?️
سچ خبریں:امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکے، بلکہ مغربی عہدیداروں اور امریکی ذرائع ابلاغ کے اعترافات کے مطابق، حملہ آوروں کو اسٹریٹجک ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے اثرات عالمی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر زیر بحث ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، ایران جنگ کے طویل ہونے کے خدشات، یورپ میں معاشی دباؤ اور امریکہ و یورپ کے درمیان بڑھتے اختلافات نے اس جنگ کے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی سے متعلق نتائج کو اجاگر کردیا ہے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہوئے، بلکہ مغربی عہدیداروں اور امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حملہ آوروں کو اسٹریٹجک تعطل اور میدان جنگ و سیاست میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ جنگ وسیع حملوں اور بے گناہ شہریوں، بشمول معصوم طلبہ، کے قتل سے شروع ہوئی اور جلد ہی اس کے انسانی، سلامتی اور اقتصادی اثرات وسیع ہوگئے۔ اس صورت حال نے عالمی ذرائع ابلاغ میں مختلف نوعیت کے ردعمل کو جنم دیا۔
دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تبصروں اور تجزیوں کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورت حال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
برطانوی اور امریکی ذرائع ابلاغ
فوربز: ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ حد تک گرگئی
فوربز میگزین نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ پیر کے روز جاری ہونے والے روئٹرز/ایپسوس کے تازہ سروے کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کم ہوکر ریکارڈ سطح یعنی 31 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں اپنی کارکردگی کے حوالے سے تشویش ناک پیش گوئیوں کا سامنا ہے۔
فوربز کے مطابق، 1679 امریکی بالغ افراد پر کیے گئے اس سروے میں غلطی کی شرح 2 فیصد بتائی گئی ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت اپنی سابقہ کم ترین سطح 32 فیصد سے مزید ایک فیصد گرگئی، جبکہ ان سے عدم اطمینان کی شرح ایک فیصد اضافے کے ساتھ 66 فیصد ہوگئی۔
جب سروے میں پوچھا گیا کہ وسط مدتی انتخابات میں وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے تو 47 فیصد افراد نے ڈیموکریٹک پارٹی اور 35 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کا انتخاب کیا۔
فوربز نے حالیہ سروے کے نتائج کی زمانی ترتیب پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 5 اکتوبر کو روئٹرز/ایپسوس کے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 32 فیصد تھی۔ اس وقت رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 44 فیصد نے ڈیموکریٹس اور 37 فیصد نے ریپبلکنز کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ سروے میں 52 فیصد افراد نے زندگی گزارنے کے اخراجات کو نومبر کے انتخابات سے پہلے سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔
4 اکتوبر کو سی بی ایس/یوگاو کے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 39 فیصد اور ان سے عدم اطمینان کی شرح 61 فیصد تھی۔
یکم اکتوبر کو ایسوسی ایٹڈ پریس-نورک کے سروے میں ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں کی مقبولیت 26 فیصد اور مجموعی مقبولیت 31 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس سروے میں 65 فیصد افراد نے زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دیا۔
29 ستمبر کو کوئنی پیاک کے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 34 فیصد اور عدم اطمینان کی شرح 61 فیصد تھی۔ معیشت کے معاملے میں ان کی 31 فیصد مقبولیت ان کی دونوں صدارتی مدتوں کی کم ترین سطح تھی، جبکہ ایران کی صورت حال سے نمٹنے کے حوالے سے ان کی مقبولیت 28 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ان کے لیے ایک اور کم ترین سطح تھی۔
فوربز نے مزید لکھا کہ دوسرے سروے بھی ٹرمپ کی مقبولیت میں اسی طرح کی کمی ظاہر کرتے ہیں۔ سی این این/ایس ایس آر ایس کے سروے میں ان کی مقبولیت 33 فیصد، پی بی ایس/این پی آر/ماریسٹ میں 39 فیصد، فنانشل ٹائمز/فوکل ڈیٹا میں 33 فیصد، این بی سی نیوز میں 36 فیصد اور یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمہرسٹ کے سروے میں 32 فیصد رہی۔
تازہ سروے کے مطابق، صرف 25 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ ایران جنگ کو اچھی طرح سنبھال رہے ہیں، جبکہ 68 فیصد نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ اسی سروے میں 83 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ ایران جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی۔
فوربز کے مطابق، ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کا آغاز 52 فیصد مقبولیت کے ساتھ کیا تھا، لیکن گزشتہ سال اپریل میں یوم آزادی کے موقع پر عائد کردہ محصولات اور پھر فروری کے اواخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی۔
فوربز نے کُک پولیٹیکل رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ڈیموکریٹس کے پاس ایوان نمائندگان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے امکانات موجود ہیں اور وہ سینیٹ میں بھی نشستیں حاصل کرسکتے ہیں۔
دی اٹلانٹک: ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بھی ایران جنگ کے مخالف
دی اٹلانٹک میگزین نے ویویان سلامہ اور ایشلے پارکر کی خصوصی رپورٹ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے نجی گفتگوؤں میں، جن میں اپنے والد کے ساتھ ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے، ایران جنگ کے حوالے سے تشویش ظاہر کی اور اس کی مخالفت کی۔
رپورٹ کے مطابق، 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ جونیئر کے سامنے اپنے والد کی خارجہ پالیسی کی ایک سادہ تصویر تھی: اگر ٹرمپ منتخب ہوگئے تو امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ سے دور رکھیں گے۔
اسی سال اپریل میں انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا:
کیا آپ کو یاد ہے جب لوگ کہتے تھے کہ ٹرمپ ہمیں ایران کے ساتھ ایک مکمل جنگ میں دھکیل دیں گے؟
ایسے دن ہم سب کو یاد دلانے چاہییں کہ ہم کتنے خوش قسمت تھے کہ ہمارے پاس ٹرمپ، ان کی طاقت اور ان کا عزم موجود تھا۔
لیکن ڈھائی سال بعد امریکہ کے صدر ایران کے ساتھ ایک مکمل جنگ میں الجھ چکے ہیں اور ٹرمپ جونیئر اس صورت حال سے خوش نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، دو ایسے افراد جنہوں نے جنگ کے معاملے پر براہ راست ٹرمپ جونیئر سے بات کی، بتایا کہ وہ نجی گفتگوؤں میں جاری ایران جنگ کی بارہا مخالفت کرچکے ہیں۔ وہ ابتدا ہی سے اس جنگ کے مخالف تھے اور انہوں نے اپنے والد کے سامنے بھی اپنا مؤقف پیش کیا تھا۔
ان ذرائع کے مطابق، ٹرمپ جونیئر طویل عرصے سے بیرون ملک فوجی مداخلتوں کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں اور ان کا خیال تھا کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں کسی نئی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔
عرب ذرائع ابلاغ
الجزیرہ: بحیرۂ احمر عالمی طاقتوں کے عروج و زوال میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے
الجزیرہ نے ایک تجزیہ میں لکھا کہ اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث بحیرۂ احمر عالمی طاقتوں کے عروج و زوال میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سولہویں صدی میں پرتگال اس خطے پر غلبہ حاصل کرنے میں ناکام رہا، لیکن برطانیہ نے عدن اور نہر سویز پر کنٹرول کے ذریعے اسے اپنی سلطنت کا ایک اہم ستون بنالیا۔ 1956 کے سویز بحران اور برطانیہ کی پسپائی نے امریکہ کے ابھرنے کی راہ ہموار کی۔
آج ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران بحیرۂ احمر توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ بن گیا ہے۔
کم قیمت ڈرونز اور میزائلوں کے حملوں نے اس راستے کے تحفظ کے اخراجات بڑھا دیے ہیں اور خطے سے باہر کی بڑی طاقتوں کی کمزوریاں بھی نمایاں کردی ہیں۔
سعودی عرب نے عرب اور افریقی ساحلی ممالک کی کونسل قائم کرکے اور 14 ممالک پر مشتمل بحری دفاعی اتحاد تشکیل دے کر علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔
اس کے علاوہ مشرق سے مغرب تک پھیلی تیل کی پائپ لائن کے ذریعے تیل ینبع تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق، ریاض اپنی جغرافیائی حیثیت کو عملی قوت میں تبدیل کرکے بحیرۂ احمر کی سلامتی میں قیادت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
رائے الیوم: امریکہ اور ایران کے سامنے سیاسی معاہدے یا وسیع جنگ کے دو راستے
رائے الیوم نے ایک تجزیہ میں لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور دونوں فریقوں کے سامنے دو راستے ہیں: سیاسی معاہدہ یا ایک وسیع جنگ۔
تجزیہ نگار کے مطابق، مختلف معاملات، بالخصوص ایران کے حوالے سے، امریکہ کی چین اور روس کے ساتھ حالیہ مفاہمتوں نے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔
ان کے خیال میں، بیجنگ اور ماسکو کی جانب سے انٹیلی جنس اور لاجسٹک حمایت میں کمی تہران کو اپنے جوہری پروگرام، میزائل پروگرام، علاقائی اتحادی گروہوں اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے رعایتیں دینے پر آمادہ کرسکتی ہے۔
ایران کو اقتصادی مشکلات اور داخلی دباؤ کا بھی سامنا ہے، جبکہ ایک وسیع جنگ میں دوبارہ داخل ہونا نظام کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
تجزیہ نگار ایک متوازن معاہدے کو ایران کے دوبارہ علاقائی نظام میں شامل ہونے، عرب ممالک کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے اور کشیدگی کم کرنے کا موقع قرار دیتا ہے۔
اس کے برعکس، تجزیہ کے مطابق، اسرائیل ایسے معاہدے کا سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے اس کی فوجی برتری اور توسیع پسندانہ پالیسی کمزور پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ نگار کے نقطۂ نظر سے، ایران کے بحران کا سیاسی حل خطے کو دوبارہ مسئلۂ فلسطین پر توجہ مرکوز کرنے اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کو محدود کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔
المیادین: صیہونی معاشرے میں جنگ اور تشدد کے بارے میں سوچ میں تبدیلی
المیادین نے ایک تجزیہ میں لکھا کہ بنیامین نیتن یاہو اور گادی آئزنکوٹ کے درمیان انتخابی مقابلہ محض جنگ اور امن کے انتخاب کا معاملہ نہیں، بلکہ اس بات کا مقابلہ بھی ہے کہ علاقائی تنازعات کو زیادہ مؤثر طریقے سے کون سنبھال سکتا ہے۔
تجزیہ کے مطابق، صیہونی معاشرہ بتدریج ڈیوڈ بن گوریون کے اس تصور سے دور ہورہا ہے جس میں فوجی طاقت کو سلامتی یقینی بنانے اور دوبارہ ترقی کی طرف لوٹنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بجائے ایک ایسی سوچ فروغ پارہی ہے جس میں جنگ اور تشدد کو قومی شناخت کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔
7 اکتوبر کے صدمے نے بھی اس تبدیلی کو تیز کیا ہے۔ تجزیہ نگار کے مطابق، اس تبدیلی کے خطے پر درج ذیل اثرات مرتب ہوسکتے ہیں:
سیاسی مفاہمت کے مواقع میں کمی:
جب تنازع قومی شناخت کا حصہ بن جائے تو سیاسی معاہدوں کو موقع سمجھنے کے بجائے پسپائی تصور کیا جانے لگتا ہے۔
طویل جنگوں کا معمول بن جانا:
کئی محاذوں پر مسلسل جنگ ایک معمول کی صورت اختیار کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں داخلی سطح پر جنگ ختم کرنے کے مطالبات کمزور پڑسکتے ہیں۔
علاقائی سلامتی کی نئی تعریف:
خطے کے ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملیوں کو اس امکان کے مطابق ڈھالنا پڑے گا کہ جنگ طویل ہوسکتی ہے اور اسرائیل کی عسکریت پسندی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
اقتصادی امن کے تصور کا زوال:
تجزیہ کے مطابق، تعلقات کو معمول پر لانا، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بذات خود استحکام پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
تجزیہ نگار نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اصل خطرہ صرف ایک نئی جنگ کا آغاز نہیں، بلکہ جنگ کا ایک مستقل اور معاشرتی طور پر قابل قبول حالت میں تبدیل ہوجانا ہے۔ یہ تبدیلی مشرق وسطیٰ کو کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے تنازعات سے دوچار کرسکتی ہے۔
روسی اور چینی ذرائع ابلاغ
آر ٹی: امریکہ نے اپنے اسلحے کے ذخائر کی ضروریات کے لیے اتحادیوں کو فروخت معطل کردی
آر ٹی نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ واشنگٹن نے اپنے اسلحے کے ذخائر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اتحادی ممالک کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی فروخت معطل کردی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدام ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اثرات اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔
سالزبرگ یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر اور روس کی پیپلز فرینڈشپ یونیورسٹی اور فنانشل یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ کامران گاسانوف نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکہ کو گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، اگر واشنگٹن کسی نئی جنگ کا آغاز نہ بھی کرے تو وہ تہران کے ساتھ دوبارہ تصادم کے امکان کے لیے تیاری کررہا ہے۔
اس تجزیہ کار نے زور دیا کہ واشنگٹن کا فیصلہ ایک بار پھر امریکہ فرسٹ کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جس کے تحت امریکہ کے مفادات کو اتحادیوں کے ساتھ اس کے وعدوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔
ان کے مطابق، یوکرین کی حمایت اور روس پر پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر ایک عرصے تک اتفاق رائے کے بعد واشنگٹن اور یورپ کے تعلقات میں ایک بار پھر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔
گاسانوف نے مزید کہا کہ ایران جنگ کے اثرات اور ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر تنقید نے بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کردیا ہے۔ یوکرین کے لیے امریکی حمایت میں کمی کے خدشات اور یورپی رہنماؤں کی جانب سے کیف کی حمایت جاری رکھنے کا تاثر دینے کی کوششوں نے بھی ان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔
گلوبل ٹائمز: ایران جنگ کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ یورپ کے بحران کو مزید گہرا کرسکتا ہے
گلوبل ٹائمز نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ فرانس میں زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، عوامی خدمات پر دباؤ اور قوت خرید میں کمی کے خلاف وسیع احتجاج یورپ میں اقتصادی اور سماجی بحرانوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ان بحرانوں کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 17 اکتوبر کو پیرس اور فرانس کے کئی دوسرے شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران جھڑپیں، لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔
فرانس کے وزیر داخلہ نے تقریباً 1200 افراد کی گرفتاری اور پولیس و جنڈرمری کے 150 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مظاہروں میں تقریباً 550000 افراد نے شرکت کی، جبکہ منتظمین نے شرکا کی تعداد 800000 بتائی۔
چینی ماہرین کے مطابق، ان بدامنی کے واقعات کی بنیادی وجوہات میں کمزور اقتصادی ترقی، بجٹ خسارہ، حکومتی قرضوں میں اضافہ اور تعلیم و طبی خدمات کی صورت حال پر عوامی عدم اطمینان شامل ہیں۔
تاہم، ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی تیل کی منڈیوں میں ممکنہ خلل سے یورپی معیشتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے عوامی ناراضی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
گلوبل ٹائمز کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اٹلی اور بیلجیئم میں بھی اسی نوعیت کے احتجاج جاری ہیں، جو یورپی حکومتوں کو درپیش مشترکہ دباؤ کی علامت ہیں۔
اگرچہ ان مظاہروں کی کوئی ایک مشترکہ تنظیمی قیادت نہیں ہے، تاہم توانائی کے بحران اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث جنگ کے اقتصادی اور سیاسی اثرات یورپ کے اندر مزید پھیل سکتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو حماس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
?️ 27 مارچ 2024سچ خبریں: باخبر ذرائع کے مطابق صہیونی حکام نے غزہ کے قیدیوں
مارچ
سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ در پردہ روابط کا انکشاف
?️ 26 جون 2021سچ خبریں:سعودی حکومت اپنی شبیہہ کو داغدار کرنےسے بچانے اور یمن ،
جون
حماس نے کسی بھی مرحلے پر ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی
?️ 29 جنوری 2026حماس نے کسی بھی مرحلے پر ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر نہیں
جنوری
ہم اسرائیل کی نئی ملٹری سیکورٹی پالیسی کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
?️ 5 ستمبر 2024سچ خبریں: الاقصیٰ طوفان نے صیہونی حکومت کے کمانڈروں اور فوجی حکمت
ستمبر
طلبہ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن
?️ 26 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے
جنوری
امریکہ میں شہید نصراللہ کی ٹی شرٹس کی فروخت پر عبرانی میڈیا چراغپا
?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں: Ynet نیوز سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق شہید یحییٰ
دسمبر
ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد امیدوار کے طور پر بائیڈن کی جگہ ہیرس اہم انتخاب
?️ 1 جولائی 2024سچ خبریں: ایک نئے سروے کے مطابق اگر امریکی صدر جو بائیڈن
جولائی
فلسطینی صحافی کے لیے اسماعیل ہنیہ کا پیغام
?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں:حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے فلسطینی صحافی
جنوری