امریکہ عرب دنیا میں اپنی ساکھ کھو بیٹھا ہے:امریکی میگزین

عرب

?️

سچ خبریں:امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ کے مطابق عرب ممالک میں امریکہ کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے جبکہ چین اور روس کی ساکھ بڑھ رہی ہے۔ سروے نتائج کے مطابق غزہ جنگ اور اسرائیل کی حمایت واشنگٹن کی ساکھ کے زوال کی بڑی وجوہات ہیں۔

امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ نے عرب عوامی رائے میں امریکہ کی ساکھ کے واضح زوال کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب دنیا اب واشنگٹن کے بیانات اور اس کے عملی اقدامات کے درمیان تضاد کو بخوبی سمجھ رہی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کی حمایت سے متعلق امریکی پالیسیوں کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سرد جنگ کے بعد امریکہ نے اگرچہ مشرق وسطیٰ میں اپنی اثراندازی کسی حد تک برقرار رکھی، لیکن اسی عرصے میں اس نے خطے میں متعدد آمرانہ حکومتوں کی بھی حمایت جاری رکھی۔

عرب پبلک اوپینین انڈیکس، جو مشرق وسطیٰ میں عوامی رائے کے حوالے سے نسبتاً آزاد اور معتبر اداروں میں شمار ہوتا ہے، نے 2025 کے آخر میں آٹھ عرب ممالک میں کیے گئے سروے کے نتائج جاری کیے ہیں۔ ان نتائج پر مبنی ایک رپورٹ کا عنوان تھا امریکہ نے عرب دنیا کو کھو دیا ہے۔

سروے کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی مقبولیت پورے خطے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ یہ شرح عراق میں 24 فیصد، تیونس میں 14 فیصد جبکہ اردن اور فلسطینی علاقوں میں صرف 12 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس چین کی مقبولیت تیونس میں 69 فیصد اور شام میں 37 فیصد تک پہنچ گئی، جو امریکہ کے مقابلے میں واضح برتری ظاہر کرتی ہے۔

اسی طرح روس بھی کئی عرب ممالک میں امریکہ سے زیادہ مقبول دکھائی دیتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین کی پالیسیوں کی مقبولیت مراکش میں 33 فیصد، اردن میں 20 فیصد، تیونس میں 17 فیصد اور فلسطینی علاقوں میں 14 فیصد رپورٹ کی گئی۔ بعض ممالک، جیسے تیونس اور عراق میں 40 فیصد سے زائد افراد نے روس کی حمایت کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ خطے میں امریکہ کے بارے میں منفی رائے کی بنیادی وجہ اس کا اسرائیل کے ساتھ تعلق ہے۔ آٹھ ممالک میں اکثریتی رائے، جس میں مصر اور اردن میں 86 فیصد، فلسطینی علاقوں میں 84 فیصد اور لبنان میں 78 فیصد شامل ہیں، یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ اسرائیل کا کھلا حمایتی ہے۔

 عوام نے دیکھا کہ واشنگٹن نے غزہ میں استعمال ہونے والے ہتھیار اسرائیل کو فراہم کیے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کی حمایت کی اور ان بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں کی مخالفت کی جن کے قیام میں خود امریکہ شریک رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عرب حکومتیں اگرچہ مختلف درجے کی آمریت رکھتی ہیں، لیکن وہ عوامی رائے کے اثر سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ اسی لیے امریکہ کے ساتھ کھلا اتحاد یا ہم آہنگی، جو اب اخلاقی طور پر متنازع سمجھی جاتی ہے، ان حکومتوں کے لیے اندرونی سیاسی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں ایران کے خلاف ایک متحدہ محاذ یا امریکی موجودگی کے ساتھ علاقائی استحکام کے منصوبوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

سروے کے نتائج میں ایک اور اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ سات اکتوبر کے بعد عرب دنیا میں فرانس کی مقبولیت بھی امریکہ کے ساتھ ساتھ کم ہوئی، تاہم ستمبر 2025 میں فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کے بعد اس کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے مطابق تیونس میں فرانس کی مقبولیت 11 فیصد، مراکش میں 10 فیصد اور لبنان میں 7 فیصد تک پہنچی۔

نیشنل انٹرسٹ کے مطابق غزہ میں جاری صورتحال اور اسرائیل کی کارروائیاں عرب عوام کے لیے امریکہ کے خلاف ناراضی کا سب سے بڑا سبب بن چکی ہیں۔ اگرچہ موجودہ جنگ بندی موجود ہے، لیکن اس کی بار بار خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور یہ صورتحال عوامی تشویش کو کم نہیں کر سکی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، مسلسل فوجی کارروائیاں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد جیسے عوامل عرب رائے عامہ کے لیے بنیادی تشویش کا باعث ہیں۔

آخر میں رپورٹ یہ نتیجہ پیش کرتی ہے کہ امریکہ کے پاس اب دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ اپنے اخلاقی دعوؤں کو برقرار رکھے لیکن اپنی پالیسیوں میں تضادات کو بھی قبول کرے، جس سے اس کی ساکھ مزید کمزور ہوتی رہے گی۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے بیانیے اور عملی اقدامات کے درمیان فاصلے کو کم کرے اور اپنی پالیسیوں کو زیادہ ہم آہنگ بنائے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی اسرائیل سے مکمل لاتعلقی کا مطلب نہیں، بلکہ یکساں معیار کے اطلاق اور حقیقی دباؤ کے ذریعے ایسے نتائج حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل کر سکیں۔

عرب دنیا اب صرف بیانات پر قانع نہیں، بلکہ امریکی اقدامات کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ موجودہ رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن کے پاس اپنے اثر و رسوخ کے زوال کو روکنے کے لیے بہت محدود وقت باقی رہ گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکی وزیر خارجہ کا مغربی کنارے میں صہیونیستوں کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار 

?️ 13 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مغربی کنارےمیں صہیونیست گروہوں کی

ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام ’گوگل والٹ‘ پاکستان میں متعارف کرانے کا اعلان

?️ 27 دسمبر 2024سچ خبریں: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان سمیت مزید 16 ممالک

تل ابیب غزہ جنگ کے خاتمے کی ضمانت کیوں نہیں دینا چاہتا ؟

?️ 1 جون 2025سچ خبریں: المیادین کے ساتھ ایک انٹرویو میں فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک

امریکہ کا ایران اور چین کو چپ کی فروخت روکنے کا منصوبہ

?️ 5 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے نمائندوں کے ایک گروپ

غزہ میں جنگ بندی کے مسودے کی تازہ ترین صورتحال

?️ 15 جنوری 2025سچ خبریں: باخبر ذرائع کے مطابق ابتدائی مسودے پر اب فریقین کے

ملکی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی پر ہمارا ردعمل شدید ہوگا۔ محسن نقوی

?️ 21 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ

برطانوی اخبار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ شہباز شریف کی حکم امتناع کی درخواست مسترد

?️ 12 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) برطانوی عدالت کے جج نے وزیراعظم شہباز شریف اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے