ایران جنگ میں ہمارا ’’مستقل سکیورٹی نظریہ’’ ناکام اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار؛صیہونی میگزین کا انکشاف

ایران کے ساتھ جنگ

?️

سچ خبریں:صیہونی میگزین +972 کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ نے اسرائیل کے ’’ مستقل سکیورٹی نظریہ‘‘ کو ناکام بنا دیا، جنگی پالیسی اخلاقی اور اسٹریٹجک بحران میں داخل ہو گئی ہے۔

ایک عبرانی زبان کے صیہونی جریدے نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے اہداف ناکام ہو گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں اس کا ‘’مستقل سکیورٹی نظریہ’’ مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔

صیہونی جریدے +972 نے ایک کالم میں لکھا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل کوشش کہ وہ ‘’مکمل فتح’’ حاصل کرے، اسے نہ ختم ہونے والی جنگوں کے ایک ایسے دائرے میں لے جا رہی ہے جس کی نمایاں مثال ایران کے ساتھ محاذ آرائی ہے۔ اس صورتحال نے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو کمزور اور اس کی اخلاقی پوزیشن کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔

قلمکار عمیر فاخوری، جو وکیل اور سماجی ماہر ہیں اور ون لیر انسٹی ٹیوٹ میں اکیڈمک ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، اور صہیونی صحافی میرون راپاپورت نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے نام صیہونی جنگی نظریے میں تبدیلی کی علامت ہیں۔

مضمون کے مطابق ’’مستقل سکیورٹی نظریہ’’ صرف موجودہ خطرات کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کے خطرات کو روکنے کے لیے دشمن ملک میں شہری زندگی کی وسیع تباہی اور آبادی کی بے دخلی کو بھی شامل کرتا ہے، جبکہ سیاسی حل کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے مسلسل فوجی طاقت پر انحصار کیا جاتا ہے۔

وسیع تباہی کی طرف پیش قدمی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلے اسرائیل فوجی آپریشنز کے لیے نسبتاً نرم نام استعمال کرتا تھا، جیسے 2014 میں ‘’پروٹیکٹو ایج’’ اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد ’’آئرن سوورڈز’’، لیکن لبنان میں حالیہ آپریشن کا نام ‘’ابدی تاریکی’’ رکھا گیا، جو وسیع تباہی کی طرف ایک براہ راست اشارہ ہے۔

کالم میں جنوبی لبنان میں صیہونی فوج کی شدید بمباری کا ذکر کیا گیا ہے جس میں چند ہفتوں میں سینکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ قلمکار کے مطابق اب ہدف صرف عسکری نہیں رہا بلکہ بعض صورتوں میں یہ نسل کشی کے قریب ایک عمل بنتا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں دیہات اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے تاکہ ایک مستقل بفر زون قائم کیا جا سکے اور شہریوں کی واپسی روکی جا سکے۔

مستقل فوجی جنگ کا ماڈل

رپورٹ میں صیہونی وزیر جنگ کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ جنوبی لیتانی دریا کے جنوب میں رہنے والے لبنانیوں کو واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان کے گھروں کو تباہ کیا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ‘’مستقل سکیورٹی نظریہ’’ کو عملی طور پر قبول کر لیا ہے۔

کالم کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں ’’مکمل فتح’’ کا نعرہ اسی سوچ کا حصہ ہے جس نے شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کو جنم دیا۔ یہ رجحان صیہونی سیاسی و عسکری اداروں میں گہری سطح پر موجود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں پہلے موجود ’’تنازعہ کو کنٹرول کرنے’’ کی پالیسی، جو محاصرہ اور وقفے وقفے سے بمباری پر مبنی تھی، طوفان الاقصیٰ کے بعد مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔

بغیر سیاسی حل کے مسلسل جنگ

قلمکار کے مطابق اسرائیل نے سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے اپنی عسکری طاقت کو لبنان، شام، یمن اور ایران تک پھیلا دیا ہے، جسے وہ ‘’بغیر قانونی یا سیاسی حد کے مستقل جنگ’’ قرار دیتے ہیں۔ جون 2025 میں ایران پر حملہ اسی نظریے کی شدت میں اضافہ تھا، جس کا مقصد صرف فوجی یا جوہری تنصیبات نہیں بلکہ سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی تھا۔

کالم میں کہا گیا ہے کہ یہ حکمت عملی ناکام رہی کیونکہ ایران کے نظام کو گرانے کا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور جنگ ایک اسٹریٹجک تعطل میں داخل ہو گئی۔

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے حوالے سے کہا گیا کہ اسرائیل دشمن کے بغیر نہیں رہ سکتا اور ممکن ہے کہ مستقبل میں ترکی جیسے ممالک کو بھی نئے دشمن کے طور پر پیش کیا جائے۔

سیاسی اور اخلاقی بحران

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جنگی پالیسی ایک اخلاقی اور اسٹریٹجک خلا پیدا کر رہی ہے جہاں فوجی طاقت واضح سیاسی مقصد کے بغیر استعمال ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی امریکہ میں اسرائیل کی حمایت، خاص طور پر ڈیموکریٹک پارٹی میں، کم ہو رہی ہے جو ایک بڑے سیاسی دباؤ کی علامت ہے۔

آخر میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی عوام بھی اس صورتحال پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایک ٹی وی سروے کے مطابق صرف 33 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کالم کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال مستقبل میں ایک نئے سیاسی راستے کی طرف لے جا سکتی ہے جو طاقت کے بجائے سرحدوں اور سیاسی مفاہمت پر مبنی ہو، لیکن یہ تبدیلی خود بخود نہیں آئے گی بلکہ اس کے لیے بین الاقوامی دباؤ اور اندرونی سیاسی سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کا برازیل کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان

?️ 16 جولائی 2026سچ خبریں:امریکہ کے وزیر خارجہ نے ایک جارحانہ اقدام کرتے ہوئے اعلان

دشمن نظریاتی جنگ کے ذریعے امتِ مسلمہ کو نشانہ بنا رہے ہیں:یمن کے رہنما کا انتباہ

?️ 13 فروری 2026دشمن نظریاتی جنگ کے ذریعے امتِ مسلمہ کو نشانہ بنا رہے ہیں:یمن

غزہ کی فضا میں صیہونی جاسوس ڈرون کا شکار

?️ 26 مئی 2025 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے غزہ پر صیہونی حملوں کے بیس

صہیونی فلسطینی قوم کے خلاف مذہبی جنگ لڑ رہے ہیں:حماس

?️ 1 اپریل 2023سچ خبریں:بیت المقدس پر قابض فوج کی گولی سے ایک فلسطینی نوجوان

ہیومن رائٹس واچ نے عرب ممالک کے خلاف اسرائیلی جرائم کے بارے میں اہم رپورٹ پیش کردی

?️ 28 اپریل 2021لندن (سچ خبریں) ہیومن رائٹس واچ نے عرب ممالک کے خلاف اسرائیلی

شیخ زکزاکی پر ظلم انسانیت پر ظلم ہے:عیسائی پادری

?️ 14 فروری 2021سچ خبریں:نائیجیریا کے ایک اہم پادری جان جوزف نے نائجیریا کے تمام

شہید سید حسن نصر اللہ جغرافیائی اور دنیاوی حدود سے تجاوز کر گئے

?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنان کے رکن پارلیمنٹ سید ابراہیم موسوی نے کہا کہ

بی بی سی کے پریزینٹر نے ٹرمپ کے قتل کی دھمکی دی!

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: ایک پیغام میں، بی بی سی ورلڈ نیٹ ورک کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے