نیتن یاہو کی سب سے احمقانہ جنگ امریکہ کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے؛ الجزیرہ کی رپورٹ

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:الجزیرہ کی رپورٹ میں ماہرین نے ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور امریکہ کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے

ایک بین الاقوامی امور کے ماہر نے ایران کے خلاف جنگ کو ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی پالیسیوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جدید تاریخ کی سب سے احمقانہ جنگ ہے، جسے ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دھوکے میں آکر شروع کیا اور یہ امریکہ کی عالمی طاقت کو کمزور کر سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق، معروف مؤرخ اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر آوی شلایم نے اپنے ایک مضمون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ 28 فروری کو دونوں ممالک نے بغیر کسی اخلاقی یا قانونی جواز کے ایران پر فضائی حملے کیے، جن میں کئی اعلیٰ حکام شہید ہوئے۔

انہوں نے اس جنگ کو اکیسویں صدی کی سب سے احمقانہ جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تیزی سے ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو گئی، جس کے اثرات امریکہ کے یورپی اور خلیجی اتحادیوں، عالمی توانائی کے نظام اور بین الاقوامی معیشت تک پھیل گئے۔

اگرچہ کچھ افراد اس جنگ کو امریکہ کی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں، جس میں اسرائیل کو خطے میں تبدیلی کے لیے استعمال کیا گیا، لیکن حقیقت میں اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ کی طرف دھکیلا تاکہ وہ خطے میں اپنی فوجی برتری قائم کر سکے۔

شلایم کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نہ تو اس صورتحال سے خوش ہوں گے اور نہ ہی نیتن یاہو کے تابع ہونے کے تاثر سے، لیکن وہ اس جنگ کے لیے کوئی واضح اور منطقی وجہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کو غیر سنجیدہ، خود پسند اور غیر متوقع شخصیت قرار دیا، جس کی وجہ سے وہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مقاصد مسلسل بدلتے رہے۔ ابتدا میں انہوں نے ایرانی عوام کو حکومت گرانے کا موقع دینے کی بات کی، لیکن بعد میں کہا گیا کہ مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنا ہے، جبکہ اس سے پہلے وہ دعویٰ کر چکے تھے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، ایک اور دعویٰ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرنا تھا، لیکن بین الاقوامی قوانین کے مطابق صرف فوری خطرہ ہی جنگ کا جواز بن سکتا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے ایسا کوئی فوری خطرہ موجود نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے دو دن بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعتراف کیا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ اس لیے کیا کیونکہ اسرائیل ایسا کرنے والا تھا۔ اس بیان سے ظاہر ہوا کہ ٹرمپ قیادت کے بجائے پیروی کر رہے تھے، اگرچہ بعد میں اس بیان کو واپس لینے کی کوشش کی گئی۔

ٹرمپ نے بھی اس تاثر کو رد کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ شاید انہوں نے اسرائیل کو جنگ پر مجبور کیا، تاہم یہ دعویٰ غیر حقیقی قرار دیا گیا کیونکہ نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران پر حملے کے حامی رہے ہیں۔

امریکی عہدیدار جوزف کینٹ نے بھی کہا کہ ٹرمپ اسرائیل کے دباؤ میں آکر ایسی جنگ میں شامل ہوئے جو نہ امریکہ کے مفاد میں ہے اور نہ ہی اس میں ہونے والے نقصانات کا جواز بنتا ہے۔ انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ اسرائیلی دباؤ کا نتیجہ تھی۔

رپورٹ کے مطابق، ایران پر حملے کا منصوبہ دسمبر 2025 میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران تیار کیا گیا، جہاں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بجائے اس کے میزائل نظام کو اصل خطرہ قرار دیا گیا۔

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو نئے ایٹمی معاہدے کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ اگر حملے کی اجازت نہ دی گئی تو اسرائیل خود کارروائی کرے گا۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کسی معاہدے کے قریب تھے، لیکن امریکہ اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو چکا تھا۔

شلایم کے مطابق، امریکی مذاکراتی ٹیم میں شامل افراد کے پاس کوئی تکنیکی ماہرین نہیں تھے، اور بعض خلیجی سفارتکاروں نے انہیں اسرائیل کے اثر میں کام کرنے والے افراد قرار دیا۔

تجزیے میں کہا گیا کہ جنگیں اکثر منصوبے کے مطابق نہیں چلتی ہیں، اور ایران کے خلاف جنگ بھی جلد کنٹرول سے باہر ہو کر ایک بڑے علاقائی تنازع میں بدل گئی۔ اس دوران فوجی اہداف کے ساتھ ساتھ شہری تنصیبات جیسے اسپتال، اسکول اور بجلی گھر بھی نشانہ بنے۔ ایک حملے میں ایک اسکول پر میزائل گرنے سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے لبنان میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے جاری رکھے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔

آوی شلایم نے کہا کہ ایران نے حملوں کا بھرپور جواب دیا اور اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ خلیجی ممالک میں اہم تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔

اس جنگ کے بعد ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی آئی، خاص طور پر ان کے اپنے حامیوں میں، اور ناقدین نے کہا کہ یہ جنگ امریکہ کے بجائے اسرائیل کے مفاد میں لڑی جا رہی ہے۔

شلایم کے مطابق، ٹرمپ اور نیتن یاہو کے مقاصد مختلف ہیں۔ ٹرمپ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو ایران کو مکمل طور پر کمزور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

نیتن یاہو کا مقصد ایران کے اندر مختلف نسلی گروہوں کو مضبوط کر کے مرکزی حکومت کو کمزور کرنا ہے، جبکہ موساد نے بھی اس حوالے سے اقدامات کیے۔

الجزیرہ کے مطابق، یہ سب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد ایران کی قیادت میں قائم مزاحمتی اتحاد کو ختم کرنا ہے، جس میں حماس، انصار اللہ اور حزب اللہ شامل ہیں۔

یہ حکمت عملی نہ صرف ٹرمپ کے امریکہ فرسٹ اور میک امریکہ گریٹ اگین جیسے نعروں کے خلاف ہے بلکہ مہنگی اور غیر ضروری جنگوں کے باعث ان پالیسیوں سے ٹکراتی بھی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ کو استعمال کرتے ہوئے غزہ اور لبنان میں ہونے والے مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کی، جبکہ وہ مسلسل اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی رائے عامہ اس کے خلاف متحد ہو رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

وینزویلا میں ٹرمپ کا اصل ہدف کیا ہے؟

?️ 4 جنوری 2026سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ منشیات کا

عامر خان نے کرینہ کیلئے  ساڑھی کتنے کی  خریدی تھی؟

?️ 20 جنوری 2022ممبئی (سچ خبریں) بالی ووڈ کے مسٹرپرفیکشنسٹ عامر خان نے کرینہ کیلئے

پولیس کی طرف بڑھنے والے ہاتھ توڑ دیں گے، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب

?️ 20 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے

مندر، گردوارے اقلیتوں کی جائیداد ہیں، زمینیں ہتھیانے کیلئے حقائق چھپائے جا رہے ہیں، چیف جسٹس

?️ 13 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق

شیخ رشید نے نواز شریف کے سامنے دو آپشن رکھ دئے

?️ 9 اگست 2021اسلام آباد ( سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس

ریابکوف: ایٹمی تصادم کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے

?️ 27 دسمبر 2025سچ خبریں: روس کے نائب وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں جوہری

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا جاری

?️ 26 اپریل 2021سچ خبریں:امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان میں ایک لمبے عرصہ تک

اسرائیلی کمانڈر جانتے ہیں کہ غزہ میں فتح ناممکن ہے: اسرائیلی تجزیہ کار

?️ 24 جولائی 2025سچ خبریں: صہیونیست ملٹری تجزیہ کار رونن برگمین نے اسرائیلی فوج کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے