?️
سچ خبریں: پیرس نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی حکام کے خلاف "جنگی جرائم” اور "تشدد” کے الزامات پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ عدالتی کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب عالمی امدادی قافلے "صمود” کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کے مبینہ غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک کے سنگین انکشافات سامنے آئے۔
گرفتار کیے گئے انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ "شدید بدسلوکی”، "تشدد” اور "جنسی زیادتی” جیسے الزامات کی جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ کارکن غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے جا رہے تھے مگر انہیں بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فوج نے روک لیا۔
تحقیقات کا آغاز اور انسانی بحران کا ردِعمل
فرانسیسی انسدادِ دہشت گردی پراسیکیوٹر کے مطابق یہ مقدمہ فرانسیسی حکومت کی براہ راست درخواست پر قائم کیا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب درجنوں انسانی حقوق کے کارکنوں نے "منظم انتقامی کارروائی”، "جسمانی تشدد” اور "جنسی ہراسانی” جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔
کارکنوں کے ہولناک انکشافات
کاروان کے فرانسیسی ارکان کی واپسی کے بعد متعدد چونکا دینے والی شہادتیں سامنے آئیں۔ ترجمان ہیلن کورون کے مطابق کم از کم 15 افراد کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی کارکنوں کی پسلیاں اور ہنسلی کی ہڈیاں توڑ دی گئیں جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔
فرانسیسی نرس اور کارکن مالیکا باویا نے بتایا کہ انہیں ایک تاریک کنٹینر میں تین نقاب پوش فوجیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، اور سانس کی تکلیف کے باوجود مار پیٹ جاری رکھی۔
ڈچ کارکن جیس فان شائک نے بھی بتایا کہ انہیں زبردستی برہنہ کیا گیا، زمین پر گھسیٹا گیا اور ہتھکڑیاں لگا کر تشدد کیا گیا۔
اسرائیلی وزیر کی ویڈیو اور عالمی ردِعمل
اسرائیلی وزیر ایتامار بن گویر کی ایک ویڈیو، جس میں گرفتار کارکنوں کو ہتھکڑیوں میں دکھایا گیا، عالمی سطح پر شدید غم و غصے کا باعث بنی۔ اس کے بعد فرانس نے ان کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔
اسی دوران اکتوبر 2025 میں 450 سے زائد کارکنوں کی گرفتاری کے واقعات اور ان پر تشدد کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر ردِعمل
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والا روزمرہ تشدد اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، اس لیے یہ کیس نسبتاً کم شدت کا ہے۔
طبی ماہرین نے بھی دعویٰ کیا کہ غزہ میں امدادی عملے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور کئی ڈاکٹرز دورانِ امداد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی اور یورپی ردِعمل
عرب اور اسلامی ممالک کے آٹھ وزرائے خارجہ نے اسرائیلی اقدامات کو "انسانی وقار پر حملہ” قرار دیا۔
یورپ میں فرانس، اٹلی اور آئرلینڈ سمیت کئی ممالک نے اسرائیلی حکام کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ آئرلینڈ نے بن گویر اور وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ پر پابندی لگا دی۔
اس کے علاوہ یورپی یونین میں بھی اسرائیلی وزراء پر پابندیوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم جرمنی، آسٹریا اور چیک ریپبلک کی مخالفت کے باعث فیصلہ تعطل کا شکار ہے۔
صمود فلوٹیلا اور غزہ کی صورتحال
"صمود” قافلہ، جس میں 50 سے زائد بحری جہاز اور 44 ممالک کے 428 کارکن شامل تھے، غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہوا تھا۔
غزہ، جو 2012 سے محاصرے میں ہے، اکتوبر 2023 کے بعد مکمل انسانی بحران کا شکار ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک 72,956 افراد جاں بحق اور 173,043 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں کیونکہ امدادی ٹیمیں مسلسل بمباری اور ناکہ بندی کے باعث متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہیں۔
بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال کو انسانی تاریخ کی بدترین سانحات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا مغربی ممالک واقعی ان مبینہ جنگی جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے یا نہیں۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی حکومت کے حملے انسانیت کے خلاف جرم ہیں: مغرب
?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: مغرب کی اسلامسٹ پارٹی برائے انصاف و ترقی کے سیکرٹری
اکتوبر
شمالی وزیرستان میں فورسز اور دہشتگردوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 2 جوان شہید
?️ 27 فروری 2023شمالی وزیرستان: (سچ خبریں) شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سیکیورٹی
فروری
سعودی حکومت کے مخالفین میدان میں آنے والے ہیں:امریکی میڈیا کا انتباہ
?️ 3 جنوری 2023سچ خبریں:ایک امریکی اخبار نے سعودی ولی عہد کی آمرانہ پالیسیوں اور
جنوری
چین نے نیا ریلے سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا
?️ 8 جولائی 2021بیجنگ(سچ خبریں) چین نے حال ہی میں خلائی مشن شِن زھو- 12
جولائی
سوڈان میں سیاسی معاہدے کا حتمی ڈھانچا دستیاب ہوا
?️ 12 فروری 2023سچ خبریں:ایک بیان میں سوڈان کی گورننگ کونسل نے موجودہ بحران کے
فروری
شیخ رشید نے عمران خان کو خوش نصیب اور نواز شریف کو بدنصیب قرار دے دیا
?️ 2 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ
فروری
پاکستان میں جماعت علمائے اسلام کے رہنما پر قاتلانہ حملہ
?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں:پاکستان میں جماعت علمائے اسلام نے اس جماعت کے سربراہ مولانا
جنوری
عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کا اعلان
?️ 3 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر
جولائی