?️
سچ خبریں: برطانیہ کی وزیر خزانہ، جو ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ملک کے مالی معاملات کو منظم کرنے کا راستہ تلاش کر رہی ہیں، نے ایک غیرمعمولی بیان میں آبنائے ہرمز میں امریکی صدر کی حالیہ مہم جوئی پر شدید غصے اور پریشانی کا اظہار کیا ہے۔
ریچل ریوز نے مرر اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "یہ وہ جنگ ہے جسے ہم نے شروع نہیں کیا۔ یہ وہ جنگ تھی جو ہم نہیں چاہتے تھے۔”
انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی رویے پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا: "میں واقعی بہت پریشان اور غصے میں ہوں کہ امریکہ اس جنگ میں بغیر کسی واضح خارجی منصوبے اور بغیر اس کی واضح تصور کے داخل ہوا کہ وہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بغیر واضح مقاصد کے اور بغیر اس سے نکلنے کا راستہ متعین کیے کسی تنازعے کا آغاز کرنا ایک ایسا اقدام ہے جس کے نتائج اب برطانیہ، امریکہ اور پوری دنیا کے خاندانوں کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ریوز نے مزید کہا: "نتیجتاً، آبنائے ہرمز اب مسدود کر دی گئی ہے۔”
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانیہ میں توانائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ تیل کی ترسیل کے اہم راستوں میں رکاوٹ نے زندگی کے اخراجات اور گھرانوں کے بجٹ پر دوہرا دباؤ ڈال دیا ہے، جس سے کیئر اسٹارمر کی حکومت کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔
برطانوی حکومت نے اپنے سرکاری موقف میں براہِ راست تنازعے سے دوری اختیار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں بحران کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسٹارمر پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ لندن ایران کے خلاف جارحیت کے قانونی مبادیات پر شک رکھتا ہے اور اس جنگ میں شریک نہیں ہوگا۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے گزشتہ ہفتے بھی سخت لہجے میں کہا تھا کہ وہ اس صورتحال سے "پریشان” ہیں کہ برطانیہ میں گھرانے اور کاروباری ادارے بیرونی تبدیلیوں اور غیر ملکی رہنماؤں کے فیصلوں کی وجہ سے ایک بار پھر توانائی کے بلوں میں اتار چڑھاؤ اور اضافے کو برداشت کریں۔ انہوں نے ان بیانات میں ٹرمپ کا نام ولادیمیر پوٹن کے ساتھ لیا لیکن ان کی تقریر کی مرکزی توجہ یہ تھی کہ برطانیہ کے عوام کو بین الاقوامی بحرانوں کے جھٹکوں کی قیمت نہیں چکانی چاہیے۔
مجموعی طور پر، برطانوی وزیر خزانہ کا غیرمعمولی لہجہ اور اسٹارمر حکومت کی وائٹ ہاؤس کے رویے سے واضح دوری نے ایک بار پھر لندن اور واشنگٹن کے درمیان تقسیم کی علامات کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہ تقسیم کسی محدود حکمتِ عملی کے اختلاف پر نہیں، بلکہ ایک مہنگی اور بے مقصد جنگ کے اخراجات پر دو قدیم مغربی اتحادیوں کے درمیان وجود میں آئی ہے۔
برطانیہ میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال جتنی طویل ہوگی اور اس کے نتیجے میں برطانیہ پر معاشی اور سیاسی دباؤ جتنا بڑھے گا، دونوں فریقوں کے درمیان فاصلہ اتنا ہی گہرا ہوتا جائے گا، اور لندن اور واشنگٹن کے خصوصی تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ کشیدگی اور کٹاؤ کا شکار ہو جائیں گے۔


مشہور خبریں۔
ایران نے صیہونیوں کے ساتھ کیا کیا ہے؟ نیتن یاہو کی زبانی
?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ ایران
اکتوبر
برطانیہ میں جمہوریت ایک افسانہ: امریکی میگزین
?️ 28 جولائی 2022سچ خبریں:ایک امریکی میگزین نے برطانوی عوام کی سیاست اور زندگی پر
جولائی
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کردیا
?️ 16 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے
اپریل
اردوغان دوبارہ کیسے جیت گئے؟
?️ 23 مارچ 2024سچ خبریں: وسیع پیمانے پر معاشی بحران، مرعش اور آس پاس کے
مارچ
شاہ محمود قریشی نے عمران خان کی رہائی مہم میں شمولیت کی مبینہ پیشکش مسترد کر دی
?️ 2 نومبر 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے
نومبر
امریکہ کے لیے یمن میں زمینی حملے کی مشکلات
?️ 25 اپریل 2025سچ خبریں: امریکہ کے یمن کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے اور گزشتہ
اپریل
ریاست اور سیاست دونوں کی کامیابی سیرتِ طیبہ ﷺ پر عمل کرنے پر ہے۔ مریم نواز
?️ 6 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ ریاست
ستمبر
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل سمیت دوسری مصنوعات میں کمی کا اعلان کر دیا
?️ 16 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خزانہ حماد اظہر نے پیٹرول اور ڈیزل کی
اپریل