ٹرمپ نے قانونی شکست کے بعد دوبارہ ٹیرف جنگ شروع کر دی

امریکی صدر

?️

سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے فروری میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ہنگامی اختیارات کے تحت فوری طور پر ٹیرف عائد کرنے کی حدود مقرر کیے جانے کے بعد، نئی تجارتی اقدامات کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔

امریکی حکومت نے اس ہفتے اپنے تجارتی شراکت داروں کے خلاف نئے اقدامات کا آغاز کیا ہے، جو سپریم کورٹ کی پابندیوں کے بعد ٹیرف پالیسی کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

امریکی تجارتی حکام نے تجویز دی ہے کہ برازیل سے آنے والی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے۔ اسی طرح ویتنام کے ساتھ تجارتی تعلقات پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ 60 سے زائد ممالک، جن میں یورپی یونین بھی شامل ہے، پر 10 سے 12.5 فیصد ٹیرف لگانے کی تجویز زیر غور ہے، جس کی وجہ جبری مشقت سے متعلق قوانین بتائے گئے ہیں۔

مزید یہ کہ واشنگٹن مختلف ممالک میں صنعتی پیداوار کی زائد صلاحیت اور حکومتی سبسڈیوں کے بارے میں بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ امریکی حکومت نے کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے انتظام سے متعلق اپنے منصوبوں پر بھی رائے دیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں ہنگامی اختیارات کے ذریعے فوری ٹیرف لگانے پر پابندی کے بعد، ٹرمپ انتظامیہ اب براہِ راست احکامات یا سوشل میڈیا اعلانات کے ذریعے نئے ٹیرف نافذ نہیں کر سکتی۔ اس کے بجائے اسے پرانے قوانین کا سہارا لینا پڑ رہا ہے جن کے تحت باقاعدہ تحقیقات، رپورٹس اور عوامی مشاورت ضروری ہوتی ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے محقق پیٹر ہارل کے مطابق یہ قوانین مکمل طور پر انتظامی مراحل پر مبنی ہیں، اور اب حکومت یکطرفہ طور پر فوری فیصلے نہیں کر سکتی بلکہ اسے قانونی کارروائی کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔

اگرچہ کئی غیر ملکی حکام توقع کر رہے ہیں کہ امریکہ گزشتہ تجارتی معاہدوں کے تحت طے شدہ ٹیرف برقرار رکھے گا، لیکن بعض ممالک کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مزید بلند شرحیں عائد کر سکتی ہے۔

اسی دوران امریکی حکومت کو ایک طرف ٹرمپ کے سخت ٹیرفی دباؤ اور دوسری طرف مہنگائی اور انتخابات سے قبل عوامی اخراجات میں اضافے کے درمیان توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی تناظر میں واشنگٹن نے زرعی آلات اور صنعتی مشینری پر کچھ ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیے ہیں تاکہ امریکی کسانوں اور صنعت کاروں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

نئے ٹیرف کی بڑی اکثریت 1974 کے تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے تحت تیار کی جا رہی ہے، جسے امریکی حکام قانونی طور پر زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بھی عدالتی چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے، کیونکہ اس قانون کو کبھی ایک ساتھ درجنوں ممالک پر بڑے پیمانے پر ٹیرف لگانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ واشنگٹن چین کے ساتھ معاشی تعلقات کے انتظام کے تحت کچھ درآمدی اشیا پر ٹیرف کم کرنے کے لیے بھی تیار ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ ایک طرف سخت تجارتی دباؤ بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف بڑی معیشتوں کے ساتھ لچک بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

مشہور خبریں۔

فیصل سلطان نےڈیجیٹل ویکسینیشن پاسپورٹ کو وقت کی ضرورت قرار دیا

?️ 12 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت

وزیراعظم شہباز شریف کی سری لنکن صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

?️ 24 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی

ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری کے نام پر 12 ارب کا فراڈ کرنےوالا گروہ گرفتار

?️ 1 مارچ 2025ملتان: (سچ خبریں) ایف آئی اے نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ٹریڈنگ

موبائل اشتہارات کے ذریعے عالمی سطح پر جاسوسی

?️ 3 جون 2026سچ خبریں:نئی تحقیق کے مطابق دنیا بھر کی انٹیلی جنس اور قانون

امریکہ میں نسل پرستی کا سلسلہ جاری،افریقی تاریخ پڑھانا ممنوع!

?️ 28 جنوری 2023سچ خبریں:فلوریڈا کے حکام نے حال ہی میں نسل پرستی کا ثبوت

یمن کی جنگ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے: انصاراللہ

?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں:یمنی عوامی تنظیم انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے ایک رکن نے

یورپ یوکرین میں امن کی راہ میں کیوں رکاوٹ ڈال رہا ہے؟

?️ 16 دسمبر 2025سچ خبریں:  یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن اور ماسکو کی کوششوں

لندن تک پہنچیں نتین یاہو کی بدعنوانیاں

?️ 29 جون 2023سچ خبریں: ایک یہودی تاجر نے لندن کی ایک عدالت میں پیش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے