?️
سچ خبریں:غزہ جنگ میں صہیونی فوج کے نقصانات میں اضافے کی چار بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں: جدید دھماکہ خیز مواد کا حصول، مزاحمت کی مرکب کارروائیاں، اسرائیلی جنگی حکمت عملیوں کی تکرار اور پرانے فوجی سازوسامان کا استعمال، یہ سب عوامل اسرائیل کے لیے جنگ کی قیمت بڑھا رہے ہیں۔
المیادین نیوز چینل نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ صہیونی فوج کی جانب سے "ارابۂ گدعون” آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل کے فوجی نقصانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر خان یونس اور شجاعیہ کے علاقوں میں مزاحمتی حملوں نے اسرائیلی افواج کو بے مثال جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، حال ہی میں خان یونس میں ایک زرهی گاڑی پر حملے میں 16 اسرائیلی فوجی مارے گئے، جس جیسی جرات مندانہ کارروائیاں پہلے نہیں دیکھی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: صیہونی اپنی فوجی ہلاکتوں کی صحیح تعداد کیوں نہیں بتاتے؟
رپورٹ کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں جنگ کے میدان میں کئی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی فوج اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے سخت سنسرشپ لگا رہی ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ مزاحمتی حملوں نے صہیونی افواج کو نہ صرف میدان جنگ میں، بلکہ ذہنی و نفسیاتی طور پر بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر دیا ہے، اب کئی اسرائیلی فوجی جنگ سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں اور کچھ نے ریزرو فورسز میں شرکت سے بھی انکار کر دیا ہے۔
1. جدید دھماکہ خیز مواد کا حصول
رپورٹ کے مطابق، القسام اور قدس بریگیڈز سمیت فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے بم سازی میں نمایاں ترقی کی ہے۔ نئی اقسام کے بم مثلاً "شواظ” اور "ثاقب” زمین میں نصب کیے جاتے ہیں، جو ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعض بم تو براہ راست فوجیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جدید دھماکہ خیز مواد (C4 وغیرہ) مزاحمت نے بعض اسرائیلی یا دشمن ایجنٹوں کے تباہ کاری آپریشنز سے ضبط کیے گئے ذخائر سے حاصل کیے، جسے اب مزاحمت جدید بموں کی تیاری میں استعمال کر رہی ہے۔
2. مرکب/کمبینیشن آپریشنز کی مہارت
دوسرا اہم عامل یہ ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے اپنی تاکتیکی مہارت کو بہتر کیا ہے، خاص طور پر مرکب حملوں میں۔ مثلاً بڑی مقدار میں بمبوں سے حملے کے بعد اچانک فائرنگ کا آغاز ہوتا ہے، جیسا کہ چند روز پہلے شجاعیہ کے علاقے میں ہوا۔ ایسے حملوں میں صہیونی فوجیوں کو سنبھلنے یا مناسب ردعمل کا موقع نہیں ملتا، جس سے ان کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
3. اسرائیلی فوج کی پرانی جنگی حکمت عملیاں
تیسری وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی فوج مسلسل ایک ہی جنگی منصوبوں اور حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہے، جس کی وجہ سے مزاحمت کو ان کی حرکات و سکنات کا پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی افسران اور فوجیوں میں جنگی جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے اور فوج میں "تاکتیکی دیوالیہ پن” جیسا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
4. پرانے اور غیر موزوں فوجی سازوسامان کا استعمال
چوتھا اہم عنصر یہ ہے کہ اسرائیلی فوج، خاص طور پر حالیہ مہینوں میں، پرانے اور ناقص بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کا استعمال کر رہی ہے، جنہیں برسوں پہلے فوج سے نکال دیا گیا تھا۔ ان میں ‘بوما’، ‘شیزاریت’، ‘ایم133’ گاڑیاں اور مرکاوا ٹینک کا تیسرا جنریشن شامل ہیں۔ سامان کی کمی کے باعث فوج کو اب انہی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے مزاحمت کے لیے انہیں نشانہ بنانا اور نقصان پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔
نتائج اور نفسیاتی اثرات
المیادین کے مطابق، جنگِ غزہ میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور نقصانات نے نہ صرف صہیونی فوج کی صلاحیتوں پر سوال اٹھائے ہیں بلکہ اسرائیلی معاشرے میں بھی نفسیاتی دباؤ اور مایوسی میں اضافہ کیا ہے۔ جنگی اخراجات اور انسانی نقصانات کی وجہ سے اسرائیلی حکومت کے مقاصد بھی کم ہوتے جا رہے ہیں، اور یہ صورت حال بالآخر موجودہ شدت پسند حکومت کے زوال کا پیش خیمہ بن سکتی ہے خصوصاً اس پس منظر میں کہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم میں اسرائیل کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بیرون ملک بھیک مانگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کیلئے بل سینیٹ میں پیش
?️ 30 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بیرون ممالک میں پاکستانیوں کے بھیک مانگنے کے
جنوری
77سال بعد بھی انہیں معلوم نہ ہوسکا بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے،اختر مینگل
?️ 2 اپریل 2025مستونگ: (سچ خبریں) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کا کہنا
اپریل
اسرائیلی جہاز پر یمنی حملے کے بعد لوئڈز لسٹ کا رد عمل
?️ 2 ستمبر 2025اسرائیلی جہاز پر یمنی حملے کے بعد لوئڈز لسٹ کا رد عمل
ستمبر
اسحاق ڈار کی سہ فریقی اجلاس میں شرکت، تینوں ممالک کا انسداد دہشتگردی پر اتفاق
?️ 20 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان، افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کا سہ
اگست
ایران اسرائیل کشیدگی بڑھنے سے جنگ دنیا بھر میں پھیل جائے گی۔ فیصل واوڈا
?️ 17 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ایران
جون
یونیسیف کی جانب سے افغانستان کے صحت اور تعلیم کے لیے 21 ملین ڈالر کی امداد
?️ 28 مارچ 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسیف نے افغانستان کے صحت
مارچ
کیا حماس کی استقامت کے سامنے صیہونی حکومت پیچھے ہٹ گئی ہے؟
?️ 18 اگست 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی میڈیا آؤٹ
اگست
لاطینی امریکہ کے لیے ٹرمپ کے خواب؛ وال اسٹریٹ جرنل کی زبانی
?️ 28 ستمبر 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کے اثر و
ستمبر