?️
سچ خبریں:امریکہ کی یورپ اور افریقہ میں تعینات فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈوناہو نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، صورتحال امریکی وزارت جنگ میں جاری وسیع تبدیلیوں اور اعلیٰ فوجی قیادت میں رد و بدل کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
روسیہ الیوم کے مطابق، امریکہ کی یورپ اور افریقہ میں تعینات فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈوناہو نے جمعرات کے روز جرمنی کے شہر ویسبادن میں واقع کلی کازرنے فوجی اڈے پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور کمان جنرل الیکسوس گرینکویچ کے حوالے کر دی، جو یورپ میں امریکی افواج کے نئے کمانڈر اور اس براعظم میں نیٹو کی اتحادی افواج کے اعلیٰ ترین کمانڈر بھی ہیں۔
جنرل کرسٹوفر ڈوناہو کا فوجی ریکارڈ انتہائی وسیع ہے۔ وہ اس سے قبل امریکی فوج کی خصوصی ڈیلٹا فورس اور فورٹ بریگ میں تعینات بیاسیویں فضائی ڈویژن کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
جنرل ڈوناہو کو اس منصب کے لیے جو بائیڈن نے نامزد کیا تھا، تاہم وہ صرف تقریباً اٹھارہ ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے، جو اس منصب کی معمول کی مدت کے مقابلے میں کم سمجھی جا رہی ہے۔
ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ گزشتہ کچھ عرصے سے وزارت جنگ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں اور اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفیوں کی بات کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ ایسے افسران اور جرنیلوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کے متنازع، غیر معمولی اور مبینہ طور پر غیر قانونی احکامات، جن میں ایران پر حملے سے متعلق احکامات بھی شامل ہیں، پر عمل درآمد سے انکار کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی وزارت جنگ اس سے قبل بحریہ کے سربراہ جان فیلن کے استعفے کا بھی اعلان کر چکی ہے۔ اسی طرح حال ہی میں فاکس نیوز نے امریکہ کے سرحدی گشت کے سربراہ کے عہدہ چھوڑنے کی خبر بھی نشر کی تھی۔
گزشتہ ہفتے امریکی فوجی حکام کی جانب سے جنرل ڈوناہو کے استعفے کی تصدیق کے بعد اس فیصلے کے پس منظر میں سیاسی عوامل سے متعلق قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں، اگرچہ پینٹاگون کے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور ان پر استعفیٰ دینے کے لیے کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا۔
دوسری جانب جرمن خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وزارت جنگ نے اس استعفے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ کی اس پالیسی سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت بائیڈن حکومت میں تعینات جرنیلوں کی تعداد کم کرنے اور فوجی کمان کے ڈھانچے کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جنرل الیکسوس گرینکویچ نے بھی اعلان کیا کہ اس تبدیلی کے ساتھ یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر کا عہدہ چار ستارہ جنرل سے کم کر کے تین ستارہ جنرل کے درجے پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے نئے کمانڈر کے اختیارات، نیٹو کے فوجی کمانڈروں کے ساتھ روابط اور امریکی فوجی ڈھانچے میں ان کے کردار پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال نے امریکہ کے بعض ریٹائرڈ فوجی حکام اور یورپی اتحادیوں میں اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ واشنگٹن بتدریج یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کم کر سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی امریکی وزیر جنگ جرمنی سے تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا حکم دے چکے ہیں۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کے رکن ممالک پر اس تنقید کے تسلسل میں کیا گیا تھا کہ وہ امریکی فوجی طاقت پر حد سے زیادہ انحصار کرتے ہیں اور واشنگٹن کی پالیسیوں کی مناسب حمایت نہیں کرتے۔
امریکی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے وسط تک یورپ میں تقریباً چھیاسی ہزار امریکی فوجی تعینات تھے، جن میں سے قریب انتالیس ہزار جرمنی میں موجود ہیں۔


مشہور خبریں۔
ہم نے قانون کے مطابق فیصلے کئے مگر ان پر تنقید کی گئی،چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ
?️ 8 اپریل 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ابراہیم نے کہا ہے کہ اپنے
اپریل
سعودی عرب میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، علاقائی استحکام پر مشاورت
?️ 18 مارچ 2026سچ خبریں:سعودی عرب عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس
مارچ
پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا رہے گا: صدر مملکت
?️ 4 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد میں
فروری
فرانس اپنی ایٹمی حکمتِ عملی کو اپٖڈیٹ کر رہا ہے
?️ 3 اکتوبر 2025فرانس اپنی ایٹمی حکمتِ عملی کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے فرانسیسی
اکتوبر
امریکہ یورپ کو توانائی کے بحران سے نہیں بچا سکتا: فنانشل ٹائمز
?️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں: انگریزی اخبار فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکہ تیل
ستمبر
عراق۔شام سرحد پر غیر معمولی امریکی فوجی نقل و حرکت
?️ 10 جون 2026سچ خبریں:عراق کے مغربی صوبے الانبار کے سکیورٹی ذرائع نے شام اور
جون
ہم سب سے زیادہ کیمیائی ہتھیاروں کا سب سے بڑا شکار ہوئے ہیں: ایران
?️ 28 جون 2026سچ خبریں:ایران کے وزیر امور خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے
جون
جنگ جاری رہی تو اسرائیل کا کیا بنے گا؟صیہونی جنرل کی زبانی
?️ 1 جون 2024سچ خبریں: ایک اعلیٰ صہیونی جنرل نے حماس اور حزب اللہ کے
جون