?️
سچ خبریں:صیہونی پارلیمان (کنیسٹ) کے انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان کے بعد کوئی بھی سیاسی اتحاد حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں کا ہدف حاصل نہیں کر سکا، جس کے باعث تل ابیب میں سیاسی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں قائم سیاسی اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے حریف گادی آیزنکوٹ کی سربراہی میں قائم اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔
اس طرح کوئی بھی سیاسی دھڑا کنیسٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
انتخابی کمیٹی نے فوجیوں، قیدیوں، مریضوں اور دیگر ایسے افراد کے ووٹوں سمیت حتمی گنتی مکمل کر لی ہے جو عام پولنگ مراکز میں حاضر ہونے سے قاصر تھے۔ ان ووٹوں کو دوہرے لفافوں کے ذریعے جمع کیا گیا تھا۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق، مجموعی طور پر 56 لاکھ 97 ہزار 290 ووٹ ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 55 لاکھ 64 ہزار 764 ووٹ درست جبکہ 25 ہزار 72 ووٹ مسترد قرار دیے گئے۔
کنیسٹ میں جماعتوں کی نشستوں کی تقسیم
حتمی نتائج کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں اور اتحادوں کو حاصل ہونے والی نشستوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
- لیکوڈ پارٹی، بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں: 27 نشستیں۔
- یاشر پارٹی، گادی آیزنکوٹ کی قیادت میں: 21 نشستیں۔
- بیخاد اتحاد، نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کی مشترکہ قیادت میں: 12 نشستیں۔
- مشترکہ فہرست، تین عرب جماعتوں کا اتحاد: 11 نشستیں۔
- یونائیٹڈ عرب لسٹ اور ڈیموکریٹس پارٹی: ہر ایک کو 8 نشستیں۔
- یہودت ہتوراہ، اسرائیل بیتینو اور عوتسما یہودیت: ہر ایک کو 7 نشستیں۔
- شاس اور مذہبی صیہونیت پارٹی: ہر ایک کو 6 نشستیں۔
انتخابات میں حکمران دائیں بازو کے اتحاد کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد مقبوضہ علاقوں میں سیاسی مشاورت کا ایک اہم مرحلہ شروع ہونے والا ہے، جس میں صیہونی صدر کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔
نیتن یاہو پر انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کی مہم چلانے کا الزام
دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کی ناکامی کے بعد تل ابیب میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ گادی آیزنکوٹ نے شاباک کے سربراہ اور مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ کے ساتھ مشترکہ اجلاس کے بعد نیتن یاہو اور لیکوڈ پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کرنے اور انہیں غیر معتبر ثابت کرنے کے لیے ایک منظم مہم چلا رہے ہیں۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نگرانی کرنے والے اداروں نے انتخابی سرگرمیوں سے متعلق بعض شبہات کی تحقیقات کی اطلاع دی ہے۔ تاہم، انتخابی کمیٹی کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ ان معاملات سے مجموعی انتخابی نتائج میں کوئی بنیادی تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے اعلان کے مطابق، تمام مراحل کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد حتمی اور سرکاری نتائج بدھ 4 نومبر (13 آبان) کو باضابطہ طور پر جاری کیے جائیں گے۔
اس کے بعد صیہونی صدر اسحاق ہرزوگ کنیسٹ میں کامیاب ہونے والی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت شروع کریں گے تاکہ حکومت سازی کی ذمہ داری کسی ایک امیدوار کو سونپی جا سکے۔
نئے منتخب ہونے والے کنیسٹ کے ارکان 10 نومبر (19 آبان) کو حلف اٹھائیں گے۔ تاہم، کسی بھی سیاسی اتحاد کے پاس مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باعث نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور مذاکرات بنیادی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔


مشہور خبریں۔
امریکی ایوان نمائندگان کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے ٹرمپ کا بغاوت کا منصوبہ پیش
?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:ٹرمپ انتظامیہ کے وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف کی طرف
دسمبر
پاکستان کشمیر اور فلسطین کے مظلوم لوگوں کی حمایت جاری رکھے گا: شہریار آفریدی
?️ 28 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی نے کہا
مئی
نیتن یاہو کو سیاسی اور فوج کو فوجی شکست کا سامنا
?️ 16 جنوری 2025سچ خبریں: 467 دن کی جنگ کے بعد غزہ میں جنگ بندی
جنوری
افغان صحافی یونین ابوعاقلہ کو انصاف دلانے کی کوشش کرنے والی عالمی تنظیم میں شامل
?️ 31 مئی 2022سچ خبریںافغانستان کی صحافی یونین مختلف ممالک کے صحافیوں اور انسانی حقوق
مئی
الجولانی کا یمن جنگ کے لیے 10 ہزار جنگجو سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ
?️ 20 اکتوبر 2026سچ خبریں:یمن میں جاری لڑائی کے دوران سعودی عرب کو درپیش مشکلات
اکتوبر
چیف جسٹس نہ ہونے پر کسی سے شکوہ نہیں، سینئر پیونی جج ہونے پر خوش ہوں، جسٹس منصور
?️ 30 جنوری 2025 کراچی: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے سینئر پیونی جج جسٹس منصور
جنوری
کسی کے لئے آئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کرسکتے،الیکشن کمیشن
?️ 5 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} الیکشن کمیشن میں بروز جمعہ 5 مارچ کو
مارچ
المعمدانی ہسپتال کے جرم میں صہیونیوں کے اندازے مسترد
?️ 19 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے المعمدانی اسپتال کے جرم
اکتوبر