ایران جنگ پر عالمی میڈیا کا ردعمل، مغرب میں تذبذب اور خطے میں

ایران

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف جاری جنگ پر عالمی میڈیا کی رپورٹنگ ایک مشترکہ نتیجے کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کے ردعمل میں بڑھتی ہم آہنگی، مغربی میڈیا کی تشویش، علاقائی بے چینی اور عالمی توانائی و سیکیورٹی خدشات نمایاں۔

امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کو 25 دن سے زائد گزر چکے ہیں، تاہم نہ صرف اس کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ میدان اور سیاست دونوں سطحوں پر ایک واضح تعطل اور ناکامی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور غیرنظامی ہلاکتوں سے شروع ہوئی، تیزی سے انسانی، سیکیورٹی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو گئی ہے، جس پر عالمی میڈیا نے مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی ہے۔

مغربی میڈیا کا نقطہ نظر

امریکہ اور یورپ کے میڈیا نے ابتدا کے برعکس اب زیادہ تنقیدی اور حقیقت پسندانہ انداز اپنایا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے ایرانی ڈرونز کے خلاف مہنگے جنگی طیاروں کے استعمال کو ایک غیر متوازن اور غیر پائیدار حکمت عملی قرار دیا ہے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ٹائمز نے امریکی فوجی ذخائر کے تیزی سے ختم ہونے پر خبردار کیا ہے، جبکہ سی این این نے سیاسی سطح پر اس سوال کو اٹھایا کہ آیا امریکی قیادت جنگ پر کنٹرول کھو رہی ہے۔ اس کے مطابق جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے جہاں فیصلہ ساز بھی اس کی رفتار کو کنٹرول نہ کر سکیں۔

افکار عامہ کے حوالے سے سی بی ایس اور یوگاو کے سروے کے مطابق اکثریت امریکی عوام جنگ سے مطمئن نہیں اور بڑی تعداد اس کی مخالفت کر رہی ہے، جو اندرونی سیاسی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

علاقائی اور عرب میڈیا

عرب اور علاقائی میڈیا میں ایک مشترکہ پہلو نمایاں ہے: جنگ کے پھیلاؤ کا خوف۔ الجزیرہ نے ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو اجاگر کیا، جبکہ ترک میڈیا نے امریکی پالیسیوں میں تضادات اور ان کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالی۔

ترک اخبارات حریت اور صباح نے جنگ کو ایک معاشی بحران کا سبب قرار دیا، جبکہ ینی شفق نے اسے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے اثر و رسوخ میں کمی کی علامت قرار دیا۔

پاکستانی میڈیا نے زیادہ تر سفارتی کوششوں اور کشیدگی کم کرنے پر توجہ دی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک جنگ کے پھیلاؤ سے گہری تشویش رکھتے ہیں۔

چین اور روس کا تجزیہ

چینی اور روسی میڈیا نے اس جنگ کو عالمی نظام میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ راشا ٹودی اور تاس نے اس کے سیکیورٹی اثرات پر روشنی ڈالی، جبکہ سی جی ٹی این نے توانائی بحران اور ثقافتی نقصان کو نمایاں کیا۔

ان تجزیات کے مطابق تنگۂ ہرمز پر دباؤ عالمی توانائی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے اور اس کے اثرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔

صہیونی میڈیا کا بدلتا مؤقف
ابتدائی بیانیے کے برعکس اسرائیلی میڈیا میں بھی اب تشویش بڑھ رہی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے شہریوں پر نفسیاتی دباؤ اور مسلسل خطرات کا ذکر کیا، جبکہ معاریو اور دیگر اداروں نے حکمت عملی میں ابہام اور امریکی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔

اسرائیلی تھنک ٹینکس کے مطابق جنگ کے اہداف حاصل ہونے کے امکانات کم ہیں اور بعض صورتوں میں یہ ایران کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ تنگۂ ہرمز پر اپنا اثر برقرار رکھتا ہے۔

مجموعی تصویر

عالمی میڈیا کے مختلف بیانیوں کا مجموعی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ سیاسی مؤقف مختلف ہیں، لیکن ایک مشترکہ نتیجہ سامنے آ رہا ہے: جنگ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب ایک پیچیدہ اور مہنگے بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔

مغربی میڈیا اخراجات اور حکمت عملی کی کمی پر زور دے رہا ہے، علاقائی میڈیا عدم استحکام اور خطرات پر، جبکہ مشرقی میڈیا اسے عالمی نظام میں تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہا ہے۔

یہ ہم آہنگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اب عالمی سطح پر حل کا رخ فوجی کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستوں کی طرف مڑ رہا ہے، جو موجودہ حالات میں زیادہ قابلِ عمل نظر آتا ہے۔

مشہور خبریں۔

حماد اظہر نے مری میں رش کم کرنے کے لیے اہم تجویز پیش کر دی

?️ 11 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر حماد اظہر نے مری میں سیاحوں

جہاد اسلامی نے غزہ سے 1100 راکٹ داغے:صہیونی میڈیا

?️ 9 اگست 2022سچ خبریں:صہیونی میڈیا کا کہنا ہے کہ فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر قبضے کے مؤقف پر اصرار

?️ 20 جنوری 2026سچ خبریں:گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کے خلاف مخالفتوں میں

نیتن یاہو کے زوال کے بعد صہیونی حکومت میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی؟

?️ 1 جون 2021سچ خبریں:نیتن یاہو کی رخصتی کے بعد صہیونیوں کو مختلف علاقوں میں

جموں کشمیر کے سرکاری ملازمین ایک بار پھر بھارتی حکومت کے عتاب کا شکار

?️ 19 جولائی 2023سچ خبریں: گزشتہ روز جموں و کشمیر انتظامیہ نے تین سرکاری ملازمین

اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملے کے بارے میں سعودی اخبار کا اظہار خیال

?️ 8 اگست 2021سچ خبریں:سعودی عرب کے ایک اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا

پارلیمانی کمیٹی کی 2 ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری

?️ 8 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتیوں کے حوالے سے

ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ کا دورہ ایران اور امریکہ کے مذاکراتی عمل کا حصہ ہے:قطر

?️ 11 فروری 2026ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ کا دورہ ایران اور امریکہ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے