فرانس میں پولیس کے ہاتھوں کم عمر مظاہرین پر تشدد کے سنسنی خیز انکشافات

طلبہ کے احتجاج

?️

سچ خبریں:فرانسیسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، طلبہ کے احتجاج کے دوران گرفتار کم عمر نوجوانوں نے پولیس پر تشدد، نسل پرستانہ گالیوں اور تذلیل کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ہزاروں نابالغوں کی گرفتاری اور حراستی مراکز کے حالات پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔

فرانس میں طلبہ کے حالیہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے کم عمر نوجوانوں اور ان کے وکلا کے بیانات میں پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد، توہین، تذلیل اور نسل پرستانہ سلوک کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

فرانسیسی میڈیا اداروں، بالخصوص اخبار میڈیا پارٹ اور جریدے نوویل اوبس نے اپنی رپورٹس میں کم عمر مظاہرین کی گرفتاریوں اور عارضی حراست کے دوران پولیس کے مبینہ پُرتشدد رویے، نسل پرستانہ جملوں اور توہین آمیز برتاؤ کی تفصیلات شائع کی ہیں۔

بعض بیانات میں طلبہ کو پہنچنے والی جسمانی چوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ کچھ معاملات میں طبی رپورٹس اور دیگر دستاویزات کو بھی شواہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اخبار میڈیا پارٹ نے 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں صحافیوں میری تورکان اور لورا فوئیج کے حوالے سے 14 سالہ لڑکی کا واقعہ بیان کیا، جسے فرضی نام لیلا سے متعارف کرایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، تولوز کے علاقے میں اپنے اسکول کے قریب مبینہ تشدد کا نشانہ بننے کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے بیان کے مطابق، وہ اپنے ساتھ صرف موبائل فون لیے ہوئے تھی کہ ایک پولیس اہلکار نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کیا۔ اہلکاروں نے اسے کپڑوں سمیت زمین پر گھسیٹا۔ گرفتاری کے دوران ایک اہلکار نے چیخ کر اسے توہین آمیز الفاظ بھی کہے۔

لڑکی کی والدہ اسما کے مطابق، ان کی بیٹی نے بتایا کہ ایک اہلکار نے طنزیہ اور تحقیر آمیز لہجے میں اس سے پوچھا: اب تم اللہ اکبر نہیں کہو گی؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طبی معائنے کی دستاویزات لڑکی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور نسل پرستانہ توہین کے الزامات کی تائید کرتی ہیں۔ اخبار کے مطابق، بیانات اور طبی شواہد میں اس کی ٹانگوں پر نیل پڑنے، چوٹیں آنے، چلنے پھرنے میں دشواری اور شدید نفسیاتی صدمے، بشمول شدید ذہنی دباؤ کی علامات، کا ذکر ہے۔

ان واقعات نے گرفتاری اور عارضی حراست کے دوران نابالغوں کی جسمانی و ذہنی صحت کے تحفظ اور ان کے ساتھ برتاؤ کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

گندے کالے؛ 17 سالہ نوجوان پر تشدد کا الزام

میڈیا پارٹ کی رپورٹ صرف 14 سالہ لڑکی کے واقعے تک محدود نہیں۔ اخبار نے 17 سالہ نوجوان کا معاملہ بھی بیان کیا ہے، جسے فرضی نام ژاں دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسے 1 اکتوبر کو فونتنے سو بوآ کے علاقے میں اپنے ہائی اسکول کے سامنے گرفتار کیا گیا تھا۔

نوجوان کے بیان کے مطابق، ایک پولیس اہلکار نے اس سے گفتگو کے دوران گندے کالے اور گندے بندر جیسے نسل پرستانہ الفاظ استعمال کیے۔ اس کے والد نے بھی بتایا کہ ان کے بیٹے کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اسے گھونسوں اور ڈنڈوں سے مارا۔

رپورٹ میں نوجوان کی پیشانی، چہرے اور کہنی پر چوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ طبی رپورٹ میں سر میں درد اور چہرے پر زخموں کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ نوجوان کو گردن یا سر کے حصے پر گھٹنے سے دباؤ ڈال کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔

مقدمے کا سامنا کرنے والا یہ نوجوان پولیس پر آتش بازی کا سامان پھینکنے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔ اس نے 7 اکتوبر کو قومی پولیس کے جنرل انسپکٹریٹ میں مبینہ تشدد اور نسل پرستانہ توہین کے خلاف شکایت درج کرائی۔ رپورٹ کے مطابق، کریتئی کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

زیر حراست نوجوانوں کی تذلیل کے الزامات

ایک اور واقعہ 16 سالہ نوجوان سے متعلق ہے، جسے 30 ستمبر کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے وکیل کے مطابق، موبائل فون کا پاس ورڈ پولیس کو دینے سے انکار پر نوجوان کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس مقدمے کے وکیل پیئر برونیسو نے کہا کہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کو ذلیل کرنے، ان کی انسانی عزت کو مجروح کرنے اور انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کرنے کا رجحان موجود ہے۔

یہ بیانات فرانسیسی جریدے نوویل اوبس کی 9 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ سے بھی مطابقت رکھتے ہیں، جسے صحافی مانون برنار نے مرتب کیا۔ اس رپورٹ میں طلبہ کے احتجاج کے دوران گرفتار نوجوانوں کے ساتھ برتاؤ اور حراستی حالات پر متعدد وکلا کی شکایات بیان کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، وکلا نے ایسے نوجوانوں کا ذکر کیا جن کے جسموں پر چوٹوں کے نشانات واضح تھے۔ انہوں نے حراستی مراکز میں ضرورت سے زیادہ بھیڑ، گدوں اور کمبلوں کی کمی اور پولیس مراکز میں اپنے مؤکلوں تک رسائی میں دشواری کی شکایات بھی کیں۔

فرانسیسی وکیل رافائل کیمپف نے کہا کہ ہم ایسے بچوں سے مل رہے ہیں جن کے جسموں پر تشدد کے نشانات موجود ہیں، جبکہ بعض دوسرے بچے حراست کی جگہوں پر لنگڑا کر چل رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض نوجوانوں سے راہداریوں میں پوچھ گچھ کی گئی اور گفتگو سے انکار کرنے والوں کو قید کی دھمکیاں دی گئیں۔

ایک اور فرانسیسی وکیل، مایول میز، کے حوالے سے جریدے نے لکھا کہ نابالغوں کی حراست کے حالات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ ان کے مطابق، حراستی مراکز میں روشنی کی کمی، بدبو اور صفائی کے مسائل موجود ہیں، جبکہ بعض بچے اس تجربے سے شدید خوف زدہ ہو گئے تھے۔

ہزاروں نابالغ گرفتار

فرانسیسی وزارت انصاف کے عدالتی اعداد و شمار کے مطابق، جنہیں 9 اکتوبر کو دونوں اخبارات نے نقل کیا، عارضی حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 6877 تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں سے 86 فیصد، یعنی 5890 افراد، نابالغ تھے۔

فرانس میں طلبہ کی احتجاجی تحریک کا آغاز 17 ستمبر کو کریتئی کے سینٹ ایکسوپیری ہائی اسکول سے ہوا، جس کے بعد یہ احتجاج دیگر تعلیمی اداروں تک پھیل گیا۔

طلبہ کے مطالبات میں اسکولوں کی عمارتوں کی خراب صورت حال، کلاسوں میں طلبہ کی زیادہ تعداد، نصاب اور اوقات تدریس سے متعلق مسائل، غیر حاضر اساتذہ کی جگہ متبادل اساتذہ فراہم نہ کرنا اور اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کے نظام سے وابستہ عدم مساوات شامل تھے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق، تقریباً 3700 تعلیمی اداروں میں سے 375 میں تدریسی سرگرمیاں مکمل یا جزوی طور پر معطل ہوئیں، جبکہ 9 اکتوبر تک 141 ہائی اسکول بند تھے۔

نوویل اوبس کے مطابق، 6877 گرفتار افراد میں سے صرف 2376 کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کی گئی۔

شکایات اور تحقیقات

میڈیا پارٹ کے مطابق، متاثرہ خاندانوں اور وکلا نے پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد، نسل پرستانہ توہین اور دیگر تحقیر آمیز سلوک کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں۔

نوویل اوبس نے رپورٹ کیا کہ 24 تحقیقات قومی پولیس کے جنرل انسپکٹریٹ کے حوالے کی گئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر معاملات ان نوجوانوں سے متعلق ہیں جنہیں گرفتاری کی کارروائیوں کے دوران پولیس کی مبینہ بدسلوکی سے چوٹیں پہنچی تھیں۔

یہ شکایات فرانس میں کم عمر زیر حراست افراد کے حقوق، پولیس کے طرز عمل اور حراستی مراکز میں حالات کے بارے میں مزید تحقیقات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔

مشہور خبریں۔

غزہ کے لیے اسرائیل کا نیا منصوبہ

?️ 17 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر خزانہ بیتسالل اسموٹریچ نے کنیسٹ میں

دبئی پولیس کے نائب سربراہ کی سعودی عرب کے خلاف محاذ آرائی

?️ 14 جولائی 2021سچ خبریں:دبئی کے ڈپٹی پولیس چیف نے ریاض اور ابوظہبی کے مابین

امریکیوں کا کانگریس اور میڈیا پر سے اعتماد ختم

?️ 16 اکتوبر 2024سچ خبریں: گیلپ کے ایک نئے سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ

یو اے ای یورپی پارلیمنٹ کے کرپشن کیس میں ملوث

?️ 26 دسمبر 2022سچ خبریں:       یورپ میں متحدہ عرب امارات کی لابی قطر

یوکرین کے لیے 40 بلین ڈالر کے امدادی پیکج پر ٹرمپ کا اعتراض

?️ 19 مئی 2022سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے 40 بلین

کورونا اور انفلوئنزا کی وباء کے باوجود فرانسیسی ڈاکٹروں کی ہڑتال میں توسیع

?️ 4 جنوری 2023سچ خبریں:فرانسیسی ڈاکٹروں نے تنخواہوں میں اضافہ اور کام کے بہتر حالات

تل ابیب میں صیہونی حکومت کے خلاف مظاہرے

?️ 9 دسمبر 2021سچ خبریں:  عبرانی زبان کے نیٹ ورک ماکان نے اطلاع دی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے