?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی حملوں کے بعد عالمی میڈیا میں مختلف تجزیے سامنے آئے۔ رپورٹس میں تہران کے ٹرمپ پر عدم اعتماد، خطے کی کشیدگی اور جنگ کے اسٹریٹجک نتائج پر روشنی ڈالی گئی۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس آپریشن کے اعلانیہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارح فریقوں کے لیے اسٹریٹجک تعطل، سیاسی ناکامیوں اور میدان میں مشکلات کے بڑھتے ہوئے آثار بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور معصوم شہریوں بالخصوص طلبہ کے قتل سے شروع ہوئی، جلد ہی انسانی، سیکیورٹی اور اقتصادی پہلوؤں میں پھیل گئی اور عالمی میڈیا میں مختلف ردعمل کو جنم دیا۔ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی حاصل ہوئی اور بعد میں ٹرمپ کی جانب سے اس میں توسیع بھی کی گئی، تاہم اس جارحیت کے حقیقی خاتمے تک ابھی ایک پیچیدہ راستہ باقی ہے۔
دنیا بھر کے میڈیا اداروں نے اپنے اپنے زاویہ نظر کے مطابق اس جنگ کا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی ہے۔ ان ردعمل کا جائزہ جنگ کی اصل صورتحال اور اس کے مستقبل کی زیادہ واضح تصویر پیش کر سکتا ہے۔
مغربی میڈیا
یورونیوز نے ایک رپورٹ میں امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے حوالے سے لکھا کہ ایران امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ ممکنہ نئی جھڑپوں کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ رپورٹ میں ایران کی فوجی مشقوں اور عسکری سازوسامان کی منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ تہران بیک وقت بیرونی خطرات اور ممکنہ داخلی بدامنی سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یورونیوز کے مطابق پاسداران انقلاب کی محمد رسول اللہ یونٹ نے صوبہ تہران میں سیکیورٹی مشقیں کیں جبکہ ایرانی بحریہ نے جزیرہ بوبیان کے قریب بندر ماہشہر میں فوجی مشقیں شروع کیں۔ تھنک ٹینک کے مطابق ایران اپنی فوجی تنصیبات کا کچھ حصہ ایسے علاقوں میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں اسے یقین ہے کہ امریکہ حملہ کرنے سے گریز کرے گا۔
رپورٹ میں امریکی عسکری جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکی اور صیہونی فضائی حملوں کے باوجود ایران کے میزائل ذخائر کا بڑا حصہ محفوظ رہا اور جنگ سے پہلے کی تقریباً 70 فیصد میزائل صلاحیت برقرار ہے۔ مزید کہا گیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اطراف موجود اپنے بیشتر میزائل اڈوں تک دوبارہ عملی رسائی حاصل کر لی ہے۔
یورونیوز نے مزید لکھا کہ مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں اور تہران نے واضح کیا ہے کہ مستقبل کے حملوں کی روک تھام سے متعلق ضمانتوں اور آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت کو تسلیم کیے بغیر وہ کسی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا۔
رپورٹ میں جنگ کے بڑھتے اخراجات اور تہران و واشنگٹن کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خدشات سے متعلق انتباہات کا بھی ذکر کیا گیا۔
فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے حالیہ جنگ کے دوران اپنی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر ایران کے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلاف کئی حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض نے بیک وقت تہران کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی وسیع فوجی کارروائی کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ صرف اپنے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق جنگ سے پہلے سعودی عرب نے امریکہ کو سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا تھا اور ایران پر حملے کے خلیج فارس کی توانائی سیکیورٹی پر ممکنہ اثرات سے خبردار کیا تھا۔ ریاض نے واشنگٹن کو یہ بھی بتایا تھا کہ وہ ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عرب ممالک پر ایرانی حملوں کے بعد سعودی عرب کا مؤقف تبدیل ہوا اور اس نے اپنی بازدار قوت ظاہر کرنے کے لیے جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم رپورٹ میں شامل ماہرین کے مطابق تہران اور ریاض کے درمیان رابطے جنگ کے دوران بھی برقرار رہے تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
فنانشل ٹائمز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران کے خلاف کارروائیاں کیں جبکہ قطر نے فوجی ردعمل سے گریز کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔
رپورٹ میں تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، آبنائے ہرمز کی عملی بندش اور ایران و امریکہ کے درمیان نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے جاری ثالثی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر دونوں فریقوں کے گہرے اختلافات اب بھی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
عرب اور علاقائی میڈیا
الجزیرہ نے ایک تجزیہ میں استدلال کیا کہ بعض جنگ بندیاں خود جنگ سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ جنگ فریقین اور طاقت کے توازن کو واضح کرتی ہے جبکہ طویل اور مبہم جنگ بندیاں تنازع کو پیچیدہ اور تھکا دینے والے مرحلے میں داخل کر دیتی ہیں۔
تجزیہ کار نے کوریا، ویتنام اور بوسنیا کی مثالیں دیتے ہوئے وضاحت کی کہ بہت سی جنگ بندیاں حقیقی امن کے بجائے بحران کو مستقل شکل دینے اور کشیدگی کے مسلسل انتظام کا سبب بنیں۔ کوریا میں جنگ بندی مستقل کشیدگی اور بازدار نظام میں تبدیل ہو گئی جبکہ ویتنام میں پیرس معاہدہ امریکہ کے انخلا اور شمالی ویتنام کی حتمی کامیابی کی تیاری کا ذریعہ بنا۔ بوسنیا میں بھی جنگ بندیوں نے سیاسی قوتوں کو وقت فراہم کیا اور عوام پر دباؤ برقرار رکھا۔
تجزیہ میں موجودہ علاقائی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی کو انہی تجربات سے جوڑا گیا۔ تجزیہ کار کے مطابق موجودہ فضا نہ مکمل امن ہے اور نہ ہی مکمل جنگ بلکہ ایک غیر مستحکم اور معلق کیفیت ہے جو امریکی سیاسی تبدیلیوں اور اقتصادی و فوجی دباؤ کے زیر اثر تشکیل پا رہی ہے۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ایران ایک جانب آزادی اور مزاحمت پر زور دیتا ہے جبکہ دوسری طرف مذاکرات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ طویل جنگ بندیاں آہستہ آہستہ معاشرے کو تبدیلیوں اور رعایتوں کو قبول کرنے کی عادت ڈال دیتی ہیں اور یہی اس قسم کے ادوار کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
المیادین نے اپنے ایک تجزیہ میں لکھا کہ امریکی تجاویز پر ایران کا حالیہ ردعمل تہران کے اعتماد اور واشنگٹن بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ پر گہرے عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران ٹرمپ کے دعووں کے برخلاف کمزور پوزیشن سے مذاکرات میں داخل نہیں ہوا بلکہ اس نے دباؤ اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے خود کو امریکہ کے برابر فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
تجزیہ کے مطابق اصل اختلاف ایران کے جوہری پروگرام کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ امریکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی پابندی کی ضمانت دے، کیونکہ تہران 2015 کے جوہری معاہدے سے ٹرمپ کی علیحدگی کو فراموش نہیں کر سکتا۔
تجزیہ کار کے مطابق ایران نے افزودگی کی سطح میں کمی، عالمی ایٹمی ایجنسی کی مستقل نگرانی اور وسیع معائنوں کے ذریعے اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے کو ثابت کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم امریکہ اب بھی ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے کے مکمل خاتمے پر اصرار کر رہا ہے۔ تہران اس مطالبے کو غیر قانونی اور ایران کی سائنسی و تکنیکی ترقی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔
تجزیہ میں بحران کی جڑ کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اثر و رسوخ اور خودمختاری کو محدود کرنے اور خطے میں صیہونی برتری برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا گیا۔
تجزیہ کار نے زور دیا کہ علاقائی بحرانوں کا حل صرف جامع معاہدے، جنگوں کے خاتمے، فلسطینی ریاست کے قیام، خلیج فارس میں اجتماعی سلامتی کے نظام اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے ذریعے ممکن ہے، ورنہ ایک وسیع حتیٰ کہ عالمی جنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔
الشرق الاوسط نے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ یوکرین جنگ اور ایران کے ساتھ کشیدگی دو الگ معاملات نہیں بلکہ روس، ایران اور مغرب کے درمیان وسیع تر تصادم کا حصہ ہیں۔ تجزیہ کار کے مطابق یوکرین جنگ محض سرحدی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے اور مغربی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کی روسی کوشش ہے، اسی لیے مغرب کی یوکرین حمایت ایک اسٹریٹجک مسئلہ بن چکی ہے۔
تجزیہ میں وضاحت کی گئی کہ ایران نے بھی روس کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا اور ڈرون، میزائل اور فوجی سازوسامان فراہم کر کے جنگ جاری رکھنے میں مدد دی۔
اس کے بدلے روس نے بھی سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس میدانوں میں ایران کی حمایت کی۔ تجزیہ کار کے مطابق یہ تعاون ظاہر کرتا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے محاذ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک کی کمزوری دوسرے پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
تجزیہ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ توانائی بحران، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش یورپ کی سلامتی کو بھی متاثر کرے گی۔ تجزیہ کار کے مطابق مغرب کو روس کے مقابلے اور ایران پر دباؤ کو الگ الگ نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ یہ دونوں ایک ہی جنگ کا حصہ ہیں۔ آخر میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کسی ایک محاذ پر کمزوری یا ہچکچاہٹ دوسرے محاذ کو مضبوط کر دے گی۔


مشہور خبریں۔
وزیر اعظم آج فیصل آباد کا دورہ کریں گے
?️ 9 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان آج فیصل آباد کا
فروری
فنڈز کی درخواست مسترد ہونے کے بعد 6 ہسپتالوں کی ’بندش‘ کا خدشہ
?️ 17 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فنانس ڈویژن کی جانب سے وفاقی وزارت صحت
نومبر
گوگل میں صیہونیوں کی خدمات
?️ 2 ستمبر 2022سچ خبریں: صہیونی فوج کے ساتھ کمپنی کے معاہدے کے خلاف
ستمبر
فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے حماس کے خلاف نازیبا الفاظ
?️ 23 اپریل 2025 سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس (ابو مازن) نے ایک
اپریل
سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے لیے بڑی شرطیں
?️ 10 اگست 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے قابض حکومت کے ساتھ سعودی عرب کے معمول
اگست
افغانستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں صیہونیوں کے ردپا
?️ 30 جون 2022سچ خبریں:ایک صہیونی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقی افغانستان
جون
امریکا کی انسانی حقوق کے نام پر دنیا کو بیوقوف بنانے کی سازش، چین نے اہم الزام عائد کردیا
?️ 27 جون 2021بیجنگ (سچ خبریں) چین نے امریکا کی جانب سے انسانی حقوق کی
جون
جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد، جسٹس جنید غفار سندھ، جسٹس عتیق پشاور، جسٹس روزی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر
?️ 1 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی
جولائی