ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان ممکنہ تصادم کا نقصان؛نیویارک ٹائمز کی زبانی 

ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان ممکنہ تصادم کا نقصان؛نیویارک ٹائمز کی زبانی 

?️

سچ خبریں:نیویارک ٹائمز نے اپنی تازہ رپورٹ میں ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پیچیدہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ دونوں فریقین کی ایک دوسرے پر انحصاری، ممکنہ تصادم کو نہایت پیچیدہ اور پُرپیچ بنا سکتی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے درمیان حالیہ تناؤ کو زیر بحث لاتے ہوئے، ان دونوں کے درمیان موجود باہمی انحصار اور سیاسی-تجارتی رشتوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے پاس ایسے کئی اختیارات موجود ہیں جن کے ذریعے وہ ایلون مسک اور ان کی کمپنیوں کے وفاقی حکومت سے تعلقات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے ممکنہ اقدامات:
1. وفاقی نگرانی میں اضافہ:
   ٹرمپ ممکن ہے کہ متعلقہ وفاقی اداروں کو ہدایت دیں کہ مسک کی کمپنیوں پر سخت نگرانی کی جائے اور سابقہ دور میں دی گئی ریگولیٹری نرمیوں پر نظرثانی کی جائے۔
2. سیکیورٹی کلیئرنس کی معطلی:
   صدر ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ایلون مسک کی سیکیورٹی کلیئرنس کو معطل کر سکتے ہیں، جیسا کہ صدر بائیڈن نے اپنے کچھ ناقدین کے ساتھ کیا تھا۔ یہ اقدام خاص طور پر اس وقت اہم ہوگا جب اسپیس ایکس، پینٹاگون سے اربوں ڈالر کے معاہدے کر چکا ہو۔
3. نئے معاہدوں میں کمی:
   ٹرمپ کی حکومت، مستقبل میں اسپیس ایکس کے ساتھ کم معاہدے کر سکتی ہے اور اس کی بجائے جیف بیزوس کی کمپنی بلو اوریجن یا بوئنگ-لاکہیڈ اتحاد (United Launch Alliance) کو ترجیح دے سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ امریکی حکومت بھی مسک کی کمپنیوں پر گہرے انحصار رکھتی ہے۔ اسپیس ایکس کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن، چاند مشن، اور دفاعی و جاسوسی سیٹلائٹ لانچز کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے سونپے جا چکے ہیں۔
اسپیس ایکس کی خدمات ٹرمپ کے اہم منصوبوں جیسے نیا میزائل دفاعی نظام "گولڈن ڈوم” کی کامیابی کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ اس سسٹم کے لیے درجنوں راکٹ لانچز اور جدید ڈیٹا ٹریکنگ نظام درکار ہے، جس میں اسپیس ایکس عالمی سطح پر سرفہرست ہے۔
اسپیس ایکس کے مقابل دیگر کمپنیاں
اگرچہ بلو اوریجن، راکٹ لیب اور رلٹیویٹی اسپیس جیسے حریف میدان میں ہیں، لیکن اسپیس ایکس کے فالکن ۹ راکٹ جیسی پرانی اور قابل اعتماد ٹیکنالوجی کسی کے پاس نہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، صرف 2024 میں اسپیس ایکس کے ساتھ 3.8 ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے، اور گزشتہ دہائی میں مجموعی معاہدوں کی مالیت 18 ارب ڈالر کے قریب ہے۔
خلائی مشاورتی کمپنی Astralytical کی بانی، لورا فورچیک نے کہا کہ اگر اسپیس ایکس کے معاہدے منسوخ کیے جاتے ہیں، تو امریکہ کے لیے مستقبل قریب میں خلانوردوں کو مدار میں بھیجنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔ اس سے انسانی واپسی چاند پر بھی کئی سال پیچھے چلی جائے گی۔
نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی وزارت انصاف مخالفین اور ناپسندیدہ اداروں پر قانونی کارروائی کا رجحان رکھتی ہے، جیسے کہ ہارورڈ یونیورسٹی یا سابق معاونین۔
اسی تناظر میں، ٹرمپ کے انتخاب سے پہلے ہی 11 سے زائد وفاقی ادارے مسک کی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات میں مصروف تھے، جن میں ایف اے اے؛ راکٹ لانچ سیفٹی پر جانچ
ای پی اے؛ اسپیس ایکس کے ٹیکساس سائٹ پر آلودگی کے خدشات
ٹیسلا: خودکار ڈرائیونگ سسٹم سے جڑے حادثات کی تفتیش شامل ہیں۔

مشہور خبریں۔

حماس کی شیخ حسن یوسف کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی پر مبارکباد 

?️ 12 جون 2026 سچ خبریں: حماس نے اعلان کیا ہے کہ شیخ حسن یوسف کو

گورنر پنجاب نے اپنا چین کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا

?️ 22 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پنجاب میں

کیا یوکرین کو گولہ بارود کی فراہمی سے امریکی فوج کی تیاری میں کمی آئی ہے؟

?️ 30 جنوری 2023سچ خبریں:امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور دونوں ممالک

صیہونیوں کو مسجد الاقصی کی بے حرمتی کرنے کا سنگین تاوان ادا کرنے پڑے گا:حماس

?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے مسجد الاقصی کی بے حرمتی کرنے

پی ٹی آئی کا احتجاج کے دوران کارکنوں کی مبینہ اموات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

?️ 30 نومبر 2024پشاور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف  نے اسلام آباد میں پارٹی کے

وزیر اعظم خود مہنگائی کو دیکھ رہے ہیں

?️ 20 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس: فریال تالپور سمیت 14 ملزمان بری، صدر زرداری اور دیگر ملزم قرار

?️ 26 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) بینکنگ کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں پیپلز

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں  اضافے کا امکان

?️ 26 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان بھر میں ایک مرتبہ پھر سے پیٹرولیم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے