?️
سچ خبریں: امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اور ممکنہ حتمی معاہدے پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نتن یاہو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میڈیا شخصیات اور اپنے قریبی امریکی سینیٹرز کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات کے نتائج کو اپنے حق میں موڑا جا سکے۔
اسرائیلی موقف پر شکوک
اس اسرائیلی ذریعے کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم ایران اور امریکہ مذاکرات کے دوران تہران کے مقاصد پر شکوک رکھتے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ ایران کبھی بھی نیک نیتی سے مذاکرات میں شامل نہیں ہوتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نتن یاہو کو یقین ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پائے گا، اور تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی حقیقی پابندی کو قبول نہیں کرے گا۔
میڈیا اور سیاسی شخصیات کے ذریعے اثراندازی
سی این این کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور 60 روزہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے بعد نتن یاہو نے دائیں بازو کے میڈیا حلقوں، خصوصاً امریکی میزبان مارک لیون جیسے افراد کو اپنے پیغام کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
مارک لیون نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے “بے معنی” قرار دیا اور ایران کے فنڈ کو مبہم اور غیر شفاف مالی نظام سے تعبیر کیا۔
سی این این نے بتایا کہ اس نے اس معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے رابطہ کیا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
امریکی سینیٹرز کے ذریعے دباؤ
رپورٹ کے مطابق نتن یاہو کا منصوبہ ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ پر اثر ڈالنے کے لیے اسرائیل کے حامی امریکی سینیٹرز کو بھی استعمال کریں۔
تاہم کچھ سینیٹرز جیسے لنڈسے گراہم نے اپنے سابقہ سخت مؤقف کے برعکس اب نرم رویہ اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکہ کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
لبنان سے متعلق اختلاف
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نتن یاہو نے ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل خود کو اس معاہدے کا پابند نہیں سمجھتا، خاص طور پر لبنان میں فوری اور مستقل جنگ بندی کے حوالے سے۔
اسرائیل نے اس سے پہلے امریکی دباؤ کے تحت لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کیا تھا۔
پس منظر
ایرنا کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ 9 اسفند 1404 (28 فروری 2026) کو شروع ہوئی۔
تقریباً 40 دن کی شدید لڑائی کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں اور امریکی و اسرائیلی ناکامی کے باعث مذاکرات شروع ہوئے۔
20 فروردین 1405 کو پاکستان کی ثالثی سے عارضی جنگ بندی ہوئی، تاہم بعد میں اس کی خلاف ورزی کی گئی۔
بعد ازاں 25 خرداد 1405 کو پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا، اور 28 خرداد کو دونوں ممالک کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
اس معاہدے کے مطابق جنگ اور فوجی کارروائیاں ختم ہو گئیں اور ایران کے خلاف بحری محاصرہ بھی ختم کر دیا گیا۔


مشہور خبریں۔
خودکش حملہ آور نے ٹیکسی ہائر کی، سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ابتدائی تحقیقات مکمل
?️ 23 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) آج صبح اسلام آباد کے علاقے سیکٹر آئی
دسمبر
راستہ تبدیل نہیں ہوگا، ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان
?️ 30 نومبر 2025مردان (سچ خبریں) سربراہ جمعیت علما اسلام مولانا فضل الرحمان نے کہا
نومبر
امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مذہبی تعصب پر مبنی قانون کے خلاف اہم قدم اٹھا لیا
?️ 22 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی ایوان نمائندگان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اپریل
صہیونی فلسطین میں کہیں بھی محفوظ نہیں
?️ 7 جنوری 2025سچ خبریں: مغربی کنارے کے شمال میں آج کی صیہونی مخالف کارروائی
جنوری
طالبان امریکی گاڑیوں کے ذریعہ کابل کی طرف روانہ
?️ 14 اگست 2021سچ خبریں:ایک امریکی نیوز چینل کے مطابق طالبان امریکہ سے غنیمت میں
اگست
حماس کے سیاسی بیورو کے نئے سربراہ کی آنکارا میں ترک وزیر خارجہ سے ملاقات
?️ 30 جولائی 2026سچ خبریں: ترک وزیر خارجہ ہاکن فیدان نے بدھ کی شب آنکارا
جولائی
یوم قدس فلسطین کی آزادی کے لیے ہماری جنگ کا حصہ ہے:سید حسن نصراللہ
?️ 14 اپریل 2023سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے فلسطین کی آزادی کی جنگ
اپریل
نیتن یاہو وائٹ ہاؤس جانے کے لئے بے صبری سے منتظر
?️ 28 جون 2023سچ خبریں:یدیعوت احارانوت اخبار کے مطابق اسرائیل میں بنجمن نیتن یاہو کی
جون