ترکی اور شامی کردوں کے درمیان خفیہ مذاکرات جاری

ترکی اور شامی کردوں کے درمیان خفیہ مذاکرات جاری

?️

سچ خبریں:المانیتور نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی نے 2023 سے شامی کردوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا ہے، ان مذاکرات میں سرحدی گذرگاہوں کی بحالی اور تعلقات کی عادی‌سازی زیر غور ہیں۔

امریکی ویب سائٹ المانیتور نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی نے شمال مشرقی شام میں کرد خودمختار انتظامیہ کے ساتھ 2023 کے موسم بہار سے خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا ہے، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یہ انکشاف المیادین نے اپنی رپورٹ میں المانیتور کے حوالے سے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عبداللہ اوجالان کا پیغام؛ پی کے کے کے ہتھیار ڈالنے کا اعلان اور پانچ کلیدی سوالات کے جوابات  

ذرائع کے مطابق، ان مذاکرات کے کم از کم دو اہم ادوار فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوئے، مذاکرات ترکی کے ان نمائندوں اور شامی کرد انتظامیہ کے نمائندوں کے درمیان ہوئے ہیں۔

المانیتور کے مطابق، ترک حکومت نے اس عمل کے ساتھ ساتھ عبداللہ اوجالان (پی کے کے کے سربراہ جو 1999 سے ترکیہ میں قید ہیں) کے ساتھ بھی بات چیت کے دروازے دوبارہ کھول دیے ہیں۔

ترکی میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AKP) کو ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے ہاتھوں شکست کے بعد، حکومت اندرونی سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ترک حکومت کرد مسئلے پر نرمی اور گفتگو کے دروازے کھولنے کی حکمت عملی اپنانے لگی ہے تاکہ داخلی محاذ کو پرسکون کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق، ترکی کردوں کے ساتھ تعلقات کی عادی‌سازی اور 2012 سے بند سرحدی گذرگاہوں کی بحالی پر غور کر رہا ہے۔ یہ گذرگاہیں کردوں کے زیرکنٹرول علاقوں رقہ اور دیرالزور کے لیے اہم اقتصادی راستے تصور کی جاتی ہیں۔

المانیتور مزید لکھتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق خصوصی ایلچی ٹام باراک نے حال ہی میں مظلوم عبدی (شامی ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر) سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، اور انہیں ترکیہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے کی دعوت دی، انہوں نے اس دوران داعش کے خلاف کرد فورسز کی حمایت پر واشنگٹن کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

مزید پڑھیں:شام میں ترکی کی فوجی کارروائیاں،کردوں کی صورتحال،جولانی حکومت کا مستقبل؛شامی کردوں کے نمائندے کی زبانی

یہ خفیہ مذاکرات شامی بحران، کرد مسئلے، اور ترکی کے داخلی سیاسی تناؤ کے تناظر میں ایک نئی پیشرفت سمجھے جا رہے ہیں، جن کے نتائج خطے میں سیاسی اور سیکورٹی توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

موجودہ کیس کا آئینی ترمیم سے تعلق نہیں، ویسے کوئی ڈرنے لگ جائے تو الگ بات ہے، جسٹس منصور

?️ 22 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس کی

امریکی نمائندے کی مداخلت پسندانہ بیان بازی پر حزب اللہ کا ردعمل

?️ 12 اپریل 2025سچ خبریں: حزب اللہ کے خلاف خطے کے لیے امریکی نائب خصوصی نمائندے

ایرانی میزائلوں کو روکنا مشکل ہو گیا ہے: سی بی ایس

?️ 22 جولائی 2026سچ خبریں: امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے امریکی فوج کی

بحیرۂ احمر میں ایک اور برطانوی کشتی شکار

?️ 17 فروری 2024سچ خبریں: یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے بحیرہ احمر میں ایک

لبنانی فوج کے کمانڈر کا دورہ امریکہ کیوں منسوخ کیا گیا؟

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن نے لبنانی فوج کے کمانڈر جنرل روڈولف ہیکل کے واشنگٹن

شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، آیت اللہ خامنہ ای کیلئے نیک خواہشات کا اظہار

?️ 18 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود

وزیراعظم سے محسن نقوی کی ملاقات، دورہ عمان اور ایران کے حوالے سے آگاہ کیا

?️ 30 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن

اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں منی بل رپورٹ پیش کردی

?️ 14 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر اسحاق ڈار نےایوان میں منی بل رپورٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے