?️
سچ خبریں:مصر نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد ہتھیاروں کو محفوظ رکھنا لیکن ان کے استعمال یا توسیع کو محدود کرنا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ خلع ہتھیار کی سابقہ کوششوں کی ناکامی کا اعتراف ہے۔
رپورٹوں کے مطابق، مصر نے لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جسے ” اسٹریٹجک معطلی ” کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ہتھیاروں کو محفوظ رکھنا ہے، لیکن ان کے استعمال یا توسیع کو محدود کرنا، اور اسے مصر کی ثالثی میں ایک عارضی اور غیر مستقیم نگرانی کے تحت نافذ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حزب اللہ کو فوری طور پر غیرمسلح ہونا چاہیے:امریکہ
یہ منصوبہ، جو اسرائیل کی لبنان میں جاری جارحیت کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، دراصل غیر مسلح کرنے یا حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی سابقہ کوششوں کی ناکامی کا اعتراف بھی ہے۔
اسٹریٹجک معطلی کیا ہے؟
اسٹریٹجک معطلی کے مطابق، حزب اللہ اپنے ہتھیاروں کو برقرار رکھے گی لیکن انہیں استعمال یا بڑھانے سے گریز کرے گی، سوائے ان مخصوص حالات کے جو پہلے طے شدہ ہوں یا سیاسی طور پر منظم ہوں۔ یہ مصر کی پالیسی کے مطابق، صورتحال کو مستحکم رکھنے کی کوشش ہے جب تک کوئی وسیع تر حل دستیاب نہ ہو۔ تاہم، یہ اصل مسئلے کو حل نہیں کرتا، بلکہ ہتھیاروں کو ایک غیر فعال قوت دفاعی کے طور پر برقرار رکھتا ہے۔
حزب اللہ کا موقف
حزب اللہ اصولی طور پر اس منصوبے کو تسلیم نہیں کرے گی کیونکہ مزاحمتی تحریک کے وجود میں آنے کا فلسفہ ہی عملی طور فعال قوت دفاعی پر مبنی ہے، تاہم، وہ موجودہ حساس حالات سے آگاہ ہے اور کسی بڑے تصادم سے اجتناب کرتی ہے، تاکہ لبنان میں استحکام قائم رہے۔ ممکن ہے کہ حزب اللہ اس منصوبے کو ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر قبول کرے، نہ کہ ایک الزام آور معاہدے کے طور پر، خاص طور پر اگر اس میں ہتھیاروں کے تحفظ کا ضمنی حق موجود ہو۔
اسرائیل کا ردعمل
اسرائیل اس منصوبے کے سب سے بڑے مخالفین میں شامل ہے، کیونکہ اسٹریٹجک معطلی حزب اللہ کو اپنے ہتھیاروں کو دوبارہ منظم کرنے اور فوجی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے،اسرائیلی موقف کے مطابق، اس منصوبے سے ان کی سکیورٹی کے لیے کوئی ضمانت نہیں ملتی۔
چیلنجز اور عملی مشکلات
اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ اس کا عملی نفاذ ہے۔ اسرائیل مسلسل لبنان میں حملے کر رہا ہے، جس سے معطلی کے تصور کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ حزب اللہ کا فوجی ڈھانچہ مرکزی یا کلاسیکی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور مربوط نیٹ ورک ہے، جسے ختم کرنا ممکن نہیں۔
ناکامی کی تصدیق
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی سابقہ کوششوں کی ناکامی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ 2006 کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیار ختم کرنے کی کوششیں کیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حزب اللہ میدان سے خارج نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں:لبنانی حکومت حزب اللہ کے مکمل خلع سلاح کی ذمہ دار ہے:امریکہ
نتیجہ
مصر کا یہ منصوبہ، اگرچہ ظاہری طور پر نیا لگتا ہے، بنیادی طور پر سابقہ معاہدوں سے مختلف نہیں ہے۔ جب تک اسرائیل کی تجاوزات جاری رہیں گی، کسی بھی کوشش سے صورتحال کو مستحکم کرنا مشکل ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل صرف طاقت کے ذریعے ہی سمجھتا ہے اور کوئی سفارتی معاہدہ یا اصطلاحات اس کی جارحیت کی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔


مشہور خبریں۔
روس افریقہ میں کیا ڈھونڈ رہا ہے؟
?️ 14 اگست 2025سچ خبریں: افریقی براعظم میں زیادہ موجودگی حاصل کرنے کے لیے روس
اگست
داعش اور شام کے تیل کے ذخائر کا استحصال
?️ 1 جنوری 2022سچ خبریں: کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ داعش دہشت گرد گروہ شمال
جنوری
کسی مائی کے لال میں ہمت ہے تو او آئی سی کانفرنس روک کردکھائے:وزیرداخلہ
?️ 19 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کسی مائی
مارچ
مری علاقے سے 700 گاڑیاں نکال لی گئی ہیں: شیخ رشید
?️ 8 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہےکہ مری
جنوری
پاکستان میں کوئی طاقتور نہیں ہے
?️ 24 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات
جولائی
کشتی حنظلہ پر اسرائیلی حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت
?️ 31 جولائی 2025کشتی حنظلہ پر اسرائیلی حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت غزہ
جولائی
خطے میں امن کی واپسی کا واحد راستہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ
?️ 5 اپریل 2025سچ خبریں: انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے کہا
اپریل
یمنی میزائل کتنی دیر میں نشانے تک پہنچ جاتے ہیں؟ امریکی کمانڈر کی زبانی
?️ 30 جنوری 2024سچ خبریں: امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے کمانڈر نے یمنی
جنوری