گی، جسے تکنیکی ماہرین پر مشتمل حکومت کے قیام کا جواز دیا جائے گا، جبکہ اس کے بعد غیر ملکی افواج کے لیے بھی فوجی اڈے تعمیر کیے جائیں گے۔
ان ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی دستاویز کے تحت صہیونی حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ جو افراد اپنے ہتھیار ڈال دیں اور امن کے اصولوں کی پابندی کریں، انہیں مشروط عام معافی دی جا سکے۔
اسی طرح امریکی امن کونسل، امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے عنوان سے غیر ملکی افواج تعینات کرے گی۔
اس دستاویز کا ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ نے صہیونی حکومت کو وسیع اختیارات دے دیے ہیں، تاکہ اگر حماس ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ ہو تو صہیونی حکومت اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی نظر میں ضروری تمام اقدامات کر سکے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی وزیر دفاع کا امریکہ کا دورہ؛ وجہ؟
?️ 18 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق، صہیونی حکومت کے وزیر دفاع
جولائی
اسرائیلی حملہ اشتعال انگیز اور قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ
?️ 9 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے برادر اسلامی ملک قطر پر اسرائیلی
ستمبر
طویل جنگوں میں صہیونی حکومت کی 4 بنیادی کمزوریاں
?️ 22 جون 2026سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ اور فوجی ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ
جون
ٹرمپ ہٹلر ہیں:ہلیری کلٹن
?️ 25 ستمبر 2022سچ خبریں:ہلیری کلنٹن نے گزشتہ ہفتے اوہائیو میں ٹرمپ کی انتخابی ریلی
ستمبر
حکومتی آفیشلز میں کوئی ایسا نہیں جو کہے ہم عافیہ کے وکیل کے ساتھ ہیں: اسلام آباد ہائیکورٹ
?️ 2 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آبادہائیکورٹ نے عافیہ صدیقی کیس میں کہا
ستمبر
مریم نواز کی ورلڈ ایکسپو 2025 میں شرکت، پاکستانی پویلین کا خصوصی دورہ
?️ 23 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے جاپان کے شہر
اگست
غزہ شہر پر قبضہ چھ ماہ تک جاری رہے گا: تل آویو
?️ 15 ستمبر 2025سچ خبریں: صہیونی ریجیم کے چینل 12 ٹیلی ویژن نے اپنی رپورٹ
ستمبر
صیہونی مسلح افواج کے سربراہ کا ناقابل یقین اعتراف
?️ 29 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی مسلح افواج کے سربراہ نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے
نومبر