?️
سچ خبریں:اردن کی قومی، سیاسی، ثقافتی، فکری اور قبائلی شخصیات نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
اردن کی قومی، سیاسی، ثقافتی، علمی اور قبائلی شخصیات نے مشترکہ بیان میں امریکی افواج کے انخلا، واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ ختم کرنے اور ملک کو علاقائی جنگ سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان پر دستخط کرنے والوں نے اردنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے سکیورٹی اور فوجی معاہدے کو منسوخ کرے اور اسے قومی اسمبلی میں پیش کرے، تاکہ عوام، قانون ساز اداروں اور سول سوسائٹی کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے اس معاہدے کو منسوخ یا محدود کرنے پر غور کیا جا سکے، نیز عوام کو ان ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے جو ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
المیادین کے مطابق، بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اردن کی تمام اسٹریٹجک تنصیبات، خصوصاً ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، فوجی اڈوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو غیر جانبدار رکھا جائے اور انہیں خطے کے عوام کے خلاف جاری جنگ سے متعلق کسی بھی فوجی، سکیورٹی یا لاجسٹک کارروائی کے لیے استعمال نہ کیا جائے، تاکہ اردن کی سلامتی برقرار رہے اور وہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے نتائج سے محفوظ رہ سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ اردن اس جنگ کا فریق نہیں ہے، اس لیے اسے اس کے نتائج بھی برداشت نہیں کرنے چاہئیں۔ دستخط کنندگان کے مطابق کشیدگی میں مسلسل اضافہ قومی معیشت، داخلی استحکام اور خطے کے کئی ممالک کے ساتھ اردن کے سیاسی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
بیان میں اردنی مسلح افواج پر اعتماد اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ فوج کا قومی نظریہ ملک اور اس کے مقدسات کے دفاع پر مرکوز رہے، خصوصاً ایسے صہیونی دشمن کے خلاف جس پر نسل کشی، جبری بے دخلی اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
دستخط کنندگان نے اردنی حکام پر زور دیا کہ وہ عملی اور فوری اقدامات کرتے ہوئے غیر جانبداری کی پالیسی اپنائیں، کسی بھی فریق کے حق میں فوجی یا لاجسٹک سرگرمیوں میں شریک نہ ہوں، ملک کی خودمختاری، سلامتی، استحکام اور آزاد قومی فیصلے کا تحفظ یقینی بنائیں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ "امریکہ کے زیرِ اثر کسی بھی جانب داری کے خطرات” سے اجتناب کیا جائے اور اردن کو کسی بھی ایسی فوجی یا لاجسٹک سرگرمی سے دور رکھا جائے جو جنگ کے کسی ایک فریق کے مفاد میں ہو۔
اس مشترکہ بیان پر سابق وزرا، سابق ارکانِ پارلیمنٹ، جامعات سے وابستہ شخصیات، ادیبوں، قانون دانوں، پیشہ ور تنظیموں کے نمائندوں اور سیاسی و ثقافتی شخصیات سمیت درجنوں ممتاز اردنی شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی ہیں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں، خصوصاً اردن کے موفق السلطی فضائی اڈے، جسے الازرق اڈہ بھی کہا جاتا ہے، کے استعمال کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔


مشہور خبریں۔
بشریٰ بی بی کی درخواست منظور، بنی گالا سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم
?️ 8 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم و
مئی
فلسطینی بہن بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے نیا سال سادگی سے منا رہے ہیں، وزیراعظم
?️ 1 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نئے سال کے
جنوری
ارشد شریف کی والدہ کا چیف جسٹس پاکستان کو خط
?️ 2 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ارشد شریف کی والدہ نے چیف جسٹس پاکستان سے ہائی
نومبر
حماس اور اسلامی جہاد نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کا کیا خیر مقدم
?️ 2 فروری 2022سچ خبریں: حماس اور فلسطین کی اسلامی جہاد تحریکوں نے فلسطینیوں کے
فروری
فوجی ماہرین نے جرمن فوج کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا
?️ 17 اپریل 2023سچ خبریں:جرمن فوکس میگزین نے ایک مضمون میں لکھا کہ جرمن حکومت
اپریل
دہشت گرد بزدلانہ کاروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے: وزیر داخلہ
?️ 31 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے وزیرستان میں
دسمبر
پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو محمود خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا
?️ 8 اکتوبر 2022پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائی کورٹ نے چارسدہ جلسے میں شرکت کرنے
اکتوبر
آج رات 11 بجے سے پہلے ٹکٹوں کا اعلان کروں گا، چیئرمین پی ٹی آئی
?️ 11 جنوری 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر
جنوری