حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اسرائیلی-امریکی منصوبہ ہے: حزب اللہ کے سکریٹری جنرل

حزب اللہ

?️

سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم اس تنظیم کو غیر مسلح کرنے کو اسرائیلی-امریکی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور سرزمین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

المنار نیوز  چینل کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے حزب اللہ کے کمانڈر حاج محمد حسن یاغی (ابوسلیم) کے تعزیتی جلسہ کے دوران کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایک اسرائیلی-امریکی منصوبہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، شیخ نعیم قاسم نے اس موقع پر کہا کہ حاج ابوسلیم نے اپنی جوانی سے اسلام کے اصل راستے پر قدم رکھا تھا،حزب اللہ نے انہیں 1992 سے 1996 اور 2000 سے 2005 تک بعلبک-ہرمل کے علاقے میں حزب اللہ کے نمائندہ کے طور پر منتخب کیا تھا۔

یہ بی پڑھیں:لبنان کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کا نیا کردار اور گیم ڈویژن/حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی کا اعتراف

شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ ابوسلیم یاغی کے ابتدائی آئیڈیلز آیت اللہ سید محمد باقر صدر، امام سید موسیٰ صدر، امام خمینی اور امام خامنہ ای تھے۔

انہوں نے کہا کہ ابوسلیم یاغی ایک ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو عوام خاص طور پر غریبوں کی خدمت اور مجاہدوں کی حمایت میں وقف کیا، ان کی زندگی کا مقصد حق کی بات کو بلند کرنا تھا۔

شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ ابوسلیم یاغی حزب اللہ کے پیشواؤں میں تھے اور سید حسن نصر اللہ کے قابل اعتماد رہنماؤں میں شامل تھے۔

حزب اللہ سکریٹری جنرل نے حضرت عیسیٰ کی میلاد کے موقع پر لبنان اور دنیا بھر کے عیسائیوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ بقاع لبنان کا وہ حصہ ہے جو جنوب اور پورے لبنان کے دفاع کا مقدمہ پیش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان آج طوفان اور عدم استحکام کے مرکز میں ہے، اور اس کی وجہ ظالم امریکہ اور اسرائیل دشمن ہیں، جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے جاری ہیں،امریکہ نے 2019 سے لبنان کی معیشت کو تباہ کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں اور آج لبنان کے معاملات پر مکمل غلبہ حاصل کر چکا ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے حزب اللہ کے کام کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدمت کرنا حزب اللہ کی بنیادی اقدار میں شامل ہے۔ یہ حزب، لبنان کو اور صرف جنوبی لبنان کو نہیں، بلکہ پورے لبنان کو فوج، عوام اور مختلف گروپوں کی مدد سے آزاد کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

انہوں نے حزب اللہ کی داخلی کارکردگی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اپنی ساکھ کی صفائی اور بدعنوانی سے دور رہنے کے لیے جانی جاتی ہے اور ہمیشہ عوام کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ہم ایک حساس مرحلے پر ہیں، ہم یا تو امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کر لیں گے جو لبنان پر مکمل تسلط چاہتے ہیں، یا پھر ہم قومی بغاوت کریں گے، اپنی خودمختاری واپس لیں گے اور ملک کی تعمیر نو کریں گے۔

شیخ نعیم قاسم نے تاکید کی کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایک اسرائیلی-امریکی منصوبہ ہے، چاہے اسے اس مرحلے پر اسلحہ کی اجارہ داری’ کہا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسلحہ کی اجارہ داری کی بات کی جاتی ہے جب کہ اسرائیل کے حملے جاری ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لبنان کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔

 حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایک منصوبہ ہے جس کا مقصد مزاحمت اور عوام کے درمیان فاصلہ ڈالنا اور اسرائیل کی جانب سے لبنان کے پانچ جنوبی مقامات پر قبضہ برقرار رکھنا ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ اسرائیل کا قبضہ جاری رکھنے کا وقت کب تک رہے گا؟ ہم نے 42 سالہ تجربے کے دوران اسرائیل کے منصوبوں کو شکست دی ہے، اسرائیل نے قبضہ کیا ہے لیکن کب تک وہ اس پر قابض رہ سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ لبنان کی کامیابی اس کی مزاحمت کی بدولت ہے، اور شام میں شکست اس لیے ہوئی کہ وہاں مزاحمت نہیں تھی، لبنان نے مفت میں معاہدے کیے جبکہ اسرائیل نے کچھ نہیں دیا۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنان نے جنگ بندی کی پیروی کی لیکن اسرائیل نے لبنان کے خلاف اپنی حرکتیں جاری رکھی ہیں، اب لبنان کو مزید کسی عمل کا پابند نہیں رہنا چاہیے، جب تک اسرائیل اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتا،لبنان کو اسرائیل کا پولیس یا گارڈ نہیں بننا چاہیے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ہم دفاع اور مقابلہ کریں گے، کیونکہ ہم اس سرزمین کے مالک ہیں اور انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنی ہوں گی اور پیچھے ہٹنا ہوگا۔ لبنان کو اسرائیل کے وعدوں کے پورا ہونے سے پہلے کچھ نہیں کرنا چاہیے۔

شیخ نعیم قاسم نے حزب اللہ اور جنبش امل کے مضبوط تعلقات پر بھی بات کی اور کہا کہ دونوں جماعتوں کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں اور ہمیشہ ایک ہی جڑ پر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے اسرائیلی قابضین کے وحشیانہ اقدامات پر کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی تسلیم ہوں گے، اگر جنوبی لبنان ہاتھ سے نکل گیا تو لبنان باقی نہیں رہے گا اور تمام لبنانی اسے بچانے کے لیے تیار ہیں۔

مزید پڑھیں:حزب اللہ اور حماس کے ہتھیاروں کے حوالے سے نئی امریکی حکمت عملی کی کہانی کیا ہے؟

شیخ نعیم قاسم نے آخر میں کہا کہ دشمن کو معاہدہ کرنے دیں اور اپنے خلاف کارروائیاں بند کریں، پھر ہم لبنان کے لیے قومی سلامتی کی حکمت عملی پر بات کریں گے۔ ہم حزب اللہ اور مزاحمت کے طور پر مضبوط، عزیز اور بہادر رہیں گے۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ کے ڈرونز کی تعداد کے بارے میں صہیونی اخبار کا دعویٰ

?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں:عبرانی زبان کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنانی

روس یوکرین جنگ کے بارے میں اقوام متحدہ کا بیان

?️ 6 مئی 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس اور

امریکہ نے افغانستان کی حکمران جماعت کو تسلیم کرنے سے روک دیا: طالبان

?️ 1 ستمبر 2022سچ خبریں:   طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان سے امریکہ

ڈاکٹر ابو صوفیہ کے بیٹے کی والد کے لیے دنیا سے درخواست

?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں: شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر حسام

پاکستان آئیڈل انصاف پر مبنی پلیٹ فارم ہے جو نیا ٹیلنٹ سامنے لا رہا ہے: راحت فتح علی خان

?️ 18 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) موسیقی کے سب سے بڑے پروگرام پاکستان آئیڈل نے

عاصم اظہر کا مسجد الاقصیٰ حملے پر دُنیا کی خاموشی پر برہمی کا اظہار

?️ 9 مئی 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان میوزک انڈسٹری کے نوجوان گلوکار عاصم اظہر نے مسجد

ایک سنوار گیا ہے؛ سینکڑوں سنوار جنم لیں گے

?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں: سال 2011 میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس اور

جہاد اسلامی فلسطین کا ایران کے سلسلہ میں اہم بیان

?️ 7 اپریل 2021سچ خبریں:جہاد اسلامی فلسطین کے سکریٹری جنرل نے صیہونی حکومت کے مقابلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے