?️
سچ خبریں:حماس نے مسجد الاقصیٰ میں صہیونی آبادکاروں اور قابض فوج کی بڑھتی کارروائیوں کو تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی خطرناک کوشش قرار دیتے ہوئے عرب و اسلامی ممالک، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
حماس نے مسجد الاقصیٰ میں صہیونی آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی دراندازی اور قابض فوج کی کارروائیوں کو مسجد کی موجودہ تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے اور وہاں ایک نئی صورتحال مسلط کرنے کی خطرناک کوشش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے۔
فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک بیان میں صہیونی آبادکاروں اور صہیونی حکومت کی فوج کی جانب سے مسجد الاقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی اور حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہودی مذہبی تہواروں کے آغاز کے ساتھ مسجد الاقصیٰ کو لاحق بڑھتے خطرات سے خبردار کیا۔
حماس نے کہا کہ وہ صہیونی حکام اور انتہا پسند صہیونی گروہوں کی جانب سے تلمودی مذہبی تہواروں کو مسجد الاقصیٰ پر بڑے پیمانے پر دھاووں اور جارحانہ کارروائیوں میں اضافے کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے خبردار کرتی ہے۔ حماس کے مطابق یہ رسومات قابض صہیونی پولیس کی حفاظت میں مسجد کے صحنوں میں ادا کی جارہی ہیں اور ان کا مقصد مسجد کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہے۔
فلسطین انفارمیشن سینٹر کے مطابق حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ صہیونی آبادکاروں کی جارحانہ کارروائیاں، مسجد کے احاطے میں اجتماعی مذہبی رسومات کی ادائیگی اور اس مقدس مقام کی بے حرمتی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تدریجی اور خطرناک منصوبے کا حصہ ہیں۔
حماس کے مطابق یہ منصوبہ صہیونی آبادکاروں کی تعداد میں مسلسل اضافے اور ان کی جارحانہ سرگرمیوں کے پھیلاؤ سے شروع ہوا، پھر مسجد الاقصیٰ کے اندر تلمودی رسومات کی ادائیگی تک پہنچا اور اب اس مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جہاں وزرا اور کنیست کے ارکان بھی ان سرگرمیوں میں شریک ہورہے ہیں۔
حماس نے کہا کہ اس کے ساتھ ان رسومات کو باقاعدہ قانونی اور ادارہ جاتی شکل دینے اور مسجد الاقصیٰ کے اندر ایک نئی صورتحال مسلط کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
حماس نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں مسجد الاقصیٰ میں صہیونی آبادکاروں کی دراندازیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور تلمودی رسومات کی نوعیت میں تبدیلی اور شدت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ قابض حکومت کی نگرانی میں انتہا پسند گروہ مسلط کردہ دراندازیوں سے مسلط کردہ مذہبی رسومات اور پھر ایک نئی مذہبی و سیاسی صورتحال قائم کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
تحریک کے مطابق اس منصوبے کا ہدف مسجد الاقصیٰ کی مکمل اسلامی شناخت کو نقصان پہنچانا اور اس کی موجودہ تاریخی و قانونی حیثیت کو کمزور کرنا ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں موجودہ یہودی تعطیلات کے دوران ان خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیز اقدامات میں اضافے سے بھی خبردار کیا۔ اس نے کہا کہ صہیونی دشمن فلسطینی نمازیوں کے مسجد میں داخلے پر پابندیاں سخت کررہا ہے اور مسجد میں موجود فلسطینیوں کو وہاں سے ہٹایا جارہا ہے، جس سے صہیونی آبادکاروں کے مزید بڑے حملوں اور زیادہ منظم و اجتماعی مذہبی رسومات کی راہ ہموار ہورہی ہے۔
حماس نے زور دے کر کہا کہ 144 دونم رقبے پر محیط مسجد الاقصیٰ مکمل طور پر اسلامی مسجد ہے اور قابض حکومت کی جانب سے وہاں نئی صورتحال مسلط کرنے کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں۔
تحریک نے قدس کے اسلامی مقدس مقامات کے خلاف ان جارحانہ اقدامات کے نتائج اور سنگین اثرات سے خبردار کرتے ہوئے صہیونی قابض حکومت کی کابینہ کو ان تمام کارروائیوں کا مکمل ذمہ دار قرار دیا۔
حماس نے کہا کہ فلسطینی عوام نے مسجد الاقصیٰ، اس کی شناخت اور مقدس مقامات کے دفاع میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی اس کے تحفظ اور دفاع کے اپنے حق پر قائم رہیں گے۔
تحریک نے خبردار کیا کہ صہیونی قابضین کو جان لینا چاہیے کہ مسجد الاقصیٰ پر حملہ اور اس کے مقام و تقدس کو نقصان پہنچانا ہمیشہ فلسطینی عوام کے شدید غم و غصے اور عوامی مزاحمت کا باعث بنا ہے۔
حماس نے فلسطینی عوام، بالخصوص قدس اور مقبوضہ علاقوں کے باشندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد الاقصیٰ میں اپنی موجودگی بڑھائیں۔ اس نے تمام فلسطینیوں پر بھی زور دیا کہ وہ مقبوضہ قدس میں اپنی موجودگی مضبوط کریں اور صہیونی فوج اور آبادکاروں کے منصوبوں اور سازشوں کا پوری قوت سے مقابلہ کریں۔
حماس نے عرب اور اسلامی ممالک کی حکومتوں اور عوام، اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا کردار فعال کریں اور مسجد الاقصیٰ کے تحفظ، قدس و فلسطینی عوام کی حمایت اور معراج رسول اکرمؐ کے مقام کے دفاع کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
حماس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے مسجد الاقصیٰ کے خلاف صہیونی جارحیت اور دراندازیوں کو روکنے اور قابضین کو اس مقدس مقام پر نئی صورتحال مسلط کرنے سے باز رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔


مشہور خبریں۔
انڈونیشیا میں آزادی کی پہلی سالگرہ
?️ 17 اگست 2024سچ خبریں: ملک کی آزادی کی 71ویں سالگرہ کے موقع پر انڈونیشیا
اگست
شہباز شریف کی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے سربراہ سے ملاقات
?️ 15 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ بینک
فروری
نکی ہیلی نے امریکی حکام سے استعفے کا مطالبہ کیوں کیا ؟
?️ 1 اگست 2023سچ خبریں:ریپبلکن پارٹی کی جانب سے امریکی صدارتی انتخابات کی 50 سالہ
اگست
صیہونی حکومت اور حماس کے دردمیان قیدیوں کا تبادلہ کیوں نہیں ہو رہا؟ صہیونی میڈیا کا انکشاف
?️ 3 نومبر 2024سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے غزہ
نومبر
پی ٹی آئی سے سینیٹ کا ٹکٹ کسے ملے گا؟ ممکنہ امیدواروں کے نام سامنے آگئے
?️ 4 فروری 2021اسلام آباد: حکمران جماعت تحریک انصاف سے سینیٹ کا ٹکٹ دیے جانے
فروری
پاکستان کے مضبوط دفاع کیلئے مستحکم معیشت ضروری ہے، ایئر چیف ظہیر بابر سدھو
?️ 4 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو نے مضبوط
جنوری
اسٹیبلشمنٹ انتخابات سے ’سخت خوفزدہ‘ ہے، عمران خان
?️ 4 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جہاں ایک جانب وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ
اگست
تائیوان مت جاؤ!؛ پیلوسی کو ٹرمپ کا مشورہ
?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:امریکہ کے سابق صدر نے ایوان نمائندگان کی اسپیکر کے دورہ
جولائی