مشرق وسطیٰ انتہائی خطرناک مرحلے میں، بڑی جنگ کا خدشہ: عراقی وزیر اعظم کا انتباہ

خطرناک

?️

سچ خبریں:عراق کے وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور علاقائی جنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

اطالوی اخبار کورییرہ ڈیلا سیرا سے گفتگو کرتے ہوئے عراق کے وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ایک وسیع علاقائی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے صہیونی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اقدامات نے خطے میں بحران اور جنگ کو ہوا دی ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

السوڈانی نے کہا کہ عراق موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ وہ ایک ایسے خطے کے مرکز میں واقع ہے جہاں علاقائی اور عالمی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین اب بھی خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور اس مسئلے کو نظر انداز کرنے یا مؤخر کرنے سے تشدد کے نئے سلسلے جنم لیتے رہیں گے۔

عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ ایران خود کو فلسطینیوں کا حامی قرار دیتا ہے، جس کے باعث دیگر قوتوں کے ساتھ اس کا براہ راست ٹکراؤ بڑھ رہا ہے اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے جیسے تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

السوڈانی نے واضح کیا کہ عراق کسی بھی صورت میں اس تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور اس کی سرزمین کو عالمی طاقتوں کے درمیان تصفیہ حساب کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عراق داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی سرگرم ہے اور مختلف فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہی تعلقات عراق کو ایک مؤثر ثالث کا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

السوڈانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا اور تنگۂ ہرمز کے مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوئی بھی کوشش ایران کے سخت ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عراق اس حوالے سے کسی فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز ملک کے اندر غیر قانونی کارروائیوں کو کنٹرول کر رہی ہیں اور کئی ممکنہ حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

انہوں نے غیر ملکی افواج کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض مسلح گروہ اسے قبضہ تصور کرتے ہیں، اسی لیے بغداد نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ستمبر 2026 تک بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے پر اتفاق کیا ہے۔

السوڈانی نے کہا کہ عراق میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی یا خانہ جنگی کا خطرہ موجود نہیں، بلکہ خطرات محدود گروہوں تک ہیں، تاہم امریکی طیاروں کی جانب سے عراقی فضائی حدود کی خلاف ورزی ایک اہم مسئلہ ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ حالیہ حملوں میں امریکہ نے الحشد الشعبی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا، اور عراق اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ترکی: اسرائیل ایک نئے دشمن کی تلاش میں ہے

?️ 3 جولائی 2026سچ خبریں: ترکیہ کے وزیر خارجہہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل

صیہونی فوج میں معذور افراد کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ

?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے

ترکی اور صیہونی ریاست کے تعلقات

?️ 30 مارچ 2021سچ خبریں:ایک صہیونی اخبار نے ایک ترک اہلکار کے حوالے سے بتایا

شامی فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزی کی وجوہات

?️ 13 ستمبر 2023سچ خبریں:شام میں متحارب فریقوں کے مصالحتی مرکز کے روسی مرکز نے

لاپتا شہری حسیب حمزہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش

?️ 14 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتا شہری حسیب حمزہ

موساد وسیع ترین سائبر حملے کا شکار

?️ 9 جون 2023سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے گذشتہ روز صہیونی سکیورٹی ویب سائٹوں پر وسیع

کیا امریکہ کا سنہری دور چل رہا ہے؟؛روئٹرز کی رپورٹ

?️ 25 فروری 2026سچ خبریں:روئٹرز  کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تقریر میں

سی این این نیوز نیٹ ورک امریکی حکومت کی طرف سے ممکنہ قانونی کارروائی

?️ 2 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کے سکریٹری نے آج اعلان کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے