?️
سچ خبریں:اردن کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل بسام روبین نے عرب ممالک کی غفلت پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر عرب اقوام نے بیداری اختیار نہ کی تو صہیونی ریاست دیگر عرب دارالحکومتوں کو بھی اپنی مداخلت کا میدان بنا لے گی۔
اردن کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل بسام روبین نے عرب ممالک کی موجودہ صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی دنیا، جو کبھی دنیا کی رہنما تھی، آج صیہونی جنگی طیاروں، ڈرون حملوں اور موساد کے خفیہ آپریشنز کا میدانِ کارزار بن چکی ہے، انہوں نے عرب ممالک کی کمزور سیاسی ارادے، غیرت اور اجتماعی بےحسی کو اس تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:کیا لبنان کی جنگ عرب لیگ کو خواب غفلت سے جگائے گی؟
روبین نے روزنامہ رأی الیوم میں شائع شدہ اپنے تجزیے میں لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے نہ اپنی پے در پے شکستوں سے کچھ سیکھا اور نہ ہی لگاتار جھٹکوں نے ہمیں جگایا۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل آج عرب ممالک کے امور کو کھلے عام کنٹرول کر رہا ہے اور اسے چھپانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ یہ سب اس لیے ممکن ہوا ہے کیونکہ کئی عرب ممالک نے فلسطین کی حمایت ترک کر دی ہے، بعض تو صہیونی ریاست کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اور حتیٰ کہ اسے انسدادِ دہشتگردی کے نام پر اپنے اندرونی معاملات میں شریک کرتے ہیں جبکہ سب جانتے ہیں کہ ان دہشت گردوں کے پیچھے خود یہی اسرائیل ہے۔
روبین نے اسرائیل کی جانب سے اسلامی مقدسات کی توہین اور مسلمانوں کے خون بہانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ہماری مقدس سرزمین کو پامال کرتا ہے، ہمارے علما اور قائدین کو قتل کرتا ہے، اور عرب دنیا کی خاموشی اس کے لیے کھلی چھوٹ بن چکی ہے۔ فلسطین، لیبیا، شام، اور یہاں تک کہ سوڈان کی تقسیم ان سب میں عرب دنیا تماشائی بنی رہی، اور فائدہ صرف صہیونی دشمن نے اٹھایا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر ہونے والے حملوں کے خلاف عرب دنیا کی طرف سے کوئی عملی اقدام نہیں ہوتا، صرف زبانی مذمت پر اکتفا کیا جاتا ہے، ایسی حالت میں جب سیاسی وفاداریاں دشمن کی طرف جھکی ہوئی ہوں، مزاحمت کو ‘جرم’ اور دشمن سے اتحاد کو ‘حکمت عملی’ سمجھا جا رہا ہے۔
روبین نے عرب و اسلامی دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسلحے کی کمی نہیں، بلکہ خودمختار فیصلے اور سچے وقار کی کمی ہے۔ اسرائیل ایک درندے کی طرح پیش آ رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بعض عرب دارالحکومتوں میں اس کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا جاتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہماری اجتماعی عرب مزاحمتی حکمت عملی کہاں ہے؟ ہم دشمن کے خلاف اپنے ‘اسٹریٹیجک کارڈز’ کیوں استعمال نہیں کر رہے جو پوری امت کو ذلیل کرنا اور نیست و نابود کرنا چاہتا ہے؟
روبین نے زور دے کر کہا کہجب تک عرب دنیا میں ایک بیدار ارادہ پیدا نہ ہو، فلسطین آزاد نہیں ہوگا۔ اسرائیل کو تب تک شکست نہیں دی جا سکتی، جب تک اسلامی دنیا مزاحمت کو اپنا شعار نہ بنائے۔ اسرائیل جنگ جیتتا نہیں بلکہ ہم ہی ہیں جو اسے کامیابی کی کنجی پیش کرتے ہیں۔
اپنے تجزیے کے آخر میں بسام روبین نے عرب اقوام سے پکار کر کہا کہ کیا ہم تاریخ سے سبق سیکھیں گے یا انہی تاریک دنوں کو دہراتے رہیں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ عرب دنیا بیدار ہو، اس سے پہلے کہ مزید عرب دارالحکومت صہیونی جارحیت کا میدان بن جائیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
دنیا تیسرے ایٹمی دور کی دہلیز پر
?️ 6 دسمبر 2024سچ خبریں: برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف ٹونی راڈاکن نے تیسرے ایٹمی دور
دسمبر
محسن نقوی کی برطانوی حکام سے ملاقات، چند پاکستانیوں کی حوالگی پر بات چیت
?️ 8 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی فارن آفس
دسمبر
وزیر اعظم نے اپنی غلطی تسلیم کر لی
?️ 30 اپریل 2021گلکت (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی
اپریل
نیتن یاہو جیت گئے، لیکن اسرائیل کے خلاف: عبرانی میڈیا
?️ 1 دسمبر 2024سچ خبریں: میں بیس کی دہائی میں اپنے ایک دوست کے ساتھ
دسمبر
صیہونی انتہا پسند وزیر کے منصوبے پر متحدہ عرب امارات کا ردعمل
?️ 22 مارچ 2023سچ خبریں:متحدہ عرب امارات نے صیہونی وزیر خزانہ کے فاشسٹ موقف پر
مارچ
اسرائیل کے سابق وزیر دفاع نے غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی ذلت آمیز شکست کا اقرار کرلیا
?️ 30 مئی 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور شدت پسند
مئی
ایران کے ساتھ مذاکرات اس ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے: سینئر امریکی اہلکار
?️ 27 جون 2022واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی ہے کہ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے
جون
ہمیں نہیں معلوم کہ ایران اسرائیل پر کب حملہ کرے گا: امریکہ
?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: امریکی حکومت کی قومی سلامتی ٹیم نے صدر جو بائیڈن اور
اگست