ٹرمپ یمن کی دلدل میں کیسے پھنس گئے؟

ٹرمپ یمن کی دلدل میں کیسے پھنس گئے؟

?️

سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن میں طاقت کے زور پر کامیابی کا خواب دیکھا، مگر انصاراللہ کے خلاف مہنگی جنگی کارروائیوں نے نہ صرف امریکہ کو دلدل میں دھکیل دیا بلکہ اس کی عسکری ساکھ پر بھی سوال اٹھا دیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ، جنہیں یقین تھا کہ وہ جو بائیڈن کی ناکامیوں کو اپنی کامیابیوں میں بدل سکتے ہیں، یمن میں فوجی آپریشنز کو وسعت دے کر خود کو ایک بڑی دلدل میں پھنسا بیٹھے۔

یہ بھی پڑھیں: یمنی فوج کا امریکہ کو انتباہ

امریکی صدر ٹرمپ، جو پہلے کئی مواقع پر دعویٰ کر چکے تھے کہ وہ طاقت اور اسلحے کے ذریعے انصاراللہ اور یمنی مزاحمت کاروں کو شکست دے سکتے ہیں، منگل کی شب اچانک اعلان کرتے ہیں کہ امریکہ نے انصاراللہ اور یمنی افواج کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں روک دی ہیں، کیونکہ یمنیوں نے بحیرہ احمر میں امریکی جہازوں پر حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی یمن جنگ میں شمولیت کے پیچھے جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اسٹریٹجک مقاصد ابھی تک غیر واضح ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس جنگ کا تعلق براہ راست انصاراللہ سے نہیں بلکہ روک تھام کی بحالی اور بحری راستوں کی آزادی سے ہے۔

امریکی قلمکار کیتھ جانسن نے فارن پالیسی میں شائع ایک کالم میں اس سوال کا جواب تلاش کیا کہ ٹرمپ نے یمن میں جنگ کیوں چھیڑی؟ ٹرمپ کا خیال تھا کہ وہ بین الاقوامی تجارت کی حمایت اور ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے نام پر یہ اقدام کامیابی سے انجام دے سکتے ہیں، مگر جانسن لکھتے ہیں کہ ٹرمپ نے جو کچھ تجارت اور بحری راستوں کے خلاف کیا، وہ درحقیقت خطرناک تر تھا۔

جانسن کے مطابق، ٹرمپ اس جنگ کے ذریعے چین کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ امریکہ عسکری طاقت رکھتا ہے، لیکن یمن میں خراب کارکردگی نے اس کا الٹ تاثر دیا۔

امریکی وزیر دفاع کی اصطلاح روک تھام کی بحالی اس پالیسی کا مرکزی نقطہ ہے، جو کئی چیلنجز سے دوچار ہے اور جس کا فوری کوئی حل نظر نہیں آتا۔

ٹرمپ نے یمن پر بمباری کا دائرہ وسیع کیا، اس امید میں کہ وہ جو بائیڈن کی ناکامیوں کو فتح میں بدل دیں گے۔ مگر حالات اس کے برعکس نکلے۔

پینٹاگون کی طرف سے جنگی صورتحال پر کوئی واضح بریفنگ میڈیا کو نہیں دی گئی، جبکہ خود ٹرمپ اندرون و بیرون ملک پیدا کی گئی افراتفری میں گھر چکے ہیں۔

جانسن کا کہنا ہے کہ یمن جیسے پیچیدہ ملک میں صرف اچھے میزائل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ جیت لی جائے گی۔ انصاراللہ کے پاس تجربہ، اسٹریٹجک نفوذ اور سستے، مگر مؤثر ہتھیار موجود ہیں۔

جیک سالیوان، بائیڈن کے مشیر برائے قومی سلامتی، اعتراف کر چکے ہیں کہ امریکی فوج قیمتی اسمارٹ میزائلز سے سستے ڈرونز کو تباہ کر رہی ہے، جس سے امریکہ کا دفاعی ذخیرہ خالی ہو رہا ہے۔

یمن پر صرف 120 SM2، 80 SM6 اور 20 SM3 میزائل داغے گئے، جن کی لاگت مجموعی طور پر کم از کم نصف ارب ڈالر بنتی ہے۔ اور یہ اخراجات اب تک کے مہنگے ٹوماہاک میزائلز میں شامل نہیں ہیں۔

ان مہنگے میزائلوں کا استعمال نہ صرف امریکہ پر بھاری مالی بوجھ ہے بلکہ بحر ہند اور بحرالکاہل میں اس کی تیاری کو بھی متاثر کرتا ہے، جہاں چین پہلے ہی امریکہ کے مدِمقابل آ چکا ہے۔

الجزیرہ نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ ایک ایسا ملک جس کی فوج ایک چھوٹی جنگ میں بھی مناسب سازوسامان فراہم نہیں کر سکتی، وہ چین جیسے طاقتور حریف کو کیسے ڈرا سکتا ہے؟

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، امریکہ نے اپنے 13 اسلحہ ساز اداروں کو سمیٹ کر صرف 3 بڑی کمپنیوں بوئنگ، لوکیڈ مارٹن اور ریتھیون پر انحصار شروع کر دیا ہے، جس سے اسلحہ سازی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔

امیلی میلیکیان، اٹلانٹک کونسل کی محقق، لکھتی ہیں کہ انصاراللہ کی طاقت صرف ہتھیار نہیں، بلکہ ان کی عملی لچک، نفوذ، اور مقامی حمایت ہے۔

مزید پڑھیں: بحیرہ احمر میں امریکی فوجی نقل و حرکت کو یمنی فوج کی سخت وارننگ

ٹرمپ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں یمن کی جنگ کا کنٹرول ہے، مگر وہ شاید زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں جیسا کہ ماضی میں جارج بش نے افغانستان میں کیا تھا، جہاں امریکہ طالبان کو ختم کرنے آیا تھا، اور انہیں اقتدار دے کر چلا گیا۔

مشہور خبریں۔

دوحہ میں مجوزہ پاک افغان مذاکرات نہایت اہم ہیں۔ خواجہ سعد رفیق

?️ 18 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق

ٹرمپ کا ہیرس پر پھر حملہ 

?️ 13 اگست 2024سچ خبریں: امریکہ کے 2024 کے صدارتی انتخابات میں سابق صدر اور

غزہ پر 15 ماہ کے صیہونی وحشیانہ پن کے ہولناک اعداد و شمار

?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں:غزہ میں جنگ بندی کے بعد 15 ماہ میں صیہونیوں کے

ترکی کا 9 سال بعد مصر میں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ

?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںترکی نے قاہرہ میں نئے سفیر کا انتخاب کرتے ہوئے نو

رمضان کے مقدس مہینے میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے سید حسن نصر اللہ کی سفارشات

?️ 26 مارچ 2023سچ خبریں:رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد کے موقع پر اپنے

غزہ پٹی میں 6 ہزار افراد لاپتہ، اندازے کے مطابق تعداد میں مزید اضافہ متوقع

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: فلسطین میں لاپتہ افراد کے حوالے سے کام کرنے والے مرکز

امریکی حکام کا خطے کا سفر ڈی ایسکلیشن یا کشیدگی کے ساتھ

?️ 3 اکتوبر 2021سچ خبریں: نیویارک رائٹرز واشنگٹن کے اتحادی اور شراکت دار ان دنوں بائیڈن

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 7.17 روپے مزید مہنگا ہو کر 262 روپے پر پہنچ گیا

?️ 27 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹربینک مارکیٹ میں گزشتہ روز ڈالر کی قدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے