?️
سچ خبریں: سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کے پس پردہ مختلف تجزیوں کے تناظر میں، روزنامہ الاخبار نے ایک رپورٹ میں اس معاہدے کے ابعاد اور اسباب کا جائزہ پیش کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مکہ معاہدہ ریاض کے سیکورٹی حسابات میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جو امریکی بازدارندگی کے امیج کے کٹاؤ اور مزید یقین دہانیوں کی تلاش کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ معاہدہ امریکہ کے بعد خلیج فارس کی راہ ہموار کرتا ہے یا محض امریکی پالیسی کو علاقائی پراکسی فورسز کے ذریعے دوبارہ پیدا کرتا ہے؟
سعودی عرب کا امریکی دھوکے کو تسلیم کرنا
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہ نہیں ہے کہ آیا یہ حقیقی فوجی اتحاد میں تبدیل ہو گا، یا تینوں ممالک کی فوجیں کبھی ایک محاذ پر لڑیں گی۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سعودی عرب، جس نے دہائیوں تک اپنی سیکورٹی امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنیاد پر استوار کی تھی، عملاً یہ تسلیم کرنا شروع کر رہا ہے کہ امریکی سیکورٹی چتر تنہا اب کافی نہیں، اور اپنے تمام سیکورٹی انڈے امریکی ٹوکری میں ڈالنا اب ایک پائیدار پالیسی نہیں رہی۔
اس معاہدے سے پہلا تاثر یہ ہے کہ سعودی عرب نے نہ تو امریکہ کے خلاف موقف اختیار کیا ہے اور نہ ہی امریکی ہتھیاروں یا فوجی تعاون کو ترک کیا ہے۔ لیکن اس طرح کے معاہدے کی جانب بڑھنے کا مطلب علاقائی فریقین خصوصاً خلیجی ممالک کی جانب سے اس حقیقت کا ادراک ہے کہ امریکہ ان کا محافظ نہیں رہ سکتا۔
لہٰذا، یہاں اہم یہ نہیں کہ خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب اب بھی امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات جاری رکھے ہوئے ہیں، بلکہ اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کا خلیجی ممالک میں اثر و رسوخ صرف وہاں اس کے اڈوں کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ اس کی بنیاد علاقائی ممالک کو یہ باور کرانے پر تھی کہ امریکہ کے بغیر کوئی سیکورٹی ممکن نہیں۔
لہٰذا، جب خود امریکہ کے اتحادی، بشمول اس کے اہم ترین اتحادی سعودی عرب، متبادل حمایتی چتر کی تلاش شروع کر دیں، تو اس کا مطلب ہے کہ حالیہ علاقائی جنگ کے بعد امریکہ کا پروجیکٹ اور خلیجی ممالک میں اس کے اثر و رسوخ کی بنیاد بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔
یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی فوج روایتی معنوں میں شکست کھا گئی ہے۔ بلکہ، اس تجربے نے امریکی بازدارندگی کے امیج کو نقصان پہنچایا، کیونکہ واشنگٹن کے اتحادی ممالک، جو یہ محسوس کرتے تھے کہ امریکہ ان کا حتمی ضامن ہے، اس جنگ میں یہ سمجھ گئے کہ انہیں اپنے حسابات تبدیل کرنے اور مزید حقیقی یقین دہانیوں کی تلاش کرنی ہوگی۔
سعودی ڈالرز کا امریکہ کے بعد ترکیہ اور پاکستان کی جانب منتقلی
مکہ معاہدے کے نام سے موسوم اس معاہدے کے بارے میں، پاکستان سعودی عرب کو فوجی اور جوہری اہرام فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ترکیہ دفاعی صنعتوں اور فوجی مہارت فراہم کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب دونوں فریقوں کو پیسہ، مارکیٹ اور سرمایہ کاری فراہم کر رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، یہ مفادات کا تبادلہ ہے، اسلامی برادری کا اجتماع نہیں، اور یہ زیادہ حقیقت پسندانہ تشخیص ہے۔
لیکن اس دوران ایک سوال جو بہت سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے گا، وہ یہ ہے: اگر پاکستان بھارت کے ساتھ مکمل تصادم میں پڑ جائے تو کیا ہوگا؟ کیا ترکیہ اور سعودی عرب خود کو اس کے ساتھ جنگ میں سمجھیں گے؟ کیا کشمیر اچانک سعودی عرب کی قومی سلامتی کا حصہ بن جائے گا؟ یا ایک پر حملہ، سب پر حملہ کے اصول کو پہلے حقیقی امتحان میں بہت زیادہ وضاحت اور تشریح کی ضرورت ہوگی؟
فلسطین کے حامیوں کا دھوکہ افشا
اس معاہدے کے بارے میں ایک اور نکتہ جو سب سے زیادہ شرمناک ہے، وہ فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے دستخط کنندگان کے جھوٹ کا افشا ہے، جہاں ان تینوں ممالک نے، جب ان کی اپنی براہ راست سیکورٹی کی بات آئی، تو وہ بیانات سے اجتماعی بازدارندگی کے تصور کی طرف بڑھ گئے۔ لیکن غزہ کے معاملے میں انہوں کوئی عملی اقدام نہیں کیا، اور جبکہ وہ فلسطینیوں کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، محض مذمتی بیانات پر اکتفا کیا۔
لہٰذا، ان عربی اور اسلامی ممالک کے نزدیک جو فلسطین کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جب ان کی اپنی سیکورٹی خطرے میں ہوتی ہے تو عملی بازدارندگی ایک فوری معاملہ بن جاتی ہے، لیکن جب فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو بازدارندگی محض ایک اخلاقی معاملہ رہ جاتی ہے۔
یہاں ہمارا مقصد ان ممالک کی طرف سے غزہ میں فوج بھیجنے کا مطالبہ نہیں، لیکن فلسطینیوں کو یہ پوچھنے کا حق ہے کہ ان تینوں ممالک کے تحفظ کے لیے دفاعی عہد تو بنایا گیا، لیکن اسرائیل کی غزہ کے خلاف نسل کشی جنگ کو سیاسی، معاشی اور فوجی طور پر اس حکومت کے لیے مہنگا بنانے کے لیے دباؤ کا کوئی حقیقی نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟
حقیقت تو یہ ہے کہ شروع سے ہی فلسطین عربی اور اسلامی گفتگو کا حصہ رہا ہے، نہ کہ خود سیکورٹی کے تصور کا حصہ۔
لہٰذا، اس معاہدے کی اہمیت یہ جاننے میں نہیں ہے کہ کیا ترکیہ بھارت سے لڑے گا یا کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوج بھیجے گا۔ بلکہ یہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ ریاض نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس کی سیکورٹی کا راستہ خصوصی طور پر واشنگٹن سے نہیں گزرتا۔
یہ اپنے آپ میں امریکہ کے لیے ایک قابل ذکر نقصان ہے، کیونکہ سلطنتیں اس وقت زوال پذیر ہونے لگتی ہیں جب ان کے اتحادی ان کے وجود کی ضرورت پر سے اپنا ایمان کھو دیتے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
امریکی غنڈہ گردی نے ویانا مذاکرات کو طولانی کیا
?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں: سرکاری خبر رساں ایجنسی سنہوا نے ایران پر
ستمبر
امریکی صدر کے دورۂ سعودی عرب کے اغراض و مقاصد
?️ 23 مئی 2022سچ خبریں:سعودی ولی عہد سے ٹیلی فون پر بھی بات کرنے کے
مئی
واشنگٹن کی محفوظ راستے کھولنے کی درخواست داعش سے امریکی تعلقات کی علامت ہے: انصار اللہ
?️ 17 اکتوبر 2021یمنی انصار اللہ کے ترجمان نے داعش اور القاعدہ سے امریکی تعلق
اکتوبر
ٹرمپ کی ضیافت میں بن سلمان؛ امریکہ کے کاغذی وعدوں کے بدلے سعودی سرمایہ
?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا واشنگٹن کا
نومبر
لبنان میں نیتن یاہو کی ون اسٹاپ شاپ پالیسی؛ جنگ بندی کمیٹی کے اجلاسوں سے لے کر دہشت گردی کی نئی فہرست کی اشاعت تک
?️ 5 دسمبر 2025سچ خبریں: 27 نومبر 2024 کو لبنان اور صیہونی حکومت کے درمیان
دسمبر
بغداد میں امریکی سفارت خانہ ہے یا فساد و فحشا کا اڈا؟
?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: عراق کے ایک سیاسی کارکن نے بغداد میں امریکی سفارت
اپریل
ٹرمپ کی مقبولیت تاریخی کم ترین سطح پر؛ فائننشل ٹائمز کا سروے
?️ 6 ستمبر 2026سچ خبریں:فائننشل ٹائمز کے لیے فوکل ڈیٹا کے سروے کے مطابق ڈونلڈ
ستمبر
اپستین اسکینڈل دوبارہ سرخیوں میں، ٹرمپ کا میڈیا سے نیا تصادم
?️ 24 دسمبر 2025اپستین اسکینڈل دوبارہ سرخیوں میں، ٹرمپ کا میڈیا سے نیا تصادم امریکا
دسمبر