غزہ میں 7 لاکھ طلبہ کا نئے تعلیمی سال کا آغاز خیموں میں، تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان

غزہ

?️

سچ خبریں:غزہ میں تقریباً 7 لاکھ طلبہ نے جنگ سے متاثرہ تعلیمی نظام کے درمیان نئے تعلیمی سال کا آغاز کیا۔ تباہ شدہ اسکولوں، کتابوں کی قلت اور نفسیاتی دباؤ کے باعث بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

غزہ میں مقیم تقریباً 7 لاکھ طلبہ نے انتہائی دشوار حالات میں نئے تعلیمی سال کا آغاز کیا ہے۔

روسیا الیوم کے مطابق، غزہ کے بیشتر اسکول جنگ کے باعث تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ کئی تعلیمی عمارتوں کو جنگ سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں تقریباً 7 لاکھ طلبہ نے آج ہفتے کے روز نئے تعلیمی سال کا آغاز کیا۔

فلسطین کی وزارت تعلیم نے بتایا ہے کہ اسکولوں کی مسلسل تباہی اور بیشتر تعلیمی اداروں کے غیر فعال ہونے کے باعث طلبہ کو تعلیم دینے کے لیے خیموں اور عارضی مقامات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

 ان مقامات پر تعلیمی سہولیات، حتیٰ کہ کرسیوں، چاک اور درسی کتابوں جیسی بنیادی اشیا کی بھی شدید کمی ہے۔

بعض تعلیمی ادارے باقی رہ جانے والی عمارتوں میں روزانہ کئی شفٹوں میں تدریس کا انتظام کر رہے ہیں، تاکہ دستیاب جگہوں کی محدودیت کے باوجود زیادہ سے زیادہ طلبہ کو تعلیم فراہم کی جا سکے۔

غزہ کے طلبہ کو درسی کتابوں، کاپیوں اور اسٹیشنری کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔ بہت سے بچے ایسے خیموں میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں جنہیں عارضی اسکولوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔

 ان حالات کے باعث طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، خصوصاً پڑھنے، ریاضی اور سائنس کی مہارتوں میں انہیں مشکلات درپیش ہیں۔

اس کے علاوہ، زخمی اور معذور طلبہ، جن میں سماعت اور گویائی سے محروم بچے بھی شامل ہیں، تعلیم کے حصول میں مزید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

جنگ کے دوران خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے اسکول بھی متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث ان کے لیے موزوں تعلیمی ماحول دستیاب نہیں ہے۔

تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش میں فلسطینی وزارت تعلیم ایک ایسے نظام پر کام کر رہی ہے جس کے تحت خیموں اور عارضی مراکز میں بالمشافہ تدریس کو آن لائن تعلیم کے ساتھ یکجا کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ان طلبہ تک بھی تعلیم پہنچانا ہے جو بے گھری یا سکیورٹی کی صورتحال کے باعث کلاسوں میں حاضر نہیں ہو سکتے۔

وزارت نے بمباری، بے گھر ہونے اور خاندان کے افراد کو کھونے کے مسلسل اثرات کے باعث بچوں کی ذہنی صحت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے۔

 وزارت کے مطابق، موجودہ حالات میں بچوں کو نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کرنا تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے جتنا ہی ضروری ہو چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

کورونا : مثبت کیسز کی شرح میں کمی آنے لگی

?️ 19 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان میں کورونا کی پانچویں لہر مزید 26 افراد

اسرائیل اندر سے ٹوٹ رہا ہے:عطوان

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:عطوان نے اپنے نئے کالم میں مغربی کنارے میں پیش آنے

ٹرمپ کے ایران کے خلاف پرانے دعوے اور ایران کی مسلح افواج کا طاقتور جواب

?️ 31 مارچ 2026سچ خبریں:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے پچھلے

پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی دھوم، صارفین نیکسٹ جنریشن نیٹ ورک کے منتظر

?️ 17 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) 2025 میں انٹرنیٹ کے منظر نامے کو

آئندہ الیکشن میں کچھ لوگ پارٹی چھوڑ سکتےہیں: اسد عمر

?️ 12 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا

 امریکہ کی اسرائیل کو کلسٹر بم اور جدید ہتھیاروں کی نئی کھیپ کی فراہمی 

?️ 16 اپریل 2025 سچ خبریں:غزہ پر صہیونی افواج کے وحشیانہ حملے اور فلسطینیوں کی

محور مقاومت کی نئی جنگ کے لیے تیاری؛ میدانوں کی وحدت کی حکمت عملی کا مظاہرہ

?️ 30 جولائی 2026سچ خبریں: محور مقاومت کوئی ایسا واقعہ نہیں جو یکدم وجود میں

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی حکومت کی بڑھتی ہوئی فسطائیت پر دنیا کی خاموشی کی مذمت

?️ 16 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال حسین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے