?️
سچ خبریں:سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی ملاقات اور مفاہمتی یادداشت کو مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل خطرہ تل ابیب سے ہے جو اس معاہدے کو کمزور بنا رہا ہے جبکہ 60 روزہ مذاکراتی عمل میں بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔
21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی شہر بورگن اسٹاک میں ایران اور امریکہ کے نمائندے ایک بار پھر مذاکراتی میز پر بیٹھے۔ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے تھے جبکہ ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔ اس عمل میں قطر اور پاکستان کو ثالث کے طور پر شامل کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریق براہ راست اعتماد کے بحران کا شکار ہیں۔
مفاہمتی یادداشت، نہ امن معاہدہ
17 جون 2026 کو دستخط شدہ یہ یادداشت کسی حقیقی امن معاہدے یا جامع فریم ورک کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ یہ ایک عارضی اور غیر پابند اعلامیہ ہے۔ اس کا مقصد جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ اگلے مرحلے کو وقتی طور پر مؤخر کرنا ہے۔
اس معاہدے کے تحت ایران کا جوہری پروگرام، پابندیاں، آبنائے ہرمز میں بحری آزادی، لبنان کی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے طریقہ کار سمیت تمام بنیادی مسائل کو ساٹھ روزہ مذاکراتی دور میں ڈال دیا گیا ہے۔
واشنگٹن اسے سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ایران کو مکمل طور پر جھکانے میں ناکام رہا ہے۔ ایران نے حملوں اور پابندیوں کے باوجود اپنے مطالبات کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے۔
جوہری معاملے پر ایران نے ساٹھ روزہ مدت کے دوران افزودگی کی سرگرمیوں کو عارضی طور پر معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن کوئی مستقل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ بنیادی ڈھانچہ برقرار ہے اور مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں یہ معطلی فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
اسی طرح پابندیوں کے معاملے میں بھی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی منجمد اثاثے مکمل طور پر بحال کیے گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے متعلق شقیں بھی نہایت کمزور ہیں اور ان پر عملدرآمد کا کوئی واضح نظام موجود نہیں۔
اسرائیل بنیادی خطرہ
اس معاہدے کو سب سے زیادہ غیر مستحکم بنانے والا عنصر اسرائیل ہے۔ صیہونی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے گا، اور اس مقصد کے لیے وہ آزادانہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
صیہونی وزیر جنگ نے بھی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے لیے مکمل آزادی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی موقع پر صورتحال کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔
امریکی سیاسی پس منظر
ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ معاہدہ داخلی سیاسی ضرورت بھی ہے۔ سی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق 78 فیصد امریکی شہری ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے حامی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور سپلائی چین پر دباؤ میں کمی امریکی حکومت کے لیے ناگزیر ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ زیادہ سے زیادہ مطالبات کے ساتھ جنگ میں داخل ہوا تھا، لیکن ایک غیر پابند ساٹھ روزہ معاہدے کے ساتھ واپس آیا ہے جس نے بنیادی مسائل حل نہیں کیے۔
پردے کے پیچھے اصل حکمت عملی
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ معاہدہ کسی مستقل امن کے لیے نہیں بلکہ ایک وقتی حکمت عملی کے طور پر کیا ہے۔ ایران بھی اس وقفے کو اپنی دفاعی اور علاقائی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔
اس منظرنامے میں پر امید امکان کہ دونوں فریق پائیدار امن کی طرف جائیں گے، فی الحال حقیقت سے دور نظر آتا ہے۔
نتیجہ
21 جون کی ملاقات نہ تو امن معاہدہ تھی اور نہ ہی اس کی بنیاد۔ یہ صرف ایک عارضی وقفہ تھا جس میں دونوں فریق نے یہ تسلیم کیا کہ فوری فیصلہ کن فتح ممکن نہیں۔ بنیادی اختلافات، امریکہ کا ایران کی طاقت کو محدود کرنے کا عزم، ایران کا اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کا فیصلہ اور اسرائیل کا مستقل دباؤ، سب بدستور موجود ہیں۔
مفاہمتی یادداشت نے صرف وقت خریدا ہے، لیکن یہ وقت کسی حتمی حل کی ضمانت نہیں دیتا بلکہ اگلے مرحلے کی تیاری کا موقع فراہم کرتا ہے۔


مشہور خبریں۔
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اسرائیلی-امریکی منصوبہ ہے: حزب اللہ کے سکریٹری جنرل
?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم اس تنظیم کو غیر
دسمبر
وزیراعظم اور شاہ اردن کے درمیان ملاقات، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال
?️ 16 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف اور شاہ اردن کے درمیان
نومبر
ہند۔پاکستان جنگ میں اسرائیلی ہتھیاروں کا اہم رول
?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: معاشی اخبار "کالکالیست” کی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ کئی
مئی
امریکہ روس پر دہشت گرد حملوں کے لیے داعشی فورسز کو بھرتی کرنے کی کوشش میں
?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:روسی فیڈریشن کی فارن انٹیلی جنس نے آج اطلاع دی کہ
فروری
امریکہ کا ایرانی اور افغان تارکین وطن کو افریقہ بھیجنے کا منصوبہ
?️ 12 جون 2026سچ خبریں:رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کچھ تارکین وطن، جن میں ایرانی
جون
امریکہ کی دہشت گرد پروری کو جواز فراہم کرنے کی جدوجہد
?️ 8 مارچ 2022سچ خبریں:یوکرین کی حکومت کی جانب سے اپنے ملک میں لڑنے کے
مارچ
بلوچستان: چمن بارڈر کھول کر سیکڑوں افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیا گیا، تجارتی آمد و رفت معطل
?️ 14 اکتوبر 2025چمن: (سچ خبریں) پاکستان نے پیر کے روز چمن میں افغانستان کے
اکتوبر
اسرائیل کی ایک اور کارروائی ناکام
?️ 5 نومبر 2023سچ خبریں:نیویارک ٹائمز نے اتوار کی صبح خبر دی ہے کہ امریکہ
نومبر