فلسطین کا منفور چہرہ اور رام اللہ میں صیہونی کارندہ حسین الشیخ

فلسطین کا منفور چہرہ اور رام اللہ میں صیہونی کارندہ حسین الشیخ

?️

سچ خبریں:فلسطینی عوام حسین الشیخ کو اسرائیلی اور امریکی مفادات کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ حالیہ تقرریوں اور انکشافات کے بعد، فلسطین میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

فلسطینی عوام حسین الشیخ کو محمود عباس کی طرح امریکی و صہیونی ایجنڈے کا نمائندہ قرار دیتے ہیں جو فلسطینی کاز سے وفاداری کے بجائے، اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرتا ہے۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، ایک جانب اسرائیل مغربی کنارے پر حملے تیز کر رہا ہے تو دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
ایسے میں حسین الشیخ کو فتح تحریک کے سینئر رکن اور اسرائیلی سیکیورٹی اداروں سے قریبی تعلق رکھنے والے شخص کے طور پر محمود عباس کا نائب مقرر کرنا، فلسطینی عوام اور مزاحمتی گروپوں میں شدید اضطراب پیدا کر رہا ہے، اس اقدام نے فلسطین کی آئندہ قیادت اور قومی کاز کے مستقبل پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
جب جنین، طولکرم اور الخلیل جیسے مغربی کنارے کے شہر اسرائیلی حملوں، عوامی بے دخلی اور انفراسٹرکچر کی منظم تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، فلسطینی اتھارٹی داخلی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، خاص طور پر حالیہ تنظیمی تبدیلیوں کے بعد۔
حسین الشیخ؛ فلسطینی عوام کی نظروں میں ایک منفور شخصیت
رام اللہ میں 1960 میں پیدا ہونے والے حسین الشیخ کا تعلق ایک ایسی فلسطینی مہاجر فیملی سے ہے جو 1948 کی جنگ کے بعد اپنے آبائی وطن سے نکالی گئی، نوجوانی میں انہوں نے فتح تحریک میں شمولیت اختیار کی اور 1980 کی دہائی کا بیشتر حصہ اسرائیلی جیلوں میں گزارا، جس سے ابتدائی طور پر فلسطینی عوام میں انہیں مقبولیت ملی۔
1990 کی دہائی میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے بعد، انہوں نے سیکیورٹی اداروں میں شمولیت اختیار کی، 2007 میں اسرائیلی فوج کے ساتھ فلسطینی رابطہ کاری کے سربراہ بنے اور 2008 میں تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہو گئے۔
تاہم، آج حسین الشیخ کو فلسطینی عوام کا نمایندہ نہیں بلکہ اسرائیلی مفادات کے محافظ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق، صرف 3 فیصد فلسطینی انہیں قیادت کے قابل سمجھتے ہیں۔
امریکی-اسرائیلی حمایت یافتہ منصوبہ
دانیال شاپیرو، جو کہ امریکہ کے سابق سفیر اور اٹلانٹک کونسل کے رکن ہیں، کہتے ہیں کہ حسین الشیخ امریکی و اسرائیلی حکام کا پسندیدہ امیدوار ہیں۔ ان کے بقول، الشیخ وہ شخصیت ہیں جس کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ مل کر کام کر سکتے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی میں نئی قیادت اور بڑھتا ہوا بحران
ڈاکٹر حسن خریشه، نائب صدر فلسطینی قانون ساز کونسل، نے حسین الشیخ کی تقرری کو امریکی و اسرائیلی دباؤ اور بعض عرب حکومتوں کے ایما پر کیا گیا فیصلہ قرار دیا، انہوں نے زور دیا کہ یہ فیصلہ عوامی رائے اور انتخابات کے بجائے ایک محدود اندرونی اجلاس میں کیا گیا، جو فلسطینیوں کی توقعات کے برعکس ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، اس قسم کی تقرریاں فلسطینی قوم میں مزید تقسیم، داخلی کمزوری، اور قومی وحدت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہیں۔
اسرائیلی منصوبے کے مطابق فلسطین میں قیادت کی تشکیل
سیاسی تجزیہ کار رجا عبدالحق نے کہا کہ حسین الشیخ کی تقرری اسرائیل اور امریکہ کی اُس بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ایک ایسی قیادت لانا ہے جو صہیونی بستیوں کی تعمیر اور قبضے کی مخالفت نہ کرے۔
حسین الشیخ اور ان کا خاندان؛ فلسطینی عوام کا استحصال
فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حسین الشیخ اور ان کا خاندان مغربی کنارے اور غزہ میں شہریوں پر غیر قانونی ٹیکس عائد کرنے اور مالی استحصال میں ملوث رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کے بھتیجے تاجروں سے بھاری رقوم بطور باج وصول کرتے ہیں۔ جو تاجر ادائیگی نہ کرے، اس کی اشیاء ضبط یا تباہ کر دی جاتی ہیں۔
یوسف شناعہ جیسے انسانی حقوق کے کارکنوں نے حسین الشیخ کے خاندان کی ان خائنہ سرگرمیوں کو بے نقاب کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ یہ ناجائز دولت کہاں جا رہی ہے اور اس کے حقیقی فائدہ اٹھانے والے کون ہیں؟
عوامی ردعمل
فلسطینی سوشل میڈیا صارفین نے حسین الشیخ اور ان کے ساتھیوں کو صہیونیوں کے ایجنٹ اور غدار قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے اقدامات کا حساب دینا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

ضلع خیبر میں پاک فوج کا آپریشن، اہم دہشتگرد ہلاک، ایک جوان شہید

?️ 8 نومبر 2022ضلع خیبر: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے شکاس میں

گوگل ٹرانسلیٹ کا اہم فیصلہ

?️ 29 جون 2024سچ خبریں: ٹیکنالوجی کمپنی گوگل اپنے ٹرانسلیٹ فیچر میں 110 نئی زبانیں

لاہور ایک بار پھر دنیا کا سب سے آلودہ ترین شہر قرار

?️ 2 نومبر 2022لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کا دارالحکومت لاہور ایک بار پھر دنیا کے

ابتدائی 8 ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 9 فیصد کے پار، وزارت تجارت

?️ 4 مارچ 2021اسلام آباد{سچ خبریں} پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2021 کے 8

انصار اللہ: ہم صیہونیوں کے ساتھ تصادم کے تمام حالات کے لیے پوری طرح تیار ہیں

?️ 5 نومبر 2025سچ خبریں: انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن عبداللہ النعمی نے

وزیر اعظم نے مہنگائی کی اصلی وجہ بتا دی

?️ 17 جنوری 2022پشاور(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر

صیہونی قیدیوں کا قاتل کون؟

?️ 1 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بیان جاری کرتے 6 اسرائیلی قیدیوں

طالبان کا امریکہ کو اہم پیغام

?️ 19 جون 2023سچ خبریں:افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے ایک طالبان کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے