کویت کے لیے امریکی اڈوں کی میزبانی کی بھاری قیمت

کویت

?️

سچ خبریں:ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کویت نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کے باعث ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران بھاری اقتصادی اور سکیورٹی نقصانات کا سامنا کیا۔ رپورٹ میں خطے کی نئی علاقائی صورتحال اور کویت کے مستقبل کے ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

کویت نے اپنے چار فوجی اڈے امریکہ کے اختیار میں دے کر ایران کے خلاف ہونے والی جنگی کارروائیوں کے لیے اہم لاجسٹک کردار ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق کویت ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں واپسی کا راستہ مشکل دکھائی دیتا ہے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کے ذریعے اپنی سلامتی یقینی بنانے کی کوشش کرنے والے کویت کو اس کے برعکس سنگین اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً ایسے حالات میں جب اس کی معیشت کا تقریباً نوے فیصد انحصار تیل کی برآمدات پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد کویتی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔

رپورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تہران کی جانب سے کویت کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ یا تو وہ ایسے فوجی اڈے بند کرے جنہیں ایران اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے یا پھر خلیج فارس کی ایک اہم علاقائی طاقت کے ساتھ ہمسائیگی کے فوائد سے محروم رہنے کا خطرہ مول لے۔

ایران پر حملوں سے قبل خلیجی ممالک کی یقین دہانیاں

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے آغاز سے قبل خلیج فارس کے عرب ممالک نے بارہا ایران کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ تاہم رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ بعد میں امریکی فوجی اڈے ایران کے خلاف فضائی اور میزائل حملوں کے مراکز کے طور پر استعمال ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام نے نہ صرف خطے میں اعتماد کو نقصان پہنچایا بلکہ کویت کو براہِ راست ایرانی ردعمل کے دائرے میں بھی لے آیا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود امریکی اڈے مبینہ طور پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا ہدف بنے۔

کویت میں امریکی فوجی موجودگی

رپورٹ کے مطابق کویت میں امریکی فوجی موجودگی کی تاریخ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ اس عرصے میں کویت امریکہ کے اہم ترین فوجی مراکز میں تبدیل ہو گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عریفجان فوجی اڈہ مغربی ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا لاجسٹک مرکز سمجھا جاتا ہے، جو تقریباً 36 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور پندرہ ہزار سے زائد فوجیوں کی گنجائش رکھتا ہے۔

اسی طرح علی السالم فضائی اڈہ امریکی جنگی اور نقل و حمل کے طیاروں کے لیے اہم مرکز قرار دیا گیا ہے، جبکہ احمد الجابر فضائی اڈہ اور کیمپ ورجینیا بھی امریکی فوجی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان اڈوں پر تقریباً 13 ہزار 500 امریکی فوجی تعینات رہتے ہیں، جبکہ کشیدگی کے اوقات میں یہ تعداد بیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

ایران کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ کردار

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران انہی اڈوں سے ایران کے خلاف متعدد فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ بعض رپورٹس کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ہائی مارس میزائل نظام کویت کی سرزمین سے استعمال کیے گئے اور ایران کے جنوبی و مغربی علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس اقدام کو ایران کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور اسی بنیاد پر کویت کو تنازع کا ایک فریق سمجھا گیا۔

ایران کا ردعمل

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اس صورتحال پر غیر معمولی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی اس بات کا اشارہ تھی کہ خطے میں امریکی اڈوں کی مکمل سلامتی کا تصور اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔

اقتصادی نقصانات کا دعویٰ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت متاثر ہونے کے بعد کویت کی تیل برآمدات شدید متاثر ہوئیں اور حکومتی آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ تیل صاف کرنے والے کارخانوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیاحت میں بھی نمایاں کمی آئی۔

رپورٹ کے مطابق کویت کی معیشت نہ صرف تیل کی برآمدات بلکہ خوراک اور بیرونی تجارت کے لیے بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کرتی ہے، اس لیے اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی رکاوٹ نے ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کو براہِ راست متاثر کیا۔

ایران کی توقعات اور مستقبل کے امکانات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران تاریخی طور پر کویت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے، تاہم اب تہران یہ توقع رکھتا ہے کہ کویت ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر فیصلے کرے اور اپنی سرزمین کو بیرونی طاقتوں کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی اولین توقع کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی بندش ہے، جنہیں تہران اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

اقتصادی میدان میں بھی رپورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کویت کو امریکی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو امریکی جنگی پالیسیوں کی مالی معاونت کا سبب بنتے ہوں۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ کویت اس وقت ایک اہم انتخاب کے سامنے کھڑا ہے۔ ایک راستہ امریکہ پر انحصار اور امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے کا ہے، جبکہ دوسرا راستہ علاقائی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مفاہمت اور تعاون کی نئی راہ اختیار کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگی تجربات نے یہ ظاہر کیا کہ بیرونی طاقتوں کی سکیورٹی ضمانتیں خطے کے ممالک کے لیے کافی نہیں ہیں اور پائیدار سلامتی علاقائی تعاون اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

’حج پر جانا چاہتی ہوں، نام ای سی ایل سے نکالا جائے‘، زرتاج گل کا عدالت سے رجوع

?️ 11 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر زرتاج گل نے حج کی

سی پیک کے ذریعے پورے خطے میں معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی: مراد سعید

?️ 26 ستمبر 2021کوئٹہ(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ

امریکہ اور مغرب کی غنڈہ گردی کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای

اسرائیلی وزارت خارجہ اور پولیس کی ویب سائٹ پر انڈونیشیائی ہیکرز کا کامیاب حملہ

?️ 19 اپریل 2023سچ خبریں:یروشلم پوسٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ انڈونیشیا کے

وزیر اعظم نے ٹیلیفوں پر مصر کے صدر سے فلسطین کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا

?️ 27 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق

کینیڈا میں ایک بار پھر ایک اسکول کی عمارت سے بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت، دنیا بھر میں ہلچل

?️ 25 جون 2021کینیڈا (سچ خبریں) کینیڈا میں ایک بار پھر ایک اسکول کی عمارت

عراق کا قرض کتنا ہے؟

?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:اس ملک کے وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کے مالیاتی مشیر

بلاول اور مریم کو استعفی دے دینا چاہیے

?️ 27 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے