ٹرمپ ایران جنگ کے دلدل میں پھنس گئے؛ یورپی میڈیا میں امریکی طاقت کے زوال کی تصویر

صدر

?️

سچ خبریں: یورپی میڈیا نے اپنی تازہ رپورٹس اور تجزیوں میں ایران کے خلاف امریکہ کی نئی فوجی کارروائیوں کے بعد ایسی تصویر پیش کی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو دھمکی، فوجی مہم جوئی، جوابی حملوں اور تھکے ہوئے سفارتی عمل کے ایک ایسے چکر میں پھنسا ہوا دکھایا گیا ہے جو امریکی طاقت کے کمزور ہونے کی علامت بن چکا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے؟ اخبار کے مطابق گزشتہ دو روز میں امریکہ کے جنوبی ایران پر حملے اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام حملوں کے باوجود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنگ بندی "تکنیکی طور پر برقرار” ہے اور مذاکرات بھی جاری ہیں۔ گارڈین کے مطابق یہی دوہرا رویہ—یعنی ایک طرف حملے اور دوسری طرف سفارت کاری کا دعویٰ—مغربی میڈیا کی مرکزی بحث بن گیا ہے۔

اخبار نے ٹرمپ کو "غیر قابلِ اعتماد جنگی راوی” قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ بار بار قریب ترین معاہدے کی بات کرتے ہیں مگر کوئی معاہدہ سامنے نہیں آتا، جبکہ اس کے برعکس کشیدگی اور فوجی تبادلے جاری رہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میدانِ جنگ کی صورتحال اور ٹرمپ کے "فتح کے دعوؤں” کے درمیان تضاد امریکی صدر کی سیاسی تصویر کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

فرانسیسی اخبار لوموند نے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ "امن طاقت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے” ایران کے معاملے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ اخبار کے مطابق طویل جنگ اور اس کے اثرات نے امریکی خارجہ پالیسی کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔

لوموند نے لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں ایران کے خلاف اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں، بلکہ اس کے برعکس ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے میں، مزید مضبوط ہوئی ہے۔

اخبار کے مطابق یہ جنگ ٹرمپ کے لیے سیاسی بوجھ بن چکی ہے اور موجودہ صورتحال فوری امریکی فتح کے بجائے ایک ایسے ممکنہ معاہدے کی طرف جا رہی ہے جو ابتدائی امریکی اہداف سے مختلف ہے۔

خبر رساں ادارہ رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ صورتحال امریکی صدر کے لیے اندرونی سیاسی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر وسط مدتی انتخابات کے قریب۔

رپورٹ میں ایران کے جوابی میزائل حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکی کارروائیاں بحران کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید وسیع کر رہی ہیں۔

اسی دوران فنانشل ٹائمز نے انسانی صورتحال پر رپورٹ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے مطابق ہرمزگان صوبے میں دو پانی کے ذخائر پر حملے کے بعد 20 ہزار سے زائد افراد پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ ذخائر شہر کوہستک اور اس کے اطراف کے 10 دیہات کو پانی فراہم کرتے تھے، اور ایرانی حکام نے اس حملے کو شدید گرمی میں عام شہریوں کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔

مجموعی طور پر یورپی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں کسی فوری کامیابی کے بجائے ایک طویل اور تھکا دینے والے بحران میں تبدیل ہو چکی ہیں، جس میں کمزور جنگ بندی، ایران کے جوابی حملے، توانائی منڈیوں کا دباؤ، آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور ٹرمپ پر سیاسی دباؤ سب مل کر واشنگٹن کی حکمتِ عملی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

لاہور دھماکے کے تانے بانے بھارت سے جُڑتے ہیں

?️ 24 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے مشیر قومی سلامتی معید

اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، خطے میں بدلتی صورتحال پر اظہارِ تشویش

?️ 6 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار

اسرائیل نے غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا، الجزیرہ نے اہم انکشاف کردیا

?️ 26 مئی 2021غزہ (سچ خبریں)  الجزیرہ نیٹ ورک کے فوج ماہر نے اسرائیلی دہشت

ریاض بڑے پیمانے پر بیجنگ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں: بلومبرگ

?️ 16 جون 2023سچ خبریں:امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ریاض کی جانب سے عرب

صہیونیوں کو اپنے فوجیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا خوف

?️ 6 جنوری 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تردید

بائیڈن عربوں کو صیہونی جال میں پھسانے میں ناکام

?️ 14 ستمبر 2022سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد نے موجودہ امریکی صدر پر الزام عائد

محمود عباس کی تنظیم کا ہمارے ساتھ قریبی تعاون ہے :اولمرٹ 

?️ 3 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے صیہونی حکومت

امریکہ کی لبنانی عہدیداروں کے خلاف نئی پابندیاں

?️ 19 جون 2026سچ خبریں:امریکی وزارت خزانہ نے اپنے تازہ ترین مخالفانہ اقدام میں بعض

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے