?️
سچ خبریں:اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے محرکات محض سکیورٹی خدشات نہیں، بلکہ ان کے بقول نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے مستقل جنگی صورتِ حال برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
عبرانی زبان کے اخبار معاریو کے مطابق اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک نے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی دھمکیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کی وجوہات صرف اسرائیل کے سکیورٹی مفادات تک محدود نہیں ہیں۔
باراک نے کہا کہ نیتن یاہو اسرائیل کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ اس کوشش میں ناکام ہوئے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور اس سے ایران مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ باراک کے بقول ایسی کوئی معلومات موجود نہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ آئندہ چھ سے آٹھ ہفتوں میں نئی حکومت کی تشکیل سے پہلے ایران کے خلاف فوری کارروائی ناگزیر ہے۔
سابق وزیراعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ مصنوعی طور پر جنگی صورتِ حال پیدا کرنے سے اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ ہو سکتی ہے اور کنیسٹ کے ارکان کی معمول کے مطابق حلف برداری کا عمل شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق جنگ کے دوران کابینہ کو اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی نقطۂ نظر سے ایک پہلے سے طے شدہ تقریب کو جائز ہدف سمجھا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کنیسٹ کی حلف برداری منسوخ ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورتِ حال سے قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کے مطالبات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
متبادل اتحاد کی تشکیل سے متعلق مذاکرات پر بات کرتے ہوئے باراک نے کہا کہ تبدیلی کے اتحاد کا سب سے اہم وعدہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا ہے اور اس مقصد سے متصادم دیگر وعدوں کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔
باراک نے آخر میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا فیصلہ نئی حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے، جس پر 7 اکتوبر کے واقعات کی ذمہ داری نہ ہو۔ انہوں نے نیتن یاہو کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص چند دنوں میں ایران کے نظام کو گرانے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ تین برس میں حماس کو ختم کرنے یا غزہ میں اس کی حکمرانی روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول نیتن یاہو چھ مرتبہ مکمل فتح کو قریب قرار دے چکے ہیں، مگر انہیں جنگ ختم کرنے کا کوئی واضح تصور نہیں اور وہ اپنی متنازع کارکردگی پر بحث سے بچنے کے لیے مستقل جنگ کے محتاج ہیں۔


مشہور خبریں۔
جسٹن بیبر کورونا وائرس کا شکارہوگئے
?️ 21 فروری 2022اوٹاوا(سچ خبریں) کینیڈین گلوکار جسٹن بیبر کورونا کا شکار ہوگئے ،انہوں نے
فروری
امریکی جنگی طیارہ F-47؛ ٹرمپ کے شور سے ناکامی کی دہلیز تک
?️ 6 جون 2025سچ خبریں:F-47 امریکی نسل ششم جنگی طیارے کی تیاری کے باوجود، اخراجات،
جون
عمران خان نے وزراء کو کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات کے احکام جاری کر دئے
?️ 23 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے پیر نورالحق قادری سے ٹیلفونک
اکتوبر
کورونا وائرس: ملک میں مزید 38 افراد انتقال کر گئے
?️ 7 فروری 2022لاہور (سچ خبریں) کورونا وائرس کے وار جاری جاری ہیں، ملک میں
فروری
اقوام متحدہ نے یورپ اور امریکہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کی: روس
?️ 9 مارچ 2023سچ خبریں: روسی مندوب کے نمائندے نے اقوام متحدہ کے دوہرے اقدام
مارچ
غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر داخلی و عالمی دباؤ
?️ 18 مئی 2025 سچ خبریں:اسرائیل پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے شدید اندرونی
مئی
2023 میں کون سی ’میمز‘ وائرل ہوئیں؟
?️ 21 دسمبر 2023 سچ خبریں: سال 2023 کے دوران پاکستان جہاں سیاسی اور معاشی
دسمبر
جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نام نہاد انتخابی عمل کا حصہ نہیں
?️ 17 ستمبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں جماعت
ستمبر