?️
سچ خبریں: روس کے ممتاز فلسفی الیگزینڈر دوگین نے شہید امام خامنہ ای کی شخصیت اور اُن کی شہادت پر ایک تفصیلی انٹرویو میں گہرے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
دوگین کا کہنا ہے کہ شہادت نے شہید امام خامنہ ای کو امر کر دیا اور ایران و روس اب ایک مشترکہ دشمن کے خلاف ایک ساتھ ہیں۔
شہادت کا تصور اور الہی روایات سے اس کا جوڑ
انٹرویو کے آغاز میں دوگین نے پورے ایرانی قوم سے رہبری کی اس عظیم کمی پر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تشیع کی روایت، دین اور ایرانی ثقافت کا کئی سالوں سے مطالعہ کر رہے ہیں اور اگرچہ وہ ایک آرتھوڈوکس مسیحی ہیں، لیکن ایران کے ساتھ بے شمار مشترکات ہیں۔
دوگین نے کہا کہ ہمارا ایران کے ساتھ سب سے اہم تعلق شہیدوں کی ثقافت ہے۔ یونانی زبان میں شہید کو مارتِروس کہتے ہیں جس کا مطلب ہے وہ شخص جو رنج اٹھاتا ہے اور ساتھ ہی گواہی دیتا ہے۔ شہید صرف ایک رنج کشیدہ نہیں بلکہ حقیقت کا گواہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے گہرا دکھ ہے اور ان مجرموں پر غصہ ہے جنہوں نے انقلابی رہبر کے خلاف یہ ہولناک جنایت کی، لیکن میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ ان عظیم انسانوں کا رنج سازگار ہے۔ اُن کی شہادت خود حیات ہے اور اُن کی زندگی کے دور سے بھی زیادہ اہم ہے۔ یہی حق کی راہ میں موت کا کرت ہے جو مستقبل کے دور کی تشکیل کرتا ہے اور ایرانی قوم اس حقیقت کو ہر کسی سے بہتر سمجھتی ہے۔
ولایت فقہ میں رہبر کا وجودی کردار
دوگین نے ایران کے سیاسی نظام ولایت فقہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نظام کی سب سے اہم خصوصیت کنشِ حضور ہے۔ اُن کے بقول کہ اہمیت رہبر کے محض ہونے میں ہے، نہ کہ ضروری طور پر وہ کیا لکھتے، کہتے یا کیسے حکومت کرتے ہیں۔ اُن کا وجود ہی اس اصیل سیاسی نظام کا عروج اور ستون ہے۔
دوگین نے اعتراف کیا کہ میں ایران کے سیاسی نظام کا گہرا دلدادہ ہوں، کیونکہ اس کی سربراہی ایک روحانی شخصیت کرتی ہے جو محض ایک سیاستدان یا دانشور سے فراتر ہے۔ اگرچہ شہید امام خامنہ ای فکری اور انتظامی شعبوں میں بھی بے مثال تھے، لیکن اس سے بھی اہم اُن کا آیت (خدا کی نشانی) کے طور پر کردار تھا۔
انہوں نے کہا کہ شہید امام خامنہ ای نے یہ کردار بے عیب طریقے سے ادا کیا اور اُن کی مأموریت کا تاج اُن کی شہادت تھی۔ اس شہادت نے اُن کے لیے اور پوری ایرانی قوم کے لیے جاودانگی کا راستہ کھول دیا۔ اُنہوں نے خود ایک دروازہ کی حیثیت اختیار کر لی اور اب وہ دروازہ کھل چکا ہے۔
مغرب کے خلاف جنگ کہ تمدن بعل اور دجال
دوگین نے مغرب کے ساتھ کشمکش کو محض جغرافیائی سیاسی تنازعہ نہیں بلکہ ایک وجودی اور مذہبی جنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمدن بعل کا سامنا کر رہے ہیں؛ ایک تباہ کن تمدن۔ جدید مغربی تمدن محض تہذیبوں میں سے ایک نہیں بلکہ یہ شیطان اور دجال کی تمدن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ایک ایسی تقریب کا انعقاد کیا جیسے اس نے بعل کے بت کو آگ لگا دی ہو۔ اس اقدام نے امریکی-صیہونی نظام کی حقیقی نوعیت کو بے نقاب کر دیا کہ وہ دجال ہیں اور دجال ہمیشہ سب سے بے دفاع اور بہترین انسانوں کو نشانہ بناتا ہے۔
دوگین نے اس جنگ کو عالمی نوعیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب دو عظیم طاقتیں، ایران اور روس، اس تمدن کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں۔ ہم اور آپ، دو محاذوں پر لیکن ایک ہی جنگ میں ہیں، ایک مشترکہ دشمن کے خلاف کہ امریکی-صیہونی بعل۔
ایران اور روس کا مشترکہ محاذ
دوگین نے ایران اور روس کے اتحاد کو ایک تاریخی اور روحانی سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عالم اسلام، ایشیا، افریقہ، ہندوستان اور لاطینی امریکہ کی قوموں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جنگ صرف روس کا اپنے دشمنوں سے یا ایران کا اپنے دشمنوں سے تنازعہ نہیں؛ بلکہ ہم انسانیت کے دشمن کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مادی اور عملی طور پر دیکھیں تو اس تمدن کو شکست دینا ناممکن لگتا ہے، کیونکہ اس کے پاس تمام جدید ٹیکنالوجی، معیشت اور اسلحہ ہے، لیکن حقیقت کے دائرے میں، جو خدا کے محاذ پر ہوگا وہی کامیاب ہوگا؛ یہ ایک دائمی قانون ہے۔
دوگین نے یقین دہانی کرائی کہ شیعوں کی طویل مصائب، ان کی بے شمار شہادتیں اور روسی اور آرتھوڈوکس شہیدوں کے رنج بالآخر پورے ہوں گے۔
ایرانیوں کا اتحاد اور عالم اسلام کے لیے پیغام
دوگین نے ایرانی قوم کے اتحاد کو ایک روحانی بیداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ صورت حال آپ کی روحانی فتح کی علامت ہے۔ پہلے دنیا ایرانی معاشرے میں سیاسی اتحاد یا ممکنہ دراڑوں کے بارے میں شک میں تھی، لیکن اب سب پر عیاں ہو گیا ہے کہ ایرانی قوم متحد ہے۔
انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سخت تنقید کی کہ اے مسلمانو! کیا تم اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟ کیا تم نے وفاداری کی قسم نہیں کھائی؟ کیا تم نماز نہیں پڑھتے؟ پھر جب اس کی راہ میں جنگ کا وقت آتا ہے تو تم زمین میں سر کیوں چھپا لیتے ہو اور بہانے بناتے ہو کہ یہ صرف شیعوں کا مسئلہ ہے یا ایران خود ذمہ دار ہے؟ یہ شرم کی بات ہے اور کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔
دوگین نے عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ جهاد علیه دجال میں شامل ہوں اور ایران کی حمایت کریں جس نے پرچم سیاه خراسان بلند کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حضرت مہدی (عج) کا ظہور قریب ہے۔
ایرانی قوم کے لیے پیغام
دوگین نے اپنے پیغام کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر ایرانی قوم سے کہتا ہوں کہ ہم روس میں آپ کو پوری دل و جان سے سراہتے ہیں۔ مضبوط رہیں اور مغرب پر بھروسہ نہ کریں؛ وہ دھوکے باز ہے۔ شیطان کے ساتھ سودا نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شیطان کے ساتھ سودا خون سے طے ہوتا ہے۔ اُن سے نہ لڑیں بلکہ اُن کے ساتھ ڈٹ جائیں، کیونکہ فتح تمہاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم متحد اور مضبوط رہیں تو فتح یقینی ہے۔ شہید، قربانی دینے والے اور ہمارے روحانی رہبر ہی وہ مہر اور حجت ہیں جو ہماری فتح اور عظمت کی ضمانت دیتے ہیں۔ ہم ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ امرِ جاودانہ کے لیے لڑ رہے ہیں اور چونکہ ہم جاودانی کے محاذ پر ہیں، اس لیے فتح یاب ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پی ٹی آئی کے سامنے بانی کے علاوہ سب بے معنی ہے۔ خواجہ آصف
?️ 26 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی
فروری
نیتن یاہو کی خفیہ انتخابی حکمت عملی بے نقاب، ستمبر 2026 میں قبل از وقت انتخابات کی منصوبہ بندی
?️ 25 جولائی 2025نیتن یاہو کی خفیہ انتخابی حکمت عملی بے نقاب، ستمبر 2026 میں
جولائی
ٹرمپ کے منصوبے پر مزاحمت کے جواب پر ایک نظر،حماس نے سیاسی محاصرہ کیسے توڑا؟
?️ 7 اکتوبر 2025ٹرمپ کے منصوبے پر مزاحمت کے جواب پر ایک نظر،حماس نے سیاسی
اکتوبر
غزہ میں بھوک کے ہتھیار سے سست موت؛ ریت کھانے والے بچوں کا المیہ
?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: جیسے جیسے صیہونی ریگیم کی تباہ کن جنگ غزہ کی پٹی
جولائی
ہر 2 ماہ بعد وزارتوں کی کارکردگی جانچیں گے، اچھے نتائج نہ دینے پر کارروائی ہوگی۔ شہباز شریف
?️ 16 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہر
جولائی
نیکاراگوئه کی حکومت امریکی ریاستوں کی تنظیم سے اچانک دستبردار
?️ 26 اپریل 2022سچ خبریں: نیکاراگوئه کی حکومت نے پیر کی رات اچانک اعلان کیا
اپریل
پاکستانی یونیورسٹی کے پروفیسر: اسرائیلی جارحیت کا جواب ایران کی سٹریٹجک برتری کی نشاندہی کرتا ہے
?️ 15 جون 2025سچ خبریں: پاکستان کی فارمن کرسچن یونیورسٹی کے اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے پروفیسر
جون
شام میں فوجی بس پر دہشت گردوں کا حملہ
?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں:شامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق داعشی دہشت گرد عناصر نے
جنوری