?️
سچ خبریں:امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی وزیر جنگ کی جانب سے اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفیوں اور چار ستارہ جنرلوں کی برطرفی نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوج کی کمان کو بحران اور قیادت کے خلا سے دوچار کردیا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں وزیر دفاع پیت ہگسٹ کے دور میں ہونے والی بڑے پیمانے پر برطرفیوں کے بعد امریکی فوج کی افراتفری کی صورتحال کا جائزہ لیا اور خبردار کیا کہ ایسے وقت میں جب امریکی فوج جنگ کی ایک نئی نوعیت، ڈرونز اور بڑھتے ہوئے میزائل خطرات کا سامنا کر رہی ہے، یہ صورتحال فوج کو اعلیٰ کمان کی سطح پر ایک سنگین خلا سے دوچار کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اپریل میں جنرل رینڈی جارج کو چیف آف اسٹاف کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے امریکی فوج کے پاس اس عہدے پر اب تک کوئی مستقل سربراہ نہیں ہے۔ ہگسٹ نے کم از کم مزید تین اعلیٰ افسران کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا ہے، جو جارج کے ممکنہ جانشینوں میں شمار ہوتے تھے۔
دوسری جانب امریکی وزیر فوج اور اس فورس کے اعلیٰ ترین سویلین عہدیدار ڈینیئل پی ڈریسکول بھی آنے والے مہینوں میں ٹرمپ حکومت سے الگ ہونے والے ہیں۔ موجودہ اور سابق امریکی حکام کے مطابق، ڈریسکول اور ہگسٹ کے درمیان بھی تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔
چار ستارہ جنرلوں کی تعداد میں نمایاں کمی
نیویارک ٹائمز نے مزید کہا کہ امریکی فوج میں قیادت کے خلا کی ایک علامت چار ستارہ جنرلوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہے۔ جنوری 2025 میں، جب ہگسٹ نے وزارت جنگ کی ذمہ داری سنبھالی تھی، امریکی فوج میں 10 فعال چار ستارہ جنرل موجود تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہوکر صرف پانچ رہ گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں کم ترین سطح ہے۔
علاقائی کمان کے بعض اہم عہدے، جن میں مشرق وسطیٰ اور ایشیا سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں، اب امریکی مسلح افواج کی دیگر شاخوں کے اعلیٰ افسران سنبھال رہے ہیں، جبکہ بعض عہدے کئی ماہ سے خالی پڑے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد امریکی فوج اپنے مصروف ترین ادوار میں سے ایک کا سامنا کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے فضائی دفاعی دستے ایرانی میزائل حملوں کے مقابلے میں اگلی صف میں موجود ہیں، جبکہ یورپ میں امریکی فوج کی کمان روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کو انٹیلی جنس اور معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ایرانی ڈرونز اور میزائل؛ امریکی فوج کے لیے نیا چیلنج
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی فوج کو اب ایسے خطرات کا سامنا ہے جنہوں نے جنگ کی نوعیت تبدیل کردی ہے، جن میں کم قیمت لیکن مہلک ڈرونز اور جدید میزائل شامل ہیں۔
جنگ کے دوران ایران اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر نمایاں دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہا ہے۔ 17 جولائی کو ایک ایرانی میزائل اردن کے ایک اڈے میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہ سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
جنگ کے پہلے ہی روز روس کے استعمال کردہ ڈرونز سے مشابہ شاہد ڈرونز کے بڑے پیمانے پر حملے کویت میں امریکی فوج کے ایک اڈے تک پہنچے، جس کے نتیجے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
امریکی فوج نے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے محدود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ استعمال کرلیا ہے۔ پیٹریاٹ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے خلاف امریکی دفاعی نظام کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
کمانڈروں کی برطرفی اور عملی صلاحیت میں کمی
ہگسٹ نے جنرل جارج کے علاوہ گزشتہ چند ماہ کے دوران تقریباً نصف درجن دیگر اعلیٰ افسران کو بھی برطرف یا استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکی فوج کے تجربہ کار ترین کمانڈروں کی ایک پوری نسل کمزور ہوئی ہے۔
کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن اور امریکی فوج کے سابق انٹیلی جنس افسر پیٹ ریان نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے دوران تجربہ کار ترین کمانڈروں کو ہٹانے سے فوجیوں کی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے اور امریکی کامیابی کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ یہ عمل فوجی افسران کو یہ پیغام دے سکتا ہے کہ واضح اور بے لاگ فوجی مشورہ دینا یا نظریاتی آزمائشوں میں ناکام ہونا ان کی ملازمت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔
اعلیٰ فوجی قیادت میں بحران
ہگسٹ نے گزشتہ اکتوبر میں جنرل جیمز منگس، نائب چیف آف اسٹاف، کو بھی مقررہ مدت سے ایک سال پہلے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد جنرل کرسٹوفر لَنو کو ان کا جانشین نامزد کیا گیا۔
تاہم سینیٹ میں اختلافات کے باعث ان کی توثیق کا عمل مشکلات کا شکار ہوگیا۔ اب لَنو نائب چیف آف اسٹاف کے عہدے کے علاوہ عارضی طور پر چیف آف اسٹاف کی ذمہ داری بھی سنبھال رہے ہیں؛ دونوں عہدے چار ستارہ جنرل کی سطح کے ہیں۔
تاہم انہیں اب بھی سینیٹ میں ریپبلکن ارکان کی جانب سے اپنے عہدے کو مستقل طور پر سنبھالنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل نہیں ہے۔
روس اور چین سے پیچھے رہ جانے کا خدشہ
ناقدین کا کہنا ہے کہ قیادت کا یہ خلا امریکی فوج کو روس اور چین کے ساتھ ٹیکنالوجی اور عسکری مقابلے میں پیچھے دھکیل سکتا ہے؛ ایسے ممالک جو اپنی مسلح افواج میں مصنوعی ذہانت اور نئے ڈرونز کے استعمال کو تیزی سے فروغ دے رہے ہیں۔
لَنو نے فوج کے لیے اپنے پہلے اہم پیغام میں خبردار کیا ہے کہ مستقبل کا میدان جنگ ماضی کی جنگوں سے بنیادی طور پر مختلف ہوگا اور فوج کو اس نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔
تاہم انہوں نے بنیادی فوجی مہارتوں کی طرف واپسی پر بھی زور دیا اور خبردار کیا: تربیت میں کوئی بھی شارٹ کٹ اور نظم و ضبط میں کوئی بھی خلل بالآخر خون کی قیمت پر ادا ہوگا۔


مشہور خبریں۔
توہین عدالت کا مرتکب قرار دیاگیا، اب کمیٹی اجلاس میں نہیں جاؤں گا، جسٹس جمال مندوخیل
?️ 27 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس
جنوری
امریکیوں کی شام کے شہر الحسکہ میں الفرات یونیورسٹی پر بمباری
?️ 9 فروری 2022سچ خبریں:شام کےشہرالحسکہ میں واقع الفرات یونیورسٹی کے سربراہ نے اعلان کیا
فروری
پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں دراڑ پڑنے لگی
?️ 3 جون 2022لاہور(سچ خبریں)پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں
جون
اسرائیلی فوج میں خواتین کو بھرتی کرنے کا مقصد کیا ہے ؟
?️ 4 دسمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل فرنٹ لائن پر آپریشنل یونٹس میں خواتین کے داخلے
دسمبر
جرمنی میں لازمی فوجی خدمت کے خلاف طلبہ کے وسیع احتجاجات
?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں:جرمنی کے مختلف شہروں میں ہزاروں طلبہ نے لازمی فوجی خدمت
دسمبر
’نفرت کو تفریح نہ بنائیں‘ عمران عباس کی بھارتی فلم ’دھرندھر‘ پر سخت تنقید
?️ 19 دسمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) بالی ووڈ کی تازہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا فلم دھُرندھر
دسمبر
ہمارے پاس گیس اورتوانائی نہیں ہے۔مصدق ملک
?️ 25 جون 2022کراچی(سچ خبریں)وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کاکہناہے کہ ہمارے پاس گیس اور توانائی
جون
امریکہ نے افغانستان کو کرپشن کے بلیک ہول میں کیا تبدیل
?️ 28 نومبر 2021سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکہ اور
نومبر