صیہونی سیاست میں شدید بحران؛ نیتن یاہو ایک بار پھر حریدیوں کے سامنے جھکنے پر مجبور

نیتن یاہو

?️

سچ خبریں:اسرائیل میں حریدی جماعتوں اور نیتن یاہو کے درمیان معاہدے کے بعد کنسٹ کی تحلیل کا عمل مؤخر ہو گیا ہے۔ معاہدے کے تحت متنازع قوانین پر پیش رفت اور سیاسی رعایتوں کے بدلے پارلیمانی تعاون طے پایا ہے۔

اسرائیل میں توقع تھی کہ کنسٹ (پارلیمان) رواں ہفتے اپنی تحلیل کے عمل کو مکمل کر لے گا، تاہم نیتن یاہو اور حریدی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان اچانک سیاسی معاہدے کے بعد اس عمل کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔

صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حریدی جماعت شاس کے رہنما آریہ درعی اور جماعت دگل ہاتوراہ کے رہنما موشیہ گافنی کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی، جو حکومتی اتحاد کی جماعتوں کے اجلاس کے بائیکاٹ کے بعد ہوئی۔

صیہونی چینل کان کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں سیاسی اور قانون سازی سے متعلق معاملات پر مفاہمت طے پائی، جس میں آئندہ انتخابات کے وقت کے بارے میں بھی غیر رسمی ہم آہنگی شامل تھی۔ اندازوں کے مطابق اگلے انتخابات اکتوبر میں ہو سکتے ہیں۔

معاہدے کے مطابق حکومت کو ایک ایسا قانون منظور کرنا ہوگا جو تورات کی تعلیم سے متعلق ہو، جبکہ فوجی خدمات سے فرار ہونے والوں کی گرفتاری روکنے کے لیے ایک عارضی قانون بھی منظور کیا جائے گا۔

یہ دونوں قوانین کنسٹ کی تحلیل سے قبل دوسرے اور تیسرے مرحلے میں منظور کیے جائیں گے۔ اس کے بدلے میں حریدی جماعتیں نیتن یاہو کی حکومت کے بعض متنازع بلوں کی حمایت کریں گی، جن میں قانونی مشیر کے اختیارات محدود کرنے کا بل، میڈیا اصلاحات سے متعلق قانون، اور قومی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔

صیہونی میڈیا کے مطابق ان اقدامات کو اپوزیشن ’’عدالتی بغاوت‘‘ کا تسلسل قرار دے رہی ہے۔

یدیعوت احرونٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ کنسٹ کی تحلیل کو مؤخر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، حالانکہ اس سے قبل اندرونی اختلافات کے باعث پارلیمان کی تحلیل کے ابتدائی مرحلے میں منظوری دی جا چکی تھی۔

حریدی رہنماؤں آریہ درعی اور موشیہ گافنی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے مذہبی قیادت کی جانب سے نیتن یاہو کو ایک سخت مطالبہ پیش کیا ہے کہ فوری طور پر مطلوبہ قوانین کی منظوری کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر آئندہ دنوں میں عملی اقدامات نہ کیے گئے تو وہ کنسٹ کی تحلیل کی حمایت کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اجلاس میں یقین دہانی کرائی کہ وہ ان قوانین کی منظوری کے عمل کو تیز کریں گے۔

سیاسی دباؤ میں اضافے کے باوجود نیتن یاہو کنسٹ کی فوری تحلیل کے خلاف ہیں اور وہ باقی وقت کو اپنی حکومت کے لیے اہم قوانین کی منظوری میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن نے اس معاہدے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

گادی آیزنکوٹ نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ قومی مفاد کے بجائے سیاسی مفاد کو ترجیح دے رہے ہیں اور صیہونی معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔

یائیر لاپید نے کہا کہ نیتن یاہو اقتدار میں رہنے کے لیے ملک کو سیاسی سودے بازی کا شکار بنا رہے ہیں اور حریدی جماعتوں کو مراعات دے کر عوامی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

حریدی آبادی اسرائیل کی تقریباً تیرہ فیصد ہے اور وہ فوجی خدمات سے استثنا کا مطالبہ کرتی ہے، جس پر صیہونی سیاست میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

بنی گانتس نے کہا کہ آئندہ حکومت ایسی کسی سیاسی سودے بازی کی اجازت نہیں دے گی جس میں مفادات کے بدلے قومی فیصلے متاثر ہوں۔

اسی طرح دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی نیتن یاہو کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں اقتدار میں رہنے کے لیے خطرناک سیاسی سمجھوتے قرار دیا۔

ادھر لیکود پارٹی کے اندر بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور داخلی انتخابات کے معاملے پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

اگرچہ نیتن یاہو کو پارٹی فہرست میں محفوظ نشستیں دینے پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن اندرونی اختلافات کے باعث پارٹی میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں مناسب نشستیں نہ ملیں تو وہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں، جس سے صیہونی سیاست میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

عمران خان کی اہلیہ اور بہنوں کے خلاف کیسز کے حق میں نہیں ہوں، رانا ثنااللہ

?️ 24 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر اعظم

مشہور فلسطینی فٹ بال کھلاڑی صیہونی جارحین کے ہاتھوں شہید

?️ 12 مارچ 2024سچ خبریں: عرب میڈیا نے غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے

مسلم لیگ (ن) بڑے ہجوم اور گل پاشی کے ساتھ اپنے سربراہ کے استقبال کیلئے تیار

?️ 20 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کی کارکنان کو جمع اور متحرک

وزیر خزانہ کی امریکی سفیر سے ملاقات، معاشی منظرنامے اور ملک کو درپیش چلینجز پر بریفنگ

?️ 7 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے امریکی سفارت کار

مغربی کنارے میں مزاحمت ناقابل تسخیر ہے: حماس

?️ 18 دسمبر 2024سچ خبریں: حماس تحریک کے سربراہ محمود مرداوی نے کہا کہ ہم

قطر نے تل ابیب کی یروشلم کو یہودیانے کی کوشش کی مذمت کی

?️ 3 جنوری 2023سچ خبریں:   قطر کی مجلس الشوری نے اپنے ہفتہ وار اجلاس میں

جنگ کی دلدل کے بیچ میں گیلنٹ کی برطرفی کے ساتھ نیتن یاہو کا فرار

?️ 6 نومبر 2024سچ خبریں: امریکی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے چند گھنٹے قبل

کیا تیسری عالمی جنگ ہونے والی ہے؟ٹرمپ کا اظہار خیال

?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: سابق امریکی صدر اور 2024 کے صدارتی انتخابات کے امیدوار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے