ایران کے خلاف امریکہ کی ناکامی کی وجوہات؛امریکی میگزین کی زبانی

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:فارن پالیسی کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی ناکامی کی بنیادی وجہ فوجی سازوسامان کی کمی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی غلط اسٹریٹجک ترجیحات اور ناممکن اہداف ہیں۔

امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک تجزیے میں ایران کے مقابلے میں امریکہ کی ناکامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے اب تک اپنی غلطیوں سے مطلوبہ سبق نہیں سیکھا۔

جریدے کے مطابق ایران اور آبنائے ہرمز میں جاری تنازع ابھی اختتام سے بہت دور ہے، تاہم تجزیہ کار پہلے ہی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس جنگ سے امریکہ کو کون سے اسباق حاصل کرنے چاہئیں۔

فارن پالیسی کے مطابق حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے سکیورٹی تجزیوں میں ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کی مختلف لاجسٹک اور جنگی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں تیل اور کیمیائی کھاد کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے ناکافی تیاری، درست نشانے والے ہتھیاروں اور میزائل شکن میزائلوں کے ناکافی ذخائر، سستے حملہ آور ڈرونز کا مؤثر مقابلہ کرنے میں ناکامی اور بارودی سرنگوں کو صاف کرنے والے بحری جہازوں کی کمی شامل ہیں۔

تاہم تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ یہ مسائل مستقبل کی جنگوں کے لیے اہم اسباق ضرور فراہم کرتے ہیں، لیکن آبنائے ہرمز میں امریکہ کی ناکامی کی اصل وجہ یہ نہیں ہیں۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے امریکہ ان میں سے کچھ یا تمام مسائل کو حل بھی کر لیتا، تب بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایران کس طرح ٹرمپ انتظامیہ کو اس کے بنیادی جنگی اہداف حاصل کرنے سے روکنے میں ناکام ہو جاتا۔

ان اہداف میں ایران میں حکومت کی تبدیلی، ملک کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کو تباہ کرنا اور جوہری ہتھیاروں اور خطے میں موجود اس کے اتحادی گروہوں کے حوالے سے ایرانی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانا شامل تھا۔

فارن پالیسی کے مطابق زیادہ مقدار میں گولہ بارود کے ذخائر اور تیل کی ممکنہ کمی سے نمٹنے کی بہتر تیاری امریکہ کو زیادہ طویل فضائی کارروائی یا زیادہ اقتصادی دباؤ کا موقع دے سکتی تھی، لیکن اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ 7 ماہ کی بمباری یا محاصرہ وہ نتائج حاصل کر لیتا جو گزشتہ تقریباً 6 ماہ میں حاصل نہیں ہو سکے۔

جریدے کے مطابق اس فوجی تباہی کا سب سے ممکنہ نتیجہ امریکہ کے لیے ایک اسٹریٹجک شکست ہے، جس کے بعد ایران کو اپنے جوہری عزائم آگے بڑھانے، آبنائے ہرمز پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے اور خلیجی ممالک پر زیادہ اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق تکنیکی اور فوجی برتری کی ایک خاص حد بھی اس اسٹریٹجک ناکامی کا ازالہ نہیں کر سکتی جو فوج کو ایسے مشن سونپنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جنہیں پورا کرنا عملاً ممکن نہیں۔

تجزیے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایک نہیں بلکہ 3 ایسے مشن دیے جنہیں حاصل کرنا انتہائی مشکل تھا اور جب فوج ان میں کامیاب نہ ہو سکی تو صدر نے غصے اور حیرت کا اظہار کیا۔

پہلا ہدف ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا، وہ بھی کسی زمینی فوجی کارروائی کے بغیر۔

فارن پالیسی نے لکھا کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے اسٹریٹجک فتح حاصل کرنا دنیا کی فضائی افواج کا ایک پرانا خواب رہا ہے۔ اطالوی فوجی نظریہ دان جولیو ڈوئے نے 1921 میں پیش گوئی کی تھی کہ مستقبل کی جنگیں صرف بمبار طیاروں کے ذریعے جیتی جا سکیں گی اور 1928 میں یہاں تک کہا تھا کہ کسی درمیانے درجے کے ملک پر صرف 300 ٹن بم گرا کر ایک ماہ کے اندر جنگ ختم کی جا سکتی ہے۔

تاہم جریدے کے مطابق صرف فضائی طاقت کے ذریعے جنگ جیتنے کا نظریہ جدید صنعتی جنگوں میں بارہا آزمایا جا چکا ہے۔

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ کسی ملک پر بمباری اور فوجی کارروائی اکثر اس ملک کے شہریوں کو اپنی حکومت کے گرد متحد کر دیتی ہے اور حملہ آور کو مطلوبہ نتیجے کے بجائے اس کے برعکس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فارن پالیسی کے مطابق صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان تقریباً صفر تھا۔

اس کے بعد امریکی فوج کو دوسرا مشکل ہدف ایران کی بیلسٹک میزائل اور ڈرون صلاحیت کو صرف فضائی کارروائیوں کے ذریعے ختم کرنے کا دیا گیا۔

تجزیہ کار کے مطابق متحرک میزائل لانچنگ نظام کو محدود زمینی فوج کے ساتھ صرف فضائی کارروائیوں کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش پہلے بھی کئی بار کی جا چکی ہے، لیکن یہ طریقہ کبھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوا۔

درست نشانے والے جدید ہتھیاروں کی آمد نے بھی اس مسئلے کو حل نہیں کیا، کیونکہ متحرک لانچنگ نظام اپنی جگہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جریدے نے خلیجی جنگ کے دوران عراق کے اسکاڈ میزائل لانچروں کو فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کرنے کی امریکی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایک بھی تصدیق شدہ لانچر تباہ نہیں کیا جا سکا۔

اسی طرح اسرائیل نے غزہ اور جنوبی لبنان میں تقریباً 2 دہائیوں تک بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کیں تاکہ حماس اور حزب اللہ کے راکٹ حملوں کو روکا جا سکے، لیکن دونوں علاقوں میں راکٹ حملوں کو خاموش کرنے کے لیے زمینی کارروائیوں کی ضرورت پڑی۔

فارن پالیسی کے مطابق مختلف ممالک کے اتحاد بھی یمن سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن ان حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

جریدے کا کہنا ہے کہ جدید اور درست نشانے والے ہتھیاروں کے باوجود ایسے متحرک لانچنگ نظاموں کو صرف فضائی کارروائیوں کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہے جو خفیہ مقامات سے میزائل یا ڈرون داغنے کے بعد تیزی سے اپنی جگہ تبدیل کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کار کے مطابق جس طرح حکومت کا خاتمہ صرف فضائی طاقت سے ممکن نہیں، اسی طرح میزائل حملوں کو مکمل طور پر روکنے کے لیے بھی زمینی فوج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا آخری سہارا خلیج فارس کے ایک بڑے حصے میں تقریباً مکمل میزائل دفاعی نظام قائم کرنا اور ان ممالک کا دفاع کرنا تھا جہاں امریکی فوجی کارروائیاں ان کی میزبانی پر منحصر ہیں۔

تاہم ایسے ماحول میں جہاں ڈرونز اور بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے میزائلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستے اور تیزی سے تیار کیے جا سکتے ہیں، یہ امکان ہمیشہ موجود تھا کہ ایران بالآخر خطے کے دفاعی نظام کی گنجائش سے زیادہ حملے کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

فارن پالیسی کے مطابق ایک اور ناممکن مشن پہلے 2 مشنوں کی ناکامی کا ازالہ نہیں کر سکتا تھا۔

جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوج کو ڈرونز کے خطرات اور مواقع، جنگی سازوسامان کی خریداری کے پرانے مسائل، جنگی جہازوں، بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہازوں اور طیاروں کے لیے مضبوط فوجی تنصیبات کی ضرورت کے بارے میں کسی وارننگ کی ضرورت تھی تو یہ جنگ اس وارننگ کا کام کر چکی ہے۔

تاہم تجزیہ کار کے مطابق یہ جنگ امریکی محکمہ دفاع میں نہیں ہاری گئی بلکہ وائٹ ہاؤس میں ہاری گئی۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر ٹرمپ امریکی فوج کو ناممکن مشن سونپنے کے خطرے کو سمجھنے سے قاصر تھے تو یہ ان کے وزیر دفاع کی ذمہ داری تھی کہ وہ انہیں اس بارے میں آگاہ کرتے۔

تجزیہ کار کے مطابق ٹرمپ نے ایک تجربہ کار اور قابل وزیر دفاع منتخب کرنے کے بجائے ایسا شخص منتخب کیا جو ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کے بجائے ان کی پیروی کرتا رہا۔

فارن پالیسی کے مطابق ہیگسٹ نے بھی اعلیٰ فوجی قیادت سے ان افراد کو ہٹانے کی کوشش کی جو ممکنہ طور پر مختلف رائے پیش کر سکتے تھے۔

جریدے کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی افسران ماضی میں بھی سیاسی فیصلہ سازوں تک ناخوشگوار خبریں پہنچانے میں زیادہ مؤثر نہیں رہے، لیکن ہیگسٹ کے طرز عمل نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا اور پینٹاگون کے لیے صدر کی غلط پالیسیوں کے سامنے مزاحمت کا امکان مزید کم ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے مشکلات کی نشاندہی کرنے کی محدود کوشش کی، لیکن ہیگسٹ کی حد سے زیادہ امید اور شور شرابے میں ان کی آواز دب گئی۔

فارن پالیسی کے مطابق یہ تمام نتائج قابل پیش گوئی تھے اور ان میں سے بہت سے خدشات پہلے ہی سامنے آ چکے تھے۔

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ایران میں اس تباہی کی فوری ذمہ داری ٹرمپ اور ان کے نااہل مشیروں پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس کی آخری ذمہ داری اس فیصلے تک جاتی ہے جسے کوئی سیاست دان کھل کر تسلیم نہیں کرتا۔

یہ فیصلہ بڑی تعداد میں امریکی ووٹروں کا تھا جنہوں نے ٹرمپ کو دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچایا، حالانکہ ان کے بارے میں پہلے ہی خدشات موجود تھے کہ وہ مخالف یا ناخوشگوار معلومات قبول کرنے سے قاصر ہیں اور اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی ہر بات سے اتفاق کریں۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کے سربراہ کا انتخاب کسی ریئلٹی شو کے سب سے زیادہ تفریحی میزبان کے انتخاب جیسا نہیں ہوتا۔

فارن پالیسی کے مطابق پینٹاگون میں اس جنگ سے حاصل ہونے والے اسباق پر رپورٹس یقیناً تیار کی جا رہی ہوں گی، لیکن اس شکست کے اسٹریٹجک نتائج اب بھی بڑھ رہے ہیں۔

جریدے نے تیل کی بلند قیمتوں سے لے کر امریکی وسائل کے ختم ہونے تک مختلف اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امریکی ووٹرز یہ سمجھ چکے ہیں کہ فوجی برتری کی کوئی بھی سطح انہیں انتخابات میں کیے گئے غلط سیاسی فیصلوں کے نتائج سے محفوظ نہیں رکھ سکتی؟

مشہور خبریں۔

اسرائیلی جنگی جہازوں کا غزہ کے ساحل پر حملہ 

?️ 1 مارچ 2025سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ کے 41ویں روز

آئی ایم ایف نے قرض کی دوسری قسط کے ساتھ مطالبات کی نئی لسٹ بھی بھیج دی

?️ 21 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو قرض کی

بلنکن کا ایران کو گرانے میں امریکہ کی ناکامی کا اعتراف

?️ 20 دسمبر 2024سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کونسل آن فارن ریلیشنز کے

امریکی جنگی جہاز میں لگی زبردست آگ

?️ 1 مئی 2026 سچ خبریں:سی بی ایس نیوز نے امریکی حکام کے حوالے سے

روس یورپی یونین کے ساتھ کچھ معاہدوں سے دستبردار ہو گیا

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:  روسی وزیر اعظم میخائل میشوسٹن نے ہفتہ کے روز اعلان

پاکستانی وزیر اعظم: اسلامی ممالک اسرائیلی حکومت کے اقدامات کے خلاف متحد ہو جائیں

?️ 12 ستمبر 2025سچ خبریں: دوحہ میں امیر قطر سے ملاقات میں پاکستانی وزیر اعظم

پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے چین کے وژن کو سراہتا ہے، احسن اقبال

?️ 24 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات

صیہونی سربراہ کا اپنی ہی ریاست کے خلاف اہم اعتراف

?️ 15 مارچ 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سربراہ نے دو سال سے بھی کم عرصے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے