?️
سچ خبریں:اسرائیل کے مجوزہ ییلو لائن منصوبے کا مقصد جنوبی لبنان میں نئی سکیورٹی حقیقت مسلط کرنا اور حزب اللہ پر دباؤ بڑھانا بتایا جا رہا ہے، جس کے سنگین انسانی و سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل لبنان میں ایک نیا منصوبہ متعارف کرانے کی کوشش کر رہا ہے جسے ییلو لائن کہا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد جنوبی لبنان میں ایک نئی سکیورٹی حقیقت قائم کرنا اور حزب اللہ پر دباؤ بڑھانا ہے۔
یہ منصوبہ دراصل غزہ میں اپنائے گئے ماڈل کی طرز پر ہے، جہاں اسی طرح کی حکمت عملی کے ذریعے بڑے پیمانے پر آبادی کو بے دخل کیا گیا اور علاقے کے وسیع حصے پر کنٹرول قائم کیا گیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اگر یہ منصوبہ لبنان میں نافذ کیا گیا تو تقریباً ۵۵ دیہات اور قصبے اس لائن کے باہر آ جائیں گے، جس کے نتیجے میں وہ علاقے عملی طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں جا سکتے ہیں۔
یہ مجوزہ پٹی جنوبی لبنان میں ناقورہ سے گزرتے ہوئے الشعب، بنت جبیل اور العدیسہ جیسے علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ اس منصوبے کو ایک وسیع تر سکیورٹی تصور کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کا ذکر بنیامین نیتن یاہو بھی کر چکے ہیں، جس میں سرحدی علاقوں کو ایک مسلسل بفر زون میں تبدیل کرنا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کے تحت بلیو لائن اور ییلو لائن کے درمیان کا علاقہ ایک فائر زون بن سکتا ہے، جہاں سے مقامی آبادی کو نکال دیا جائے گا اور اسے فوجی کارروائیوں کے لیے کھلا میدان بنا دیا جائے گا۔
لبنانی عسکری ماہر حسن جونی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک عارضی فوجی اقدام نہیں بلکہ سرحدوں کی نئی تشکیل اور سیاسی و عسکری دباؤ کا حصہ ہے، خاص طور پر حزب اللہ کے ہتھیاروں کے مسئلے سے جڑا ہوا۔
دوسری جانب یونیفل کے خلاف حالیہ حملوں اور خطے میں کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہو چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنانی سرزمین پر موجود رہے گا، مزاحمت جاری رہے گی اور کسی بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دیا جائے گا۔
مزید برآں، عرب میڈیا رأی الیوم کے مطابق یہ منصوبہ ۸ سے ۱۰ کلومیٹر تک لبنانی سرزمین میں داخل ہو کر ایک بفر زون قائم کرے گا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی اور دیہات کی تباہی کا خدشہ ہے۔
ماہرین اسے محض فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک بڑی جغرافیائی اور آبادیاتی تبدیلی قرار دے رہے ہیں، جو خطے میں طویل المدتی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
سعودی عرب کے وژن 2030 کو ایک وجودی چیلنج کا سامنا
?️ 21 اکتوبر 2026سچ خبریں: فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق یمن کی سعودی تیل
اکتوبر
پاکستانی وزیراعظم کا مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کے لیے آمادگی کا اعلان
?️ 24 مئی 2026 سچ خبریں:پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ
مئی
غزہ میں جاری مظالم کے ردعمل میں نیویارک میں مظاہرہ
?️ 14 جولائی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی حامیوں کے احتجاج اور بچوں
جولائی
کراچی: تاجر کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر سی ٹی ڈی کے 3 اہلکار گرفتار
?️ 4 ستمبر 2023سندھ:(سچ خبریں) سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے
ستمبر
پاکستان نےبھارتی وزیر کا اشتعال انگیز بیان مسترد کردیا
?️ 2 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں)پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر پر بھارتی وزیر
فروری
الاسکا سربراہی اجلاس اور سلامتی کی ضمانتیں؛ برطانیہ اور یوکرین کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے موضوعات
?️ 14 اگست 2025سچ خبریں: یوکرین کے صدر اور برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے
اگست
ٹارگٹ کلنگ میں ملوث لیاری گینگ وار کا ملزم گرفتار
?️ 6 نومبر 2021کراچی(سچ خبریں) صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی
نومبر
ایران امریکہ مذاکرات کے بارے میں عراقی وزیر خارجہ کا تازہ ترین موقف
?️ 15 فروری 2026 سچ خبریں:عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے ایران اور امریکہ کے
فروری