عراق میں نئے وزیرِاعظم کی نامزدگی کہاں تک پہنچی؟

عراق

?️

سچ خبریں:عراق میں وزیرِاعظم کے انتخاب کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ دولتِ قانون اتحاد کے رہنماؤں نے نوری المالکی کی نامزدگی پر پیش رفت اور آئینی تقاضوں پر روشنی ڈالی ہے۔

عراق کے اتحاد دولتِ قانون کے تین اہم اراکین نے نئے وزیرِاعظم کے انتخاب سے متعلق اپنی آرا پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ اجلاس میں فریم ورک (چارچوبِ ہم آہنگی) کی توجہ سب سے بڑے پارلیمانی اتحاد کے وزیرِاعظم کے امیدوار کے نام کو حتمی شکل دینے پر مرکوز ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:عراق میں پارلیمان کی صدارت کا معاملہ تعطل کا شکار، وزیرِاعظم اور صدر کے انتخاب پر مشاورت جاری

عراقی خبر رساں ایجنسی المعلومہ کی رپورٹ کے مطابق، اتحاد دولتِ قانون سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمان حسین البطاط نے کہا کہ وزیرِاعظم کی نامزدگی کا براہِ راست تعلق صدرِ جمہوریہ کے انتخاب سے ہے، جو حکومت کی تشکیل کے لیے آئینی تقاضوں کو واضح کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان، صدرِ جمہوریہ کے فیصلے سے قبل وزیرِاعظم کے کسی امیدوار کا اعلان نہیں کرے گی۔ اگلا مرحلہ سیاسی جماعتوں کے درمیان سنجیدہ اور وسیع مشاورت پر مشتمل ہوگا تاکہ ایک جامع قومی اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے۔

البطاط کے مطابق آئینی نظم و ضبط کی پابندی سیاسی عمل کے استحکام کی ضمانت ہے، جبکہ صدر کے انتخاب پر اتفاق، ایسے وزیرِاعظم کے انتخاب کی راہ ہموار کرے گا جو آئندہ مرحلے کو مؤثر انداز میں سنبھال سکے۔

دوسری جانب اتحاد دولتِ قانون کی رکن ابتسام الهلالی نے بتایا کہ چارچوبِ ہم آہنگی کا آئندہ اجلاس سب سے بڑے اتحاد کے وزیرِاعظم کے امیدوار کے نام کو حتمی شکل دینے پر مرکوز ہوگا اور اس کا وزارتوں کی تقسیم سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کے ایجنڈے میں آئندہ وزیرِاعظم کے نام پر حتمی اتفاق کے ساتھ ساتھ شام کی سکیورٹی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی غور کیا جائے گا، جبکہ وزارتوں کی تقسیم کا معاملہ بعد میں ایک الگ اجلاس میں زیرِبحث آئے گا۔

اسی اتحاد کے ایک اور رکن عمران کرکوش نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی کی جانب سے متفقہ امیدوار کی تجویز کو محض سیاسی تشہیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ چارچوبِ ہم آہنگی پہلے ہی ایک امیدوار پر اتفاق کر چکی ہے۔

کرکوش نے کہا کہ الحلبوسی کی کوششیں سیاسی دباؤ ڈالنے اور جماعتی مفادات کے حصول کے لیے ہیں، جبکہ وزیرِاعظم کی اہلیت کا تعین سب سے بڑے اتحاد کا آئینی حق ہے اور یہ عمل کسی بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ شیعہ فریم ورک متحد ہے اور وزیرِاعظم کے لیے نوری المالکی کی نامزدگی پر قائم ہے۔ ان کے مطابق المالکی تجربہ، قبولیت اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کرکوش نے مزید بتایا کہ آئندہ دنوں میں چارچوبِ ہم آہنگی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں نامزدگی کے معاملے کو حتمی شکل دے کر باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ ان کے بقول یہ مرحلہ میڈیا بازی کا متحمل نہیں ہو سکتا بلکہ حقیقت پسندانہ فیصلوں کا متقاضی ہے تاکہ حکومت کی تشکیل میں تیزی لائی جا سکے۔

مزید پڑھیں:عراق میں نئی سیاسی بحث، کیا محمد شیاع السودانی ایک بار پھر وزیرِاعظم بن سکیں گے؟

المعلومہ کے مطابق، چارچوبِ ہم آہنگی کے رہنماؤں کا اجلاس، جو پیر کی شام ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے، تاہم اطلاعات ہیں کہ اتحاد نوری المالکی کو تیسری مرتبہ وزیرِاعظم نامزد کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

روس، امریکہ، یوکرین مذاکرات ختم

?️ 18 فروری 2026 سچ خبریں:روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا نیا دور

سعودی لڑاکا طیاروں نے یمنی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک پر بمباری کی

?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں:  یمنی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سعودی لڑاکا طیاروں

امریکی انٹیلی جنس کی ابتدائی تشخیص: ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے ناکام ہو گئے

?️ 25 جون 2025سچ خبریں: امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی این این نے اطلاع

دنیا میں ترکی کی خارجہ پالیسی کے 8 چیلنجز 

?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں:اس مضمون کے پچھلے حصے میں ہم نے مغرب کے بعد

بلوچستان: زرغون میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ، 3 جوان شہید

?️ 20 مئی 2023بلوچستان: (سچ خبریں) بلوچستان کے علاقے زرغون میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی

این اے 15 سے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور

?️ 28 دسمبر 2023مانسہرہ: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم

فردوس عاشق اعوان کا عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ

?️ 19 جولائی 2021لاہور(سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے  عہدے

صیہونی فضائیہ کی سب سے بڑی کمزوری

?️ 5 جنوری 2023سچ خبریں:چونکہ صیہونی فوج نے اپنی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ فضائیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے