?️
سچ خبریں:اسرائیل، جیو اکنامک چیلنجز اور خطے میں ایران کی نئی سفارتی حکمت عملی کے باعث شدید جیوپولیٹیکل محاصرے میں ہے، علاقائی بلاکس میں ایران کا بڑھتا کردار، اسرائیل کے معاشی اہداف کے لیے اہم رکاوٹ بن رہا ہے۔
رائج خطے کے اندر اسرائیل کی پوزیشن کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ وہ ابھی بھی خطے کے زیادہ تر ممالک کے ساتھ مکمل اعتماد اور تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ موجودہ خطے میں اسرائیل کی عدم قبولیت اور اُس کی جغرافیائی تنہائی، اس کے ژئواکونومک (Geo-economic) منصوبوں کے لیے ایک سنجیدہ رکاوٹ بن چکی ہے۔
دوسری جانب، ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی، خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں وسعت، اور علاقائی سفارت کاری کا فروغ ،یہ سب ایران کو خطے میں سیاسی و اقتصادی سرگرمیوں کا محور بنا رہے ہیں، ایران کی فعال علاقائی پالیسی اور یوریشین اکنامک یونین جیسے علاقائی بلاکس میں شمولیت، اسرائیل کے اقتصادی منصوبوں کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
ایران نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی روابط مضبوط کیے ہیں۔ ایران کی یہ سفارتکاری، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور شمال-جنوب کوریڈور جیسے بین الاقوامی ٹرانزٹ راستوں میں بھی اس کی اہمیت کو بڑھا رہی ہے۔ یہ سب معاملات، اسرائیل کے اس ہدف کے بالکل مخالف ہیں جس کے تحت وہ ایران کو خطے میں الگ تھلگ اور کمزور دیکھنا چاہتا ہے۔
اسرائیل کی ناکامیاں اور جیوپولیٹیکل دباؤ
اسرائیل نے ایران کے خلاف خطے میں کئی طرح کی سرگرمیاں شروع کی ہیں — بشمول سرحدی صوبوں میں علیحدگی پسند گروپوں کی حمایت، سکیورٹی ماحول کو غیر مستحکم کرنا، اور براہ راست حملے کرنا — تاکہ ایران کو اقتصادی و سیاسی لحاظ سے عالمی نقشے سے باہر کر سکے۔ مگر ایران کی نئی علاقائی حکمت عملی، ان سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
یہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک بڑے ژئوپولیٹیکل (Geo-political) دباؤ کا باعث ہے، کیوں کہ اب اس کی صرف معاشی تنوع یا اقتصادی انضمام کافی نہیں رہا۔ اسرائیل کو نہ صرف اپنے روایتی حریفوں بلکہ اب ایران کی جانب سے سفارتی و اقتصادی حلقہ بندی کا بھی سامنا ہے، جو اس کے ژئواکونومک اہداف کے لیے براہ راست رکاوٹ ہے۔
حالیہ عرصے میں فلسطین میں طوفان الاقصیٰ جیسی تحریکیں، اور خطے کے ممالک میں اسرائیل مخالف لہر، اس کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر رہی ہیں، اسرائیل کی معاشی طاقت اب صرف مغرب میں پھیلے ہوئے صہیونی لابی اور عالمی سرمایہ داروں تک محدود ہے، جبکہ خطے کے اندر اس کے پاس کوئی پائیدار اقتصادی یا جغرافیائی پشت پناہی نہیں ہے۔
ایران اور اس کے اتحادی، اپنے علاقائی تعاون اور نئے اقتصادی معاہدوں کے ذریعے، اسرائیل کے عالمی اقتصادی نیٹ ورک میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر ایران اپنی موجودہ پالیسیوں پر عمل پیرا رہتا ہے، تو مستقبل میں اسرائیل کے جیو اکنامک (Geo-economic) اور جیو پولیٹیکل (Geo-political) عزائم کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو جائے گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
کیا بگرام میں امریکی C-17 طیارے کی لینڈنگ واقعی تھی؟
?️ 7 اپریل 2025سچ خبریں: امریکی فضائیہ کے C-17 کال سائن کے ساتھ MOOSE59 کے ساتھ
اپریل
اسرائیل کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ؟
?️ 12 اکتوبر 2023سچ خبریں:جب کہ فلسطینی مزاحمت کے جنگجو صیہونی حکومت کے خلاف عظیم
اکتوبر
بپی لہری نے اپنی صحت سے متعلق افواہوں کی تردید کر دی
?️ 22 ستمبر 2021ممبئی (سچ خبریں) بھارتی موسیقار و گلوکار بپی لہری نے اپنی صحت
ستمبر
کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات نہیں ہوں گے؟ شرجیل میمن
?️ 22 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کے رہنما و سینئر صوبائی وزیر شرجیل
جنوری
لیول پلیئنگ فیلڈ: احکامات پر عمل نہ ہونے پر پی ٹی آئی کی ذمےداران کے خلاف توہین عدالت کی درخواست
?️ 26 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) آئندہ انتخابات کے حوالے سے لیول پلیئنگ فیلڈ
دسمبر
امریکہ نے حماس کے رہنماؤں کے بارے میں قطر سے کیا مطالبہ کیا ہے؟
?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: امریکہ نے قطر سے کہا کہ اگر حماس صیہونی حکومت
مئی
’جنرل باجوہ کی الیکشن میں پی ٹی آئی کی مدد‘، عارف علوی سے منسوب بیان کی تردید جاری
?️ 26 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جنرل (ر) قمر
دسمبر
انصار اللہ: دشمن کے جاسوسی نیٹ ورک کو تباہ کرنا غزہ کے لیے یمن کی حمایت جاری رکھنے کے دائرے میں ہے
?️ 9 نومبر 2025سچ خبریں: انصار اللہ کے سینئر لیڈروں میں سے ایک نصرالدین عامر
نومبر