اسرائیلی دہشت گردی کا ساتھ دینے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیئے: ایران

اسرائیلی دہشت گردی کا ساتھ دینے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیئے: ایران

?️

جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے اسرائیل کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر زور دیا جو اسرائیلی دہشت گردی میں برابر کے شریک رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جینوا میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے غزہ پٹی میں ناجائز صہیونی ریاست کے حالیہ وحشیانہ حملوں میں نہتے فلسطینیوں کی شہادت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کے حامیوں کو بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے پر جوابدہ ہونا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار اسماعیل بقائی ہامانہ نےمقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کیخلاف ورزی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منعقدہ ہنگامی اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم فلسطین کی بات کرتے ہیں تو ہمیں حقیقت کو مد نظر رکھنا ہوگا؛ فلسطین ایک ایسی سرزمین ہے جو کئی دہائیوں سے سکڑ رہی ہے اور فلسطینی شہری، انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے اور بین الاقوامی قوانین کیخلاف وزی کرنے والے سب سے طویل اور انتہائی ظالمانہ نظام کے زیر اثر ایک فرقہ پرست فوجی حکومت میں رہ رہے ہیں۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ جب تک فلسطین میں سازش اور خاموشی کی وجہ سے قبضہ جاری ہو اور انسانیت کیخلاف جنگی جرائم کرنے والے محفوظ ہو، تب تک اس علاقے میں تشدد کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کیخلاف ظلم کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور انہیں جوابدہ ہونا، بین الاقومی برادری کا فوری مطالبہ ہونا ہوگا۔

بقائی ہامانہ نے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست کے حامی جو "اپنے دفاع کے حق” کے بہانے کے تحت اس حکومت کے جرائم اور مظالم کا جواز پیش کرتے ہیں، کو ان کو مجرموں کی حمایت اور حوصلہ افزائی اور انصاف کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ حائل کرنے پر جوابدہ ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا فلسطینی قربانیوں کو صہیونی ریاست کے جارحیت پسندوں کیساتھ برابر سمجھنا ایک بے بنیاد اور غیر انسانی اقدام ہے اور دنیا کو اس بحران سے نمٹنے کا واحد پائیدار حل، مہاجرین اور پناہ گزینوں سمیت تمام فلسطینیوں کے حق خودارادیت سے متعلق ریفرنڈم کا انعقاد ہے۔

واضح رہے کہ قابض صہیونی ریاست کی فوجیوں نے 10 مئی 2021 سے غرہ پٹی اور فلسطین کی سرزمین کیخلاف جارحانہ حلموں کا آغاز کیا اور اس 12 روزہ جنگ کے دوران، 248 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں سے 66 بچے، 39 خواتین اور 17 بوڑھی اور بوڑھیا موجود تھے۔

ناجائز صہیونی ریاست نے مزاحمتی فرنٹ کے 12 روزہ میزائل حملوں کی روک تھام میں ناکامی کے بعد جمعرات کے دن کو ایک 3 گنھٹے کے اجلاس میں جنگ بندی سے اتفاق کیا۔

مشہور خبریں۔

سپریم کورٹ نے سینیٹراعجاز چوہدری کی ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست منظور کرلی

?️ 2 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے نو مئی کیسز میں تحریک

مالی سال 2024 کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 2.5 فیصد رہی

?️ 1 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی مالی سال 24-2023 کے دوران اقتصادی

کانگریس ڈیموکریٹس نے ٹرمپ سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کے ایک گروپ نے اپنے ملک

نوازشریف کو سزا دلوانے والوں کو قوم سے معافی مانگنی پڑے گی ، جاوید لطیف

?️ 22 جنوری 2023لاہور: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء اور وفاقی وزیر

آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخی کامیابی پر ملک بھر میں یوم تشکر

?️ 11 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر ملک

غزہ میں قابضین سے نمٹنے کے لیے مزاحمتی حکمت عملی 

?️ 24 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونیوں کی غزہ پر قبضے اور تباہی کی مسلسل دھمکیوں

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ترجیحی شعبوں پر جائزہ اجلاس ہوا

?️ 27 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت

غزہ میں خوراک کی امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران 900 فلسطینی شہید

?️ 17 جولائی 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے مطابق، 13

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے