?️
سچ خبریں:فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی قابض حکام غزہ میں زمینی حقائق مسلط کرنے کے لیے فلسطینیوں کے گھروں کی بڑے پیمانے پر مسماری جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا مقصد سیاسی عمل کو ناکام بنانا اور علاقوں کو غیر آباد بنانا ہے۔
شہاب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک فلسطینی عرب میڈیا ادارے نے غزہ کی پٹی میں صہیونی حکومت کی حالیہ سرگرمیوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام فلسطینیوں کے گھروں اور رہائشی ڈھانچوں کی وسیع پیمانے پر مسماری کی منظم پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:2000 سے اب تک صیہونیوں کے ہاتھوں 46 فلسطینی صحافیوں کی شہادت
رپورٹ کے مطابق، غزہ کی پٹی میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے باوجود اسرائیلی قابض فورسز زمین پر نئے حقائق مسلط کرنے کے لیے باقی ماندہ گھروں اور رہائشی عمارتوں کو مسلسل تباہ کر رہی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جنہیں نام نہاد زرد علاقے قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں متوقع کسی بھی سیاسی یا زمینی انتظام کو ناکام بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ پالیسی، جو مزید جانی نقصان اور عوامی بے دخلی کا باعث بن رہی ہے، دراصل ان علاقوں کو خالی کرا کے انہیں غیر آباد حائل علاقوں میں تبدیل کرنے کے واضح منصوبے کا حصہ ہے۔
شہاب کے مطابق، اس حکمتِ عملی کا مقصد مقامی آبادی کی واپسی کو روکنا اور زمینی سطح پر مکمل کنٹرول قابض قوت کے ہاتھ میں دینا ہے، خواہ بعد میں یہ علاقے بین الاقوامی فورسز کے حوالے کیے جائیں یا ان سے وابستہ اداروں کے زیر انتظام رکھے جائیں۔
اس حوالے سے فلسطینی مصنف اور سیاسی تجزیہ کار ایاد القرا نے کہا کہ قابض حکام زرد علاقوں میں طاقت کے زور پر ایک نئی حقیقت مسلط کرنا چاہتے ہیں اور آتشبس کے دوسرے مرحلے میں کسی بھی ممکنہ سیاسی اقدام کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، اسرائیل اس مقصد کے حصول کے لیے مزید جانی نقصان یا مکمل تباہی سے بھی گریز نہیں کرتا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ گرین لائن کے قریب، بالخصوص غزہ شہر اور خان یونس میں صلاح الدین روڈ کے اطراف ہونے والی مسماری اسرائیلی اس حکمتِ عملی کی عکاس ہے جس کا مقصد صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ ان علاقوں کو یا تو مکمل طور پر ویران زمین میں بدلا جا رہا ہے جہاں واپسی تقریباً ناممکن ہو جائے گی، یا پھر ایسے علاقوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے جنہیں قابضین کے حمایت یافتہ مسلح گروہ کنٹرول کریں گے۔
ایاد القرا نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ثالثوں اور عالمی برادری کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے اور اس بات کا پیغام ہے کہ اسرائیل کسی مؤثر روک ٹوک کے بغیر جو چاہے کر سکتا ہے۔
انہوں نے ثالثوں کے مؤقف پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ براہِ راست قابض حکومت کا شریک، حامی اور حوصلہ افزا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، جو کونسلیں اور کمیٹیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں، وہ اپنے اصل مقاصد سے خالی ہو چکی ہیں، بالخصوص نام نہاد ٹیکنوکریٹ کمیٹی، جس کا کام اسرائیلی منظوری کے باوجود عملی رکاوٹوں کا شکار ہے۔
القرا نے کہا کہ آئندہ ہفتے، جب غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی اپنا کام شروع کرے گی، ایک حقیقی امتحان ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق، واشنگٹن امن کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کو کمزور بنا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:اسرائیل کی جانب سے فلسطینی صحافیوں پر ظلم و تشدد جاری، متعدد صحافیوں کو گرفتار کرلیا گیا
انہوں نے آخر میں خبردار کیا کہ قابض قوت اس مرحلے کو مزید حقائق مسلط کرنے اور مستقبل میں انہیں دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے بروئے کار لا سکتی ہے۔ ان کے بقول، یہ پالیسیاں کسی بھی سنجیدہ اور حقیقی سیاسی عمل کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔


مشہور خبریں۔
نسل پرستی جیت گئی انصاف ہار گیا
?️ 14 فروری 2021سچ خبریں:متعدد امریکی ماہرین اور ممتاز شخصیات نے سینیٹ میں سابق امریکی
فروری
عراقی مظاہرین نے ترک سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا
?️ 21 جولائی 2022سچ خبریں: بدھ کی دوپہر تھی کہ مقامی ذرائع نے شمالی
جولائی
ایلات کی مقبوضہ بندرگاہ کی ناکہ بندی کو کم کرنے کے لیے یمن کی پیشگی شرط
?️ 18 جولائی 2024سچ خبریں: یمن اور عراق کی مزاحمتی قوتوں کی طرف سے وقتاً
جولائی
ملک شدید ابہام کا شکار ہے جسے دور کرنے کیلئے انتخابات آگے کردیے جائیں، شاہد خاقان عباسی
?️ 14 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انتخابات ملتوی
جنوری
غزہ جنگ سے اسرائیلی معیشت کو پہنچنے والا نقصان
?️ 18 جون 2024سچ خبریں: کیلکالسٹ اخبار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں اسرائیل
جون
مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے کھوکھلے نعرے۔
?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:اپنے آپ کو انسانی حقوق کا علمبردار کہلانے والے مغربی ممالک
اگست
امریکا-روس تعلقات میں کشیدگی اور نئی عالمی جنگ کی طرف جاتی دنیا
?️ 28 اپریل 2021(سچ خبریں) روس اور امریکا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کو تیسری
اپریل
کیریبین کے سمندری ڈاکو، ٹرمپ نے وینزوئلا کا تیل کیوں پکڑا؟
?️ 27 دسمبر 2025سچ خبریں: وینزوئلا کے تیل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تنازع
دسمبر